ورلڈ ہیڈر ایڈ

لاہور میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والا گروہ سرگرم

قصور کے بعد صوبائی دارالحکومت لاہور میں کم سن بچوں سے جنسی زیادتی کرنے والا گروہ سرگرم ہو گیا، زیادتی کی ویڈیو ریکارڈ کر کے بچوں کو بلیک میل کیا جانے لگا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقہ شاہدرہ میں کمسن بچوں اور لڑکوں سے زیادتی کرنے والا گروہ سرگرم ہو گیا ہے. ملزمان بچوں سے زیادتی کی ویڈیو بھی بناتے، متاثرہ بچوں نے والدین کو بتایا اور ملزمان نے بلیک میل کیا تو والدین پولیس کے پاس پہنچ گئے. پولیس نے والدین کی درخواست پر مقدمہ درج کر کے چار ملزمان کو گرفتار کیا ہے ،پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان بچوں کو نشہ آور مشروبات پلا کر ان کے ساتھ زیادتی کرتے اور ویڈیو بنا کر ان کے گھر والوں کو بلیک میل کرتے. پولیس نے ملزمان کو گرفتار کیا تو بعد ازاں ملزمان نے بااثر ہونے کا فائدہ اٹھا کر مدعی سے ساز باز کر کے ضمانت کروا لی جس کے بعد ملزمان رہا ہو گئے اور پھر سے بچوں سے زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، اہلیان علاقہ نے ملزمان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے.

اسی برس ماہ جنوری میں وفاقی محتسب کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بچوں سے زیادتی میں پنجاب پہلے نمبر پر ہے۔ قصور میں سینکڑوں متاثرہ بچے غریب اور ان پڑھ خاندانوں کے جبکہ مجرم بااثر تھے۔ پشت پناہی جاگیرداروں اور سیاستدانوں نے کی اورپولیس بھی بکاؤ نکلی ۔ ان واقعات میں مجرموں کو سزا ملنے کی شرح ڈھائی فیصد ہی رہی ۔رپورٹ کے مطابق سال 2017 میں پاکستان میں 4ہزار 139 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں سب سے زیادہ 1ہزار89 پنجاب میں پیش آئے ۔ صرف قصور میں گذشتہ دس برس کے دوران واقعات کی شرح 6 فیصد سے بڑھ کر 16 فیصد سے زائد ہوگئی ۔ نظام کی خرابیوں کے باعث 97 فیصد سے زائد مجرم سزا سے بچ نکلے۔

جنوری میں ہونے والے سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں یہ بات سامنے آئی کہ فاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ 5سال میں اسلام آباد میں 560بچوں کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ ان میں سے 300کیس رجسٹرڈ ہوئے جبکہ 260غیر رجسٹرڈ رہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.