fbpx

لاقانونیت بڑھتے جرائم تحریر: محمد انور 


قانون سازی کی بات کی جائے تو وطن عزیز میں آئے روز نیا قانون پاس کیا جاتا ہے تاکہ معاشرے میں بڑھتے جرائم کو روکا جائے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے

پاکستان میں اگر کوئی نچلے طبقے کا شخص جرائم کرتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آتے ہیں اور بلاخوف مجرم کو کیفرکردار تک پہنچایا جاتا ھے تو جو کہ خوش آئند عمل ہے۔

لیکن جب کوئی بااثر شخصیات کسی غریب پر ظلم کرتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے ان وڈیروں اور جاگیرداروں کو گھر بیٹھے ریلیف فراہم کرتے ہیں جس سے معاشرے میں غریب کی عزت مجروح ہوتی ہے اور بااثر شخصیات اپنی طاقت سے عوام پر ظلم کرنے کو ہی اپنی عظمت سمجھتے ہیں

پاکستان میں چاروں صوبوں کی بات کی جائے تو ہر صوبے میں الگ قسم پائی جاتی ہیں پنجاب میں اگر کوئی نیا قانون پاس کیا جاتا ہے تو طاقت وار لوگوں کی پشت پناہی کرنے والے صحافی نیے قانون کو متنازع بنانے شروع ہو جاتے ہیں

دوسری جانب وطن عزیز میں سب سے زیادہ سندھ میں لاقانونیت دیکھی جاتی ہے جہاں ملک کا چیف جسٹس موقع سے شراب برآمد کر لیتے ہیں اور چند گھنٹوں میں وہ شراب کی بوتلیں شہید میں تبدیل ہو جاتی ہیں کیونکہ جس سے شراب برآمد ہوئی وہ ایک سیاسی جماعت سے وابستہ ھے

سوچیں جہاں ملک کا چیف جسٹس کچھ نہیں کر سکے مجرم بااثر ھے تو وہاں میرے اور آپ جیسے لوگوں کو کیا انصاف فراہم کیا جائے گا انصاف تو دور کی بات الٹا تذلیل کی جاتی ہیں

پاکستان عدلیہ کا شمار دنیا کی درجہ بندی سے دیکھا جائے تو کسی سے چھپا ڈھاکا نہیں ایک سو اٹھائیس میں سے ایک سو بیسویں نمبر آتا ہے اگر پاکستان میں عدلیہ آزاد اور انصاف پر مبنی فیصلے صادر کرنا شروع کر دے تو معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم کی روک تھام میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہیں۔ بڑھتے جرائم کی ایک وجہ مہنگائی ، غربت ، بےروزگاری کے ساتھ ساتھ بےحیائی بھی معاشرے میں بڑھتے جرائم کا اسبب بن رہی ہے۔

جرائم کی روک تھام کے لئے حکومت کوشش تو کرتی ہے لیکن حکومت میں بیٹھے لبرل رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں بچوں سے زیادتی کے حالیہ واقعات دیکھیں جائے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں آئے روز کسی معصوم سے زیادتی کے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں اسب لاقانونیت ھے ایسا قانون نافذ کیا جائے جس سے دوسرے کو سزا کا خوف ہو۔

اس کے ساتھ ساتھ جو کیسیز انڈرٹرائیل ھے مجرموں کو کڑی سے کڑی سزائیں دی جائے تاکہ کہ دوسرے لوگوں کو علم ہے یہاں طاقت وار اور غریب کے لئے ایک قانون ھے اور اداروں کو بھی چاہیے اس میں بااثر شخصیات کو کسی بھی کیس میں رعایت نہیں دی جائے اور جب کوئی بااثر افراد کسی کیس میں اپنی طاقت استعمال کرنے کی کوشش کریں پہلے اس کا احتساب کیا جائے کہیں ایسا تو ہو رہا بیرون دُشمنوں کے پیروکار کے طور پر تو ملک کو کمزور کرنے کی سازش میں ملوث نہ ہو۔

@AK_Anwar_Khan

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!