fbpx

لاہورکے حلقہ پی پی 167 میں ضمنی انتخاب،ن لیگ اور پیپلزپارٹی آمنے سامنے

پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد امیدواروں نے ضمنی انتخاب کیلئے کاغزات نامزدگی الیکشن کمیشن میں جمع کرانا شروع کر دیئے ہیں.لاہور کے حلقہ پی پی 167 میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن آمنے سامنے آگئے.

لاہور کے حلقہ پی پی 167 سے پی ٹٰی آئی کی ٹکٹ پر نزیر چوہان رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے جو بعدازاں پارٹی سے اختلافات کے باعث منحرف ہوگئے اورعدم اعتماد کی تحریک میں پارٹی کے مخالف امیدوارحمزہ شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ دیا .

الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کا فیصلہ آنے کے بعد وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے منحرف ہونے والے ارکان کو یقین دلایا تھا کہ ان کی سیٹوں پر دوبارہ ضمنی الیکشن کی صورت میں مسلم لیگ ن ان کی بھرپور حمایت کرے کی اور ان کو پارٹی کی جانب سے ٹکت بھی دیا جائے گا.تاہم مسلم لیگ ن نے کاگی حد تک اپنا وعدہ وفا کردیا اور لاہور کے حلقہ پی پی 167 سے مسلم لیگ ن کا ٹکٹ منحرف رکن نزیر چوہان کو دے دیا .

مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈراورامیدوار نذیر چوہان نے پی پی 167 سے اپنی کاغذات نامزدگی الیکشن کمیشن میں جمع کرا دئیے،اس موقع پر مسلم لیگ ن کی ایم این اے شائیستہ پرویز ملک بھی ان کے ہمراہ تھیں. نذیر چوہان کا کہنا تھا کہ ن لیگ حقیقی سیاسی جماعت ہے ،مسلم لیگ ن نے جوعزت افزائی کی اسے ہمیشہ یاد رکھوں گا، میرا حلقہ ن لیگ کا گڑھ رہاہے، انہوں نے مزید کہا کہ اپنے ضمیر کی آواز پر مسلم لیگ ن کا ساتھ دیا ،عمران خان کا فتنہ ملک کو مسائل کی طرف لیکر جارہا تھا ،نواز شریف اور شہباز شریف کے بیانیہ پرمنفی سیاست کی گئی

نزیر چوہان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو سوشل میڈیا پر الیکشن کروا کر سوشل میڈیا کا وزیر اعظم بنوا دیں ،ایک سوچ کے تحت پی ٹی آئی کو جوائن کیا لیکن اب شرمندہ ہیں انہوں نے بتایا کہ لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 133 میں جماعت اسلامی ،پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں کے کارکن ن لیگ میں شامل ہو
چکے ہیں .کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے دوران شائستہ پرویز ملک کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن میں آنے والوں کا خیر مقدم کرتے ہیں. جب قیادت نے فیصلہ کیاہے کہ پی پی 167 سے نزیر چوہان پارٹی کے امیدوار ہیں تو پارٹی ورکرز بھی نزیر چوہان کو دل سے تسلیم کرینگے .

دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی سے فیصل میر نے لاہور کے حلقہ پی پی 167 سے ضمنی انتخابات کے لئے اپنے کاغذات نامزدگی ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن شاہین غزل کے دفتر میں جمع کروا دئیے۔ اس موقع پرحاجی عزیزالرحمن چن، افنان بٹ اور شاہد عباس اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں کی بڑی تعداد ان کے ہمراہ تھی۔

فیصل میر کا کہنا تھا کہ وہ پی پی-167 سے پہلے بھی پیپلزپارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑ چکے ہیں اور یہ قومی اسمبلی کے حلقے این-اے 133 کا ہی صوبائی حلقہ ہے۔ 2021 کے ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کے اسی حلقے این اے-133 سے بتیس ہزار ووٹ حاصل کئے تھے جس میں سے تقریباً بیس ہزار ووٹ پی پی -167 میں حاصل کئےگئے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں فیصل میر نے کہا کہ بیس خالی ہونے والی تمام نشستوُں پر ن لیگ کو سپورٹ کرنے کی پیپلزپارٹی کسی پالیسی کا انہیں علم نہیں ہے۔ ہم اپنی قیادت سے درخواست کریں گے کہ اگر ن لیگ تمام بیس نشستوں پر پی ٹی آئی کے سابقہ ممبران پنجاب اسمبلی کو ٹکٹیں دے رہی ہے تو کم از کم صرف ایک نشست پی پی -167 میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو ن لیگ اور پی ٹی آئی کے خلاف ایڈجسٹمنٹ کئے بغیر الیکشن لڑنے کا موقع دیا جائے.

مزید برآں پیپلزپارٹی کی شریک چیئرمین اصف علی ذرداری اور وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں دونوں رہنماوں نے ضمنی الیکشن مشترکہ طور پر لڑنے پر اتفاق کیا. ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان نئی اںدرسٹینڈنگ سے دونوں جماعتوں کے کارکنوں میں تحفظات پائے جاتے ہیں جنہیں دور نہ کیا تو دونوں جماعتوں کے کارکن اپنی اپنی جماعتوں سے متنفر ہو سکتے ہیں.