fbpx

سوشل سیکورٹی ہسپتالوں اورڈسپنسریزمیں ادویات ناپید:مریض پریشان:افسران کوبددعائیں دینے لگے

لاہور:سوشل سیکورٹی ہسپتالوں اورڈسپنسریز میں ادویات ناپید:مریض پریشان:افسران کوبددعائیں دینے لگے،اطلاعات کے مطابق پنجاب میں سوشل سیکورٹی کے زیرانتظام ہسپتالوں اورڈسپنسریز میں ادویات کی شدید قلت کی مصدقہ اطلاعات ہیں ، ادویات کی قلت کی وجہ سے مریض پریشان حال اورافسران کو بددعائیں دینے پرمجبورہوگئے ہیں‌

اس حوالے سے لاہور اورگردونواح میں جب اطلاعات کی تصدیق کے لیے سوشل ڈسپنسریز کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ افسران بالا کی "آنیان تے جانیاں” ہروقت ہوتی رہتی ہیں لیکن افسران بالا بے بس عوام کی تکالیف سے بالکل لا پرواہ دکھائی دیتےہیں‌

اس سلسلے میں لاہور کی مختلف ڈسپنریز کا جائزہ بھی لیا گیا جہاں ادویات کا فقدان ہے اوریہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈسپنسریز کو ملنے والی ایک مہینے کی ادویات سے بمشکل 10 سے پندہ دن گزرتے ہیں اورپھرمریض دوائیوں سے محروم ہوجاتے ہیں اورادھرادھربے بسی کے عالم میں مارے مارے پھرتے ہیں‌

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکام نے کروڑوں روپے کیمروں کی تنصیب اوردیگرغیرضروری اشیا کے تصرف میں ضائع کردیئے ہیں لیکن مریضوں کو دوائی دینے کے لیے ان کے پاس شاید بجٹ کی کمی ہے

مریض جب ان ڈسپنسریز کا رخ کرتے ہیں اور جب ان کو دوائی نہیں ملتی تووہ افسران کی ان پالیسیوں سے تنگ آکران کےلیے بددعائیں دینے پرمجبور ہورہے ہیں‌

ادھر ذرائع کے مطابق یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایک تو ادویات بہت کم ملتی ہیں جن سے بمشکل 10 سے پندرہ دن گزرتے ہیں دوسرا یہ انکشاف ہوا ہے کہ عام سی چند گولیاں اور کچھ ایسے ہی ملتی جلتی ادویات ہیں جن سے ہرقسم کے مریض کوٹرخایاجاتا ہے

مریضوں نے اس حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے اپیل کی ہے کہ ان ڈسپنسریز میں مریضوں کے لیے وافر ادویات ہونی چاہیں تاکہ ان کوعلاج معالجے کےلیے کسی دوسری جگہ نہ جاناپڑے