کرونا وائرس ، سائلین اوروکلا ہائی کورٹ نے سب کچھ بتادیا،جومان جائے گا ، امان پاجائے گا

لاہور:کرونا وائرس ، سائلین اوروکلا ہائی کورٹ نے سب کچھ بتادیا،جومان جائے گا ، امان پاجائے گا،اطلاعات کےمطابق کرونا لاک ڈائون، لاہور ہائیکورٹ نے کیسز کی کارروائی کیلئے وکلاء اور سائلین کیلئے رہنماء اصول وضح کر دیئے

لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہےکہ پراسکیوٹرز، سرکاری وکلاء اور انفرادی وکلاء اب گھر یا دفتر بیٹھ کر اپنے کیسز کے تحریری دلائل لاہور ہائیکورٹ کو بھھوائیں گے،

باغی ٹی وی کےمطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان کی منظوری کے بعد رجسٹرار نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا،کرونا وائرس کے خدشے سے وکلاء اور سائلین کو شدید پریشانی کا سامنا ہے، کرونا وباء کے ختم ہونے کے وقت کا کوئی اندازہ نہیں،

اس نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہےکہ کرونا وائرس خدشات ختم ہونے تک تمام سٹیک ہولڈر کی سہولت اور سماجی فاصلے کو برقرار رکھنے کے لئے چند فیصلے لئے گئے ہیں،20 اپریل سے لاہور ہائیکورٹ اور علاقائی بنچوں پر نئے مقدمات دائر کئے جا سکتے ہیں،لاہور ہائیکورٹ میں 20 اپریل سے فوری نوعیت کے تمام کیسز سماعت کیلئے مقرر کئے جائیں گے،

ذرائع کےمطابق یہ بھی کہا گیا ہےکہ ضمانت بعد از گرفتاری، سزا معطلی، حبس بے جا اور عدالت کے مخصوص احکامات کے مطابق کیسز فاضل جج کی دستیابی پر ریگولر کاز لسٹ میں سماعت کیلئے مقرر کئے جائیں گے، بعد از گرفتاری، سزا معطلی، حبس بے جا اور ریگولر کاز لسٹ کے مقدمات میں وکلاء تحریری دلائل جمع کروائیں گے،

وکلاء کے تحریری دلائل بذریعہ ڈاک اور ای میلز بھی عدالت کو بھجوائے جا سکتے ہیں، ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں کے علاوہ وکلاء اور سرکاری وکلاء کو عدالتوں میں آنے کی ضرورت نہیں ہو گی، کیسز کی سماعت کے دوران سائلین کو بھی مخصوص صورتحال کے علاوہ عدالتوں میں آنے کی ضرورت نہیں ہو گی،

ذرائع کےمطابق یہ بھی کہا گیا ہےکہ پراسکیوٹرز بھی اپنے دلائل تحریری طور پر بذریعہ ای میلز اور ڈاک عدالتوں کو بھجوائیں گے،رجسٹرار آفس موصول شدہ کیسز کے اہم نکات، تحریری دلائل وغیرہ متعلقہ جج کے سامنے پیش کریں گے،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.