لاہور فلائنگ کلب نے حکومت کے خلاف درخواست دائر کردی

لاہور فلائنگ کلب نے حکومت کے خلاف درخواست دائر کردی

باغی ٹی وی : لاہور فلائنگ کلب نے حکومت سمیت ، سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کے خلاف حکم امتناعی کے لیے مقدمہ دائر کردیا . پیٹشن میں کہا گیا ہے کہ اتھارٹی کی جانب سے والٹن ایئر پورٹ پر حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے منصوبے سے شہری ہوا بازی کی سرگرمیاں متاثر ہوں گی. نارتھ انڈیا فلائنگ کلب کو باقاعدگی سے 1932 میں اس جگہ کو شہری ہواز بازی کے لیے مختص کیا تھا تقسیم کے بعد نارتھ انڈیا فلائنگ کلب کو تبدیل کرکے لاہور فلائنگ کلب کردیا گیا تھا.


والٹن ایئرپورٹ 1918ء میں برطانوی حکومت نے قائم کیا تھا اور یہ دوسری جنگ عظیم میں برطانوی فوج کا بیس کیمپ بھی رہا۔ 12 سو سے زائد کنال پر مشتمل یہ ایئرپورٹ لاہور میں گلبرگ ماڈل ٹاؤن اور فیروز پور روڈ کے سنگم پر واقع ہے جہاں 7 ہزار سے 9 ہزار چوٹے بڑے درختوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا جنگل ہے جو گلبرگ فیروزپور روڈ اور ماڈل ٹاؤن کے لاکھوں مکینوں کو روزانہ نہ صرف ہزاروں ٹن آکسیجن فراہم کرتا ہے بلکہ لاہور کی اس آبادی کو صاف شفاف ہوا بھی فراہم کر تا جس کی وجہ سے ان علاقوں میں شہر کے دیگر علاقوں کی نسبت فضائی آلودگی انتہائی کم ہوتی ہے۔

اسی رقبے پر قائم سات سے زائد نرسریوں میں مختلف قسم کے پھل دار پودوں اور خوبصورت دلکش حسین پھولوں کی خرید و فروخت بھی ہوتی جو ماحول کو مزید دلکش بنا دیتے ہیں۔ ان نرسریوں میں دو ہزار کے قریب لوگ اپنا روزگار بھی حاصل کرتے ہیں جبکہ لوگوں کو شہر کے سنگم میں قائم ان نرسریوں سے اپنی پسند کے پودے بھی مل جاتے ہیں۔

بزنس حب کی وجہ سے یہ نرسریاں بھی ختم کر دی جائیں گی اور 25 سے 17 ایکڑ رقبے پر پھیلے اس چھوٹے سے جنگل کو بھی ختم کرکے آلودگی میں اضافہ ہوگا بلکہ دو ہزار سے زائد یہ لوگ بے روزگار ہوں گے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ بزنس حب میں انہیں نوکری ملے گی یا نہیں، کروڑوں روپے کی لاگت سے قائم نرسری ابھی نہ جانے کہاں جائیں گے اور ان کو متبادل جگہ بھی ملے گی یا نہیں۔

دوسر ی جانب اگر والٹن ایئرپورٹ کو ختم کیا جاتا ہے تو مختلف یونیورسٹیوں کے 200 سے زائد طلباء جو پائلٹ بن رہے ہیں اور روزانہ تربیت لیتے ہیں ان کا مستقبل بھی داؤ پر لگ چکا ہے۔ والٹن ایئرپورٹ پر جو لاہور کلب کے نام سے بھی مشہور ہے ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ قائداعظم سمیت برصغیر کے بہت سے رہنماؤں اور برطانوی راج میں بہت سے افسران نے اسی ایئرپورٹ کو استعمال کیا اور یہ ائیر پورٹ ایمرجنسی کے طور پر سابقہ اور موجودہ اراکین اسمبلی بھی استعمال کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.