fbpx

لفظ "طالبان” کا وجود تحریر: عتیق الرحمن

پہلے بتاتا چلوں پاکستان تحریک طالبان پاکستان نہ کبھی طالبان تھے اور نہ ہی مجاہدین۔ یہ پی ٹی ایم کی پرانی مسلحہ شکل تھی جو صرف اور صرف بھارت کے کہنے پر پاکستان کو بنیاد پرست اور عسکریت پرست باور کروانا چاہتے تھے۔ مُلَّا فضل اللّہ انتہائی ظالم شخص تھا اور اسکا افغان طالبان سے کوئی تعلق نہ تھا لیکن صرف حمایت حاصل کرنے کے لئے اس عسکریت پسند گروپ کا نام تحریک طالبان پاکستان رکھا گیا
اس بات کی وضاحت خود اس گروپ کے ترجمان احسان اللّہ احسان نے گرفتاری کے بعد کی کہ ہماری فنڈنگ بھارت سے ہوتی ہے اور افغان طالبان کو جب اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اس بات کو بہت ناپسند کیا ور ہمارا داخلہ افغانستان میں ممنوع قرار دیا لیکن کیونکہ افغانستان میں بھارت امریکہ کے ساتھ ملکر سازش کررہا تھا تو اس لئے پاکستان تحریک طالبان افغانستان آتے جاتے رہتے تھے اور ظاہر کرتے تھے کہ انکا رابطہ افغان طالبان ساتھ ہے جو کہ بلکل جھوٹ تھا
اب آتے ہیں اصل بات پر
افغان طالبان جو کہ مجاہدین بھی کہلاتے ہیں یہ "طالبان” کیوں کہلاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ شروع سے موجود ہیں جو کہ بلکل غلط ہے
سویت یونین سے لڑائی میں جو افغان جنگجو تھے انہیں "مجاہدین” کہا جاتا تھا اور تب انکے چھوٹے چھوٹے گروپس بنے ہوئے تھے لیکن صرف لڑائی کی حکمت عملی کے لئے
ان گروپس میں کسی کا نام بھی طالبان نہیں تھا حتی کے اسکا وجود ہی نہیں تھا۔ ان گروپس کی آپس میں مخالفت شروع سے تھی وہ بھی فنڈنگ پر جسکو پاکستان نے بہت کوشش کی کہ ختم ہو مگر کامیابی نہیں ہوئی۔ حقانی جیسے گروپس اسی قسم کی حکمت عملی کے تحت وجود میں آئے تھے۔
تب اس لڑائی کے دوران افغان لوگوں کو تعلیم اور رہائش دینے کے لئے پاک افغان بارڈر پر مدرسے قائم کیے گئے جن میں ان لوگوں کو بطور ٹیچر بھرتی کیا جاتا تھا جو جنگ کے دوران زخمی ہوجاتے تھے یا ریٹائرمنٹ لے لیتے تھے۔ ان میں مُلَّا عمر بھی تھا کیونکہ جنگ کے دوران اسکی ایک آنکھ ضائع ہوچکی تھی تو مزید اسے جنگ نہیں لڑسکتا تھا
اسے ایک مدرسے کا ہیڈ بنا دیا گیا۔ روس جب واپس چلا گیا تو جہاں جہاں مجاہدین کا جو گروپ تھا وہ اس علاقے کا حکمران بن گیا۔ ان میں سے کچھ حکمران بہت ظالم بھی تھے جو لوگوں کو اغوا کرتے ریپ کرتے اور بھتہ وصول کرتے تھے۔ اسی دوران ایک حکمران کے کچھ لوگوں نے مُلَّا عمر کے مدرسے کے ایک بچے کو اغوا کرلیا۔ مُلَّا عمر نے کوشش کی کہ پرامن طور وہ بچہ واپس مل جائے لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ پھر اس نے اپنے مدرسے اور اسکے آس پاس کے مدرسوں کے طلبا کا ایک چھوٹا سا لشکر بنایا اور بچے کی بازیابی کو نکل پڑے۔ انکے پاس زیادہ طاقت تو موجود نہ تھی لیکن پھر بھی انہوں نے بزور طاقت اس بچے کو چھڑوا لیا۔ اب اس دیکھا دیکھی میں اور بھی بہت سے لوگ انکے لشکر میں شامل ہونے لگے اور درخواست کی کہ ہمارے حکمران ہم پر ظلم کرتے ہیں تو آپ ہماری بھی مدد کریں۔ اسطرح لشکر بڑھ کر اتنا بڑا ہوگیا کہ ایک مضبوط گروپ کی شکل اختیار کرگیا۔ تبھی اسے انکو "طالبان” کہا جانے لگا کیونکہ یہ سب ایک مررسے کے طالبعلم تھے۔
مُلَّا عمر نے پاور میں آنے کے لئے مزید گروپس کو اپنے ساتھ شامل کرنا شروع کیا اور پہلی بار افغانستان پر طالبان کی حکومت قائم ہوئی۔ اب یہ بات امریکہ کو پسند نہیں آئی اور انہوں نے جو فنڈنگ روس کے خلاف جنگ میں شروع کی تھی وہ روک لی کیونکہ وہ افغان طالبان کی حکومت امریکہ کی مرضی کے بغیر بنی تھی۔ امریکہ کی فنڈنگ روکنا ایک قسم کی وعدہ خلافی تھی جس پر افغان طالبان نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں 9/11 کا واقعہ رونما ہوا
کیونکہ اب امریکہ کا افغانستان میں مفاد ختم ہوچکا تھا تو اس لئے اس نے افغان طالبان کو دہشت گرد ڈکلئر کرکے اس پر حملہ کردیا
اس وقت سے اب تک بھی طالبان نہ صرف موجود ہیں بلکہ اب انہوں نے امریکہ کو بھی شکست دی ہے۔

@AtiqPTI_1