fbpx

تشدد کرنے اور مبینہ زیادتی کا کیس ڈراپ سین:لیڈی سب انسپکٹرکی ویڈیو باغی ٹی وی نے حاصل کرلی

مظفرگڑھ :تشدد کرنے اور مبینہ زیادتی کا کیس ڈراپ سین:لیڈی سب انسپکٹرکی ویڈیو باغی ٹی وی نے حاصل کرلی ،اطلاعات کے مطابق مظفرگڑھ میں خاتون پولیس افسر سے زیادتی کے معاملے نے نیارخ اختیار کرلیا۔

باغی ٹی وی کو موصول ہونے ولای سی سی ٹی وی فوٹیج نے معاملے کو نیا رنگ دے دیا ہے

سی سی ٹی وی فوٹیج نے معاملے کی صداقت کے حوالے سے شکوک و شبہات کو بڑھا دیا ہے۔فوٹیج میں کار اور ملزم کو دیکھا جا سکتا ہے جبکہ فوٹیج میں تھانہ سٹی سے نکلتی ایک پولیس اہلکار کو کار میں اپنی مرضی سے بھی بیٹھتے دیکھا جا سکتا ہے۔

کار میں بیٹھنے والی اہلکار مقدمے کی مدعی لیڈی سب انسپکٹر ہی ہے۔سی سی ٹی وی فوٹیج کی تاریخ اور وقت بھی بتائے گئے واقعے کے حوالے سے میچ کرتے ہیں۔

اور کار میں بیٹھنے والی خاتون کو عبایا اور اسکارف کا رنگ بھی وہی ہے جو لیڈی سب انسپکٹر کی میڈیکل رپورٹ میں درج ہے۔

 

 

سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد خاتون کے ملزم سے سے تعلقات کے متعلق تحقیقات کی جا رہی ہے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں اغوا کے حوالے سے کوئی شواہد نظر نہیں آئے تاہم نئے حقائق سامنے آنے کے بعد کیس کی ن نئے پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

چار ستمبر کو پنجاب کے شہر مظفرگڑھ میں مبینہ طور پر ایک خاتون پولیس اہلکار کے اغوا، ان پر تشدد، اور ان سے ریپ کی کوشش کا واقعہ پیش آیا ہے۔ خاتون پولیس اہلکار، جن کی شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی، مظفرگڑھ میں جینڈر کرائم سیل میں تعینات ہیں۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ملزم نے انھیں تھانے کے باہر سے اغوا کر کے مختلف جگہوں پر لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

مظفر گڑھ پولیس کے ترجمان محمد وسیم کے مطابق اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایف آئی آر درج کر لی گئی تھی اور ڈی ایس پی کی جانب سے جگہ جگہ چھاپے مارے گئے جس کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس وقت وہ پولیس کی حراست میں ہے۔

اس کیس سے متعلق انھوں نے مزید بتایا کہ ایف آئی آر میں ریپ، اغوا اور تشدد کی دفعات کو شامل کیا گیا ہے اور اس سے متعلق تفتیش بھی جاری ہے۔

دوسری جانب آئی جی پنجاب نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او مظفر گڑھ سے رپورٹ طلب کی اور قانون کے مطابق مجرموں کو سخت سزا دلوانے کا کہا ہے

لیکن اس ویڈیو کے منظرعام پرآنے کےبعد ساری صورت حال ہی تبدیل ہوگئی ہے ، اب پولیس ان حقائق پرکام کررہی ہے کہ آیا کہ کیا خاتون سب انسپیکٹرکوجھانسے سے گاڑی میں بٹھایا گیا یا پھرگھرتک چھوڑنے کی آفراس واقعہ کا سبب بنی یا پھرخاتون ان افراد کے ہاتھوں‌ بلیک میل ہوگئی ہے اوریہی امکان زیادہ نظرآرہا ہے

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!