لاہورکے ہوٹل یا چوری کے اڈے،موٹرسائیکل چوری ہونے لگے،ذمہ دارکون؟

لاہور:لاہورکے ہوٹل یا چوری کے اڈے،موٹرسائیکل چوری ہونے لگے،ذمہ دارکون؟شہری کس کواپنا دکھڑا سنائیں،اطلاعات کے مطابق لاہورشہرجہاں ایک طرف لوگوں کے روزگارکا بڑا ذریعہ ہے وہاں لوگوں کے نقصانات کا بھی مرکز بنتا جارہاہے، لاہور کمانےکےلیے آتے ہیں مگراپنا سب کچھ گنوا کے واپس جانا پڑتا ہے

ذرائع کے مطابق ایسے معاملات معمول بنتے جارہے ہیں ،مسئلہ جواصل درپیش ہے وہ یہ ہے کہ اتنے بڑے سنگین جرائم کے سرزد ہونے کے باوجود پولیس کیا کررہی ہے، لاہورکے سیف سٹی منصوبوں پربڑی بڑی کہانیاں سنانے والے اب کہاں ہیں

لوگ پوچھ رہے ہیں کہ ہماراقصورکیا ہے؟ اگرحکومت ایسے جرائم پرقابوہی نہیں پاسکتی توپولیس اورامن وامان کی مد میں سالانہ اربوں روپے قوم کے کیوں ضائع کیئے جارہے ہیں‌،

ادھر ذرائع کے مطابق ایک ایسا ہی تازہ واقعہ لاہورشہر کے علاقہ شاہدرہ میں پیش آیا جہاں ایک نوجوان کھانا کھانے کےلیے گیا توموٹرسائیکل گنواکرواپس آگیا

باغی ٹی وی کے مطابق لاہورشہر میں مزدوری کرنے کی غرض سے آنے والا ایک اسد علی ولد محمد علی نامی نوجوان تین چار دن پہلے محمد رفیق مچھلی والا جس کی دوکان شاہدرہ میں واقع ہے کھانا کھانےکے لیے گیا تو اس کے ساتھ ہاتھ ہوگیا

 

 

ذرائع کے مطابق اسد علی جب کھانا کھانے کے بعد ہوٹل سے باہر آکردیکھا تواس کی موٹرسائیکل غائب تھی ، اسد علی نے ادھرادھردیکھا لیکن موٹرسائیکل نظرنہ آئی ہوٹل مالکان سے بھی پوچھا توانہوں نے کوئی مناسب جواب نہ دیا

اسد علی نے اس دوران ہوٹل انتظامیہ سے درخواست بھی کی کہ ان کے ہوٹل کے سامنے سے موٹرسائیکل چوری ہوئی وہ اس موٹرسائیکل کوتلاش کرنے کے لیے اس کی مدد کریں لیکن کوئی خاطرخواہ جواب نہ دیا گیا ، ایسے معلوم ہوتا تھا کہ شاید ہوٹل انتظامیہ جان بوجھ کراس معاملے سے توجہ ہٹارہی ہے ،

ادھریہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اس سے پہلے بھی اس ہوٹل کے گردونواح سے موٹرسائیکل چوری ہوگئے ہیں ، اب یہ معلوم نہیں یہ کوئی مخبر اس ہوٹل میں کام کرتا ہے یا پھرچوری کرنے والا اس ہوٹل کی اتنظامیہ کی کمزور حفاظتی تدابیر کا فائدہ اٹھاتا ہے

دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اسد علی نے پولیس کودرخواست دی ہےلیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی

پولیس کی طرف سے بھی کوئی رسپانس نہیں ملا ، اعلیٰ حکام کے پاس ویسے ہی وقت نہیں کہ وہ اس ملک کے غریب شہری کے مسائل پرتوجہ دے سکیں

دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اس واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پرپولیس کے غیرذمہ دارانہ رویے کے خلاف ایک مہم بھی چل نکلی ہے ، اب یہ مہم کیا صورت حال اختیار کرتی ہے اس کا اندازہ تو نہیں لیکن یہ بات طئے ہے کہ ایسے واقعات سے روگردانی کسی بڑے سانحے کا سبب بھی بن سکتی ہے

اس حوالے سے ماضی میں کئی مثالیں مل چکی ہیں‌کہ چوری کی موٹرسائیکل اوردیگرگاڑیوں کودہشت گردوں نے لوگوں کی جانیں لینے کے لیے استعمال کیا ہے ،

یہ بات بھی یاد رہے کہ یہ موٹرسائیکل موصوف اپنے دوست کی لے کرکھانا کھانے کےلیے گیا تھا . اسی واقعہ کی وجہ سے اسد علی پردہرا دباو اوردہری پریشانی ہے کہ وہ اس دوست کے موٹرسائیکل کا نقصان کیسے پورا کرے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.