fbpx

کیا ثمرقند میں مودی شہباز ملاقات طے پا گئی ہے؟

بھارت نے ازبکستان کے شہر ثمرقند میں آج سے شروع ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہ کانفرنس میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیراعظم کے درمیان علیحدگی میں ملاقات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔

نئی دہلی میں بھارتی دفتر خارجہ کے ذرائع نے فون پر باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اس بات کا اشارہ دیا کہ خطے کی دو ایٹمی طاقتوں کے سربراہان کی ثمرقند میں موجودگی سے دونوں کے درمیان  کانفرنس کے ایجنڈے سے ہٹ کر ملاقات ہوسکتی ہے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان برف پگھل سکتی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ملاقات کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ مذاکرات کا فوری طور پر آغاز ہو جائے گا۔ تاہم بھارتی دفتر خارجہ مکمل تیاری کے ساتھ وزیراعظم مودی کے ساتھ ثمرقند میں موجود ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں شریف فیملی کی حکومت کے دوران بھارتی وزیراعظم ہمیشہ سرپرائز دیتے رہے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر بھی مودی افسوس کا اظہار کرچکے ہیں جب کہ شہباز شریف اس سلسلے میں مودی کو شکریہ کا خط بھی لکھ چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق شہباز شریف مودی کا ان کے خیر سگالی کے جذبہ کے جواب میں بالمشافہ شکریہ بھی ادا کرسکتے ہیں۔

اس سے قبل 2014 میں مودی نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لئے اس وقت پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کو جو کہ شہباز شریف کے بڑے بھائی ہیں، نئی دہلی آنے کی اچانک دعوت دی تھی جسے نواز شریف نے قبول کر لیا تھا۔ اس کے بعد جولائی 2015 میں مودی اور نواز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے روس میں ہونے والے اجلاس میں بھی علیحدگی میں ملاقات کرچکے ہیں۔ دسمبر 2015 میں دونوں لیڈروں کی پیرس میں ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس میں ایک بار پھر ملاقات ہوئی تھی جس میں دونوں سر جوڑ کر گفتگو میں مصروف تھے جس کی تصاویر بھی منظرعام پرآگئی تھیں۔ اسی ماہ مودی نے لاہور کا دورہ کر کے پوری دنیا کو حیران کردیا تھا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2019 میں کرغستان میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہ کانفرنس میں مودی اور عمران خان موجود تھے لیکن دونوں کے درمیان سوائے ہاتھ ملانے کے کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔ دوسری طرف پاکستانی دفتر خارجہ نے مودی شہباز ملاقات نہ ہونے کا اشارہ دیا ہے۔