fbpx

لاہور دھماکہ، ایئر پورٹ سے فرار ہونیوالے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا

لاہور دھماکہ، ایئر پورٹ سے فرار ہونیوالے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جوہرٹاوَن دھماکہ، علامہ اقبال ائیرپورٹ سے مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا

نجی ٹی وی کے مطابق گوجرانوالہ کا رہائشی جہاز کے ذریعے کراچی فرار ہونے کی کوشش کررہاتھا، مشتبہ شخص کو پرواز سے آف لوڈ کرکے حساس اداروں نے حراست میں لیا حراست میں لیے گئے مشتبہ شخص کوتفتیش کے لیے نا معلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے، گرفتار کئے گئے شخص سے تحقیقاتی ادارے تفتیش کریں گے ،دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ گرفتار کیا جانے والا ملزم دھماکے مین استعمال ہونے والی گاڑی کا مالک ہے،گاڑی کے مالک کو فلائٹ سے آف لوڈ کرکے حراست میں لیا گیا

دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی11 سال قبل گوجرانوالہ سے چھینی گئی تھی۔ گاڑی ایل ای بی9928 چھیننے کا مقدمہ تھانہ کینٹ گوجرانوالہ میں درج ہے، پولیس نے گاڑی کا مقدمہ حافظ آباد کے رہائشی شکیل کے بیان پر درج کیا تھا گاڑی کے مالک شکیل نے ڈرائیور منظور کو دوست کو گاڑی دینے کے لیے بھیجا تھا ، جہاں 29نومبر2010کو صبح پونے10بجے3ڈاکوؤں نے ڈرائیور سے گاڑی چھین لی تھی۔

دھماکے کے بعد لاہور بھر کی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے، جوہر ٹاؤن کے علاقے میں پولیس کی نفری کا علاقے بھر میں گشت جاری رہا دھماکے کے مقام پر پرغیرمتعلقہ شخص کوآنے کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی گئی تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ رہائشی کوچیکنگ کے بعد داخلے کی اجازت مل رہی ہے

جوہر ٹاؤن دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں دھماکے میں ممکنہ طور پر استعمال گاڑی بابو صابو انٹر چینج سے داخل ہوئی گاڑی بدھ کی صبح 9 بج کر 40 منٹ کے قریب داخل ہوئی، بابو صابو ناکے پر گاڑی کی باقاعدہ چیکنگ بھی ہوئی۔ سی ٹی ڈی اور حساس اداروں نے گاڑی کے داخلے کی فوٹیج حاصل کرلی ہے

دوسری جانب جوہرٹاؤن میں ہونے والے بم دھماکے کا ایک اور زخمی جناح ہسپتال میں دم توڑ گیا جس کے بعد بم دھماکے میں شہید ہونے والے افراد کی تعداد چار ہوگئی ہے ایدھی حکام کے مطابق بم دھماکے میں زخمی ہونے والا 40 سالہ مظہر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ گیا مظہر بی آر او سوسائٹی میں واقع گھر میں مالی کا کام کرتا تھا اور شیر شاہ کالونی کا رہائشی تھا۔

قبل ازیں دھماکے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔مقدمہ محکمہ انسداد دہشت گردی لاہور تھانے میں انسپکٹرعابد بیگ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مقدمے میں قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ مقدمے میں 7 اے ٹی اے، 3/4ایکسپلوزو ایکٹ سميت دیگر دفعات شامل ہیں۔درج ایف آئی آر کے مطابق دہشت گردوں نے کارروائی میں گاڑی اور موٹر سائیکل استعمال کیں۔ مقدمے کے متن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دھماکے میں 3افراد جاں بحق اور 21 زخمی ہوئے۔ مقدمے میں 3 نامعلوم دہشت گردوں کا ذکرکیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں 23 جون کو دھماکہ ہوا تھا اسی علاقے میں جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کی رہائش گاہ بھی قائم ہے

جوہر ٹاون دھماکہ کیسے ہوا ؟ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ آ گئی

جوہر ٹاون دھماکہ حافظ محمد سعید کی رہائشگاہ کے قریب ہوا؟ حقیقت سامنے آ گئی،

جوہر ٹاون دھماکہ۔ زخمیوں کے نام سامنے آ گئے ۔اموات میں اضافہ

لاہور جوہر ٹاؤن دھماکے میں پڑوسی ملک کے ملوث ہونے کے ثبوت سینئر صحافی سامنے لے آئے

لاہور میں دھماکہ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے ، شہباز شریف

دہشت گردی کے کتنے تھریٹ ملے تھے؟ لاہور دھماکے کے بعد آئی جی کا انکشاف

جوہرٹاون دھماکہ:تحقیقاتی ادارے ملزم کے قریب پہنچ گئے،

جوہرٹاؤن دھماکہ؛ بارود سے بھری گاڑی کا مالک کون؟بارود کہاں نصب کیا گیا اورگاڑی کیسے پہنچی؟تہلکہ خیزانکشافات