fbpx

کیا وزیراعظم آزاد کشمیر احتساب کا عمل بہتر کر سکیں گے تحریر سعد اکرم

 وزیراعظم آزاد کشمیرسردار عبدالقیوم خان نیازی آزاد کشمیر کے گیارہویں وزیراعظم ہیں وہ گزشتہ الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پہ الیکشن جیت کر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ممبر منتحب ہوئے اور پھر  وزیراعظم  آزاد کشمیر  منتحب ہو گئے  دارالحکومت مظفر آباد میں میڈیا سے اپنی پہلی باضابطہ ملاقات میں آزاد کشمیر کو کرپشن سے فری سٹیٹ بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا ان کا کہنا تھا ان کے اقدامات کو دیکھ کر میڈیا خود کہے گا میں آزاد کشمیر کا سب سے تگڑا وزیراعظم ہوں وزیراعظم نے احتساب ایکٹ کو دوبارہ اصل شکل میں بحال کرنے کا اعلان کیا ہے سردار عبدالقیوم نیازی آزاد کشمیر کے درویش اور عام آدمی کے وزیراعظم معلوم ہوتے ہیں ان کا تعلق سیاست کے روایتی طبقہ اشرافیہ سے ہے اور نہ ہی وہ برادری ازم کے نام پر سیاست میں آگے آئے ہیں تین ماہ میں ہی ان کی کارکردگی نظر آنے لگی ہے جس کا پہلا ثبوت وزیراعظم پاکستان عمران خان کی طرف سے پانچ سو ارب روپے کا خصوصی پیکج ہے جو بجٹ کے علاوہ ہو گا وزیراعظم کے مطابق یہ تاریخ کا سب سے بڑا اقتصادی پیکج ہے جس آزاد کشمیر کی عوام کی دیرینہ محرومیوں کا ازالہ ہو گا انھوں نے چھ ماہ کیلئے حکومت کے احداف مقرر کر کے ایک احسن قدم اٹھایا ان کے اعلانات میں سب سے اہم اعلان آزاد کشمیر کو کرپشن فری سٹیٹ بنانا اور احتساب ایکٹ کو نئی روح کے ساتھ زندہ کرنا ہے ہماری سوسائٹی میں کرپشن بہت سی بیماریوں کی جڑ ہے اور اس جڑ کو پانی اور غذا بیوروکریسی فراہم کرتی ہے وزیراعظم سردار عبدالقیوم خان نیازی عوام کو کئ بار احتساب کا مسودہ سنا چکے ہیں جس سے ایک امید سی بندھ چلی ہے آزاد کشمیر میں ایک شفاف نظام کی بنیاد ڈالنے کے لئے بے رحم احتساب ضروری ہے مگر احتساب کی پہلی زدگھاک اور کائیاں بیوروکریسی پر پڑنا ہیں جو کسی طور نہیں چاہیے گی کے احتساب کا عمل شروع ہو بلکہ یہ بیوروکریسی تبدیلی کی علمبردار حکومت کو بھی اپنے دام ہم رنگ میں پھنسانے کی پوری کوشش کرے گی گزشتہ دہائیوں سے آزاد کشمیر کے عوام خوردبین سے احتساب بیورو کا وجود تلاش کرتے رہے مگر انھیں کوئ سراغ نہ ملا ان سالوں میں قومی خزانے پر کیا نہ ستم ڈھائے گئے قومی وسائل کو کس کس انداز میں تختہ مشق نہ بنایا گیا  یہ ایک دردناک کہانی ہے مگر احتساب بیورو کے ادارے کا نام عنقا ہی رہا بیتے ہوئے اس ماضی کی رکھ کو کریدنے پر اب سانپ گزرنے کے بعد لکیر پیٹنا ہی کہلاتا ہے ماضی کے واقعات کو دیکھیں تو احتساب کا لفظ مخص مرضی کے احتساب یہ وقتی ضرورت اخباری سرخیاں بنانے کیلئے استعمال ہوا احتساب اور احتساب کے نام پر سرگرمیاں مخص شلغموں سے مٹی جھاڑنے کا عمل ثابت ہوتا رہا جونہی حالات اور اور وقت بدل گیا احتساب کا عمل ڈیپ فریزر میں رکھ دیا گیا اس طرح احتساب کے نام پر کھیل تماشہ تو چلتا رہا مگر حقیقی احتساب کا آغاز نہ ہو سکا احتساب اس وقت حقیقی ہوتا ہے جب وہ رواج عمل بن جائے احتساب ایک ایڈہاک ازم کا نام نہیں ہوتا بلکہ ایک مسلسل عمل کا نام ہے احتساب میں تلسل نہ ہو تو بدعنوان عناصر بے خوف ہو جاتے ہیں بدعنوان عناصر زیادہ تندہی سے اپنے کام میں مگن ہوتے ہیں آزاد کشمیر میں احتساب کے نام پر یہی کچھ ہوتا رہا ہے یہ کام محکمہ اینٹی کرپشن زیادہ بہتری سے انجام دیتا تھا احتساب بیورو کے نام سے ادارہ بنانے کا مقصد صرف روزگار کھولنا نہیں بلکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے شکنجے میں کسنا قانون کا خوف قائم کرنا اور لوٹے گئے وسائل کو واپس لانا تھا احتساب بیورو ان کاموں کے سوا سب کچھ کرتا رہا اب اگر پاکستان کے تناظر میں موجود سسٹم کو احتساب کے کام میں کچھ دلچسپی ہے تو کل ان کے چلے جانے کے بعد معاملہ وہی ہو گا ۔اس کے بعد  وہی بدعنوان عناصر ہوں گے  اور آزاد کشمیر کا وہی خزانہ اور یہی احتساب بیورو۔ خدا کرے اب حالات اس سے مختلف ہوں سردار عبدالقیوم نیازی کے بار بار کے اعلانات سے اب یہ امید بندھ چلی ہے کے وہ آزاد کشمیر کے عوام کو اچھی گورننس اور کرپشن فری معاشرہ دیں گے کیونکہ وہ ایک درویش اور سادہ مزاج شخصیت ہیں جو سیاست میں پیرا شوٹر نہیں بلکہ نیچے سے اوپر آئے ہیں سب سے بڑی بات یہ ہے کے ان کا بے داغ ماضی ہے اسی پس منظر کے ساتھ انھیں واقعتا تگڑا وزیراعظم ہی ہونا چاہیئے کیونکہ کمزور وزیراعظم وہی ہوتا ہے جس کی ماضی میں فائلیں اور داستانیں ہوتی ہیں ماضی کی وجہ سے اسے قدم قدم پر کمپرومائز کرنا پڑتا ہے موجودہ وزیراعظم کا ایسا کوئی مسلہ نہیں ہے ان ماضی میں نہ کوئی فائل ہے نہ کوئ داستان۔