fbpx

لاپتہ افراد کیس،حکومت ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتی تو 9 ستمبر کو وزیراعظم پیش ہوں،عدالت

لاپتہ افراد کیس،حکومت ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتی تو 9 ستمبر کو وزیراعظم پیش ہوں،عدالت

اسلام آباد ہائی کورٹ میں مدثر نارو اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

رانا ثنا اللہ اور وزیر انسانی حقوق ریاض پیرزادہ کے انٹرویوز کا ٹرانسکرپٹ درخواست کے ساتھ منسلک کر دیا گیا،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وفاق کی جانب سے رپورٹ فائل کی ہے ابھی ساڑھے دس بجے کابینہ کی میٹنگ ہے،اٹارنی جنرل اسپتال میں ہیں، انکی استدعا ہے سماعت عید کے بعد تک ملتوی کردیں، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کورٹ کیا کرے کیا چیف ایگزیکٹو کو سمن کرے ؟دو فورمز نے ڈکلیئر کردیا یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے پھر کیا ہوا ؟ جے آئی ٹی جس میں آئی ایس آئی اور دیگر ادارے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے ،یہ بڑا واضح ہے کہ موجودہ یا سابقہ حکومت نے لاپتہ افراد کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا، سب سے بہترین اینٹلی جنس ایجنسی نے یہ کیس جبری گمشدگی کا ڈکلیئر کیا ہے ، ارشد کیانی نے کہا کہ سابقہ حکومت کا تو پتہ نہیں اس حکومت نے معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت صرف آئین کے مطابق جائے گی بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، یہ معاملہ تو قومی سلامتی سے متعلقہ ہے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ کابینہ کے سینئر اور متعلقہ لوگوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا 2013 کا فیصلہ موجود ہے. یہ تو تسلیم شدہ حقیقت ہے، یا تو کوئی شخص ذمہ داری لے کر ان تمام لوگوں کو بازیاب کرائے، ریاست کا جبری گمشدگی کے کیسز پر جو ردعمل ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہے،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فرحت اللہ بابر صاحب نے منتخب حکومت اور پارلیمنٹ نے کیا کیا ہے، یہ تو آپ تسلیم کر رہے ہیں سویلین کنٹرول اور نگرانی نہیں ہے ، آئی ایس آئی صرف حکومت کا ایک ڈیپارٹمنٹ ہے، آئی ایس آئی وزیراعظم کے براہ راست کنٹرول میں ہے، عدالت پبلک آفس ہولڈرز کو اپنی ذمہ داری شفٹ کرنے کی اجازت نہیں دے گی،اگر وزیراعظم کسی بات سے منع کرے تو وہ اسے مانیں گے،جو آئین میں لکھا ہے یہ عدالت صرف اس کو تسلیم کریگی،آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ اور حکومت بے بس ہیں؟ جس پر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ جی بالکل میں یہی کہنا چاہ رہا ہوں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر وزیراعظم سے کہیں کہ عدالت کے سامنے آ کر یہ بیان دیں،یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، آئین کی کسی کو پرواہ نہیں تو لوگ متاثر ہو رہے ہیں،

وزارت داخلہ کا نمائندہ عدالت کے سامنے پیش، وقت دینے کی استدعا کر دی، عدالت نے استفسار کیا کہ کون کون سے قانون نافذ کرنے والے ادارے آپکے ماتحت ہیں؟ نمائندہ وزارت داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد پولیس، ایف آئی اے اور رینجرز ہمارے ماتحت ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ انٹیلی جنس بیورو کس کے ماتحت ہیں؟ نمائندہ وزارت داخلہ نے کہا کہ وہ وزیراعظم کے زیر کنٹرول ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ فرنٹیئر کانسٹبلری کس کے زیر کنٹرول ہے؟ نمائندہ وزارت داخلہ نے کہا کہ فرنٹیئر کانسٹبلری وزارت داخلہ کے ماتحت ہے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو کیا آپ ان سے پوچھتے نہیں ہیں؟ نمائندہ وزارت داخلہ نے کہا کہ ہم پوچھتے ہیں ان سے رپورٹ طلب کی جاتی ہے، عدالت کے سامنے پیش کر سکتے ہیں،جس پر عدالت نے کہا کہ عدالت کے سامنے رسمی باتیں مت کریں،اگر حکومت ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتی تو 9 ستمبر کو وزیراعظم پیش ہوں، آخری موقع دے رہے ہیں اگر کچھ نہ ہوا تو چیف ایگزیکٹو کو طلب کرینگے،

کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

2016 سے اسلام آباد سے اٹھائے گئے کیس تو واضح ہیں کیا بنا اسکا؟