fbpx

کشمیر تحریر : محمد حنظلہ شاہد

لفظ کشمیر سنتے ہی زہن میں غلامی کا تصّور نمایاں ہو جاتا ہے۔وادی کشمیر جو کے بہت عرصے سے غلامی کی زنجیر میں بندھی پڑی ہے۔اگر خوبصورتی کی بات کی جائے تو کہتے ہیں اگر زمین پر کوئی جنت ہے تو وہ ہے”کشمیر”مگر اس زمین کی جنت میں لوگوں کے ساتھ جہنم بھی زیادہ بدتر سلوک کیا جاتا ہے ۔کشمیر ایک متنا زعہ علاقہ ہے اس کا ایک حصہ پاکستان اور دوسرا حصہ بھارت کے قبضہ میں ہے اور باقی کچھ حصہ پاکستان نے ایک معاہدے کے تحت چینیوں کو حفاظت کے لیے دیا گیا ہے اور تھوڑا سا علاقہ گلگت بلتستان کے نام سے جانا جاتا ہے ۔تقاضا اور وقت کے فیصلے بهی کتنے انمول ہوتے ہیں نا!
روایات اور تقاضہ اف!
یُوں بھی کہہ سکتے ہیں کے کشمیریوں نے اپنی پوری زندگی ہی غلامی کی نظر کی ہے۔
کبھی کبھی سکھوں کی غلامی، کبھی پٹھانوں کی غلامی،کبھی مہاجروں کی غلامی، بہرحال اس غلامی کے رواں دواں میں انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انسان مشکلات کا سامنا کر لیتا ہے مگر عزتوں کی پامالی جب کی جائے تو اس کا کفارا کوئی عمر بھر بھی نہیں پورا کر سکتا ۔خیر غلامی سے نکلنے کے لیے آزادی ضروری ہے اور آزادی کے لیے خود لڑنا پڑتا ہے،خود اٹھنا پڑتا ہے اور خود سے خود کو فتح کرنا پڑتا ہے۔
"آزاد پنچھیو سے کوئی تو پوچھے
آسمان پر اڑنے کا مزا کیسا ہے
فقط اتنا ہی کہیں گے
ایک آزاد اڑان عمر بھر کے سکون کے لیے کافی ہے۔”