fbpx

قانون کی آڑ میں لا قانونیت تحریر : راجہ ارشد

۔

 موجودہ حکومت کو پاکستان کی بھاگ ڈور ایک ایسے وقت میں سنبھالنی پڑی جب ملک میں مسلہ ،مسائل نہیں بلکہ مسائلستان بنا ہوا تھا۔ سب سے بڑا مسلہ قانون کی بے بسی تھا۔

یہ تو ایک حقیقت ہے کہ جس معاشرے میں قانون کی ناانصافی ہو وہاں معاشرے کی مکمل بگاڑ کا سبب بنتی ہے اور یہ واحد بندہ ہے عمران خان جو مسلسل اس امر کو یقینی بنانے کے لئے کوشاں ہے۔کہ قانون سے بالاتر کوئی بھی نہ ہو۔سب کے لیے قانون برابر ہو۔

ہمارے ہاں مجرموں کی بھی اقسام پائی جاتی ہیں ۔پہلی قسم کے مجرم گلی محلے کے چھوٹے موٹے چور اچکے ہیں جن کو پکڑنے کے لئے قانون فورن حرکت میں آتا ہے۔فوری طور پر قانون ان چوروں کو پابند سلاسل کرتا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق جیلیں لاکھوں کی تعداد میں اس قسم کے مجرموں سے بھری پڑی ہیں۔

دوسری قسم کے مجرم وہ ہوتے ہیں جن کے پوچھے علاقے کے بااثر لوگوں کے ہاتھ ہیں۔ ان مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے قانون ان کے پشت پناہی کرنے والے بااثر لوگوں سے پوچھ کر حرکت میں آتی ہے گرین سگنل نہ ملے تو قانون اور اس کے رکھوالے چپ سادھ لیتے ہیں ۔

تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو خود تھانے سنبھالتے ہیں مجرم بھی خود وکیل بھی خود اور خود ہی جج بھی ہیں۔
آچھا یہ مجرم ہمارے معاشرے میں معزز بھی کہلاتے ہیں۔

اس قسم کے مجرموں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے جاو تو پورا پولیس سٹیشن والے آپ کو اس ایف آئی آر کے فوائد اور نقصانات کے بارے میں آگاہ کرنے لگ جاتے ہیں۔

ان مجرموں کے خلاف ایف آئی آر درج کرتے وقت محرر کے ہاتھ کانپتے ہیں۔ پولیس افسران اور اہلکاروں کو ان پر چھاپے مارنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ وکلا صاحبان ان کا نام سن کر کیس نہیں لیتے۔ منصف  ان کے خلاف فیصلہ نہیں لکھ سکتے۔

مطلب ان مخصوص مجرموں نے ملک اور ریاستی اداروں کے ناک میں دم کر رکھا ہے اور حیرت انگیز طور پر ان کی تعداد بھی کم ہے۔
ان حالات میں معاشرہ خاک آگے بڑھے گا۔
ملک کیسے ترقی کرے گا۔
اللہ کا کرم ہے اب عمران خان تیسری قسم کے مجرموں کو پابند سلاسل کئے جا رہا ہے تو اے پی ڈی ایم والو
کیوں روڑے اٹکانے کی ناکام کوشش میں لگے ہو۔

کب تک لاقانونیت اور دہشت پھیلانے والوں کی پشت پناہی کرو گے۔اب مزید یہ ملک ان حالات کا متحمل نہیں ہو سکتاہمیں اقوام عالم میں اپنا کھویا ہوا مقام واپس چاہیئے جس کی کوشش عمران خان کر رہا ہے۔

@RajaArshad56