fbpx

لڑنا ہے تو سندھ کابینہ سے لڑیں،افسران کو تنگ نہ کریں،وزیراعلیٰ سندھ

لڑنا ہے تو سندھ کابینہ سے لڑیں،افسران کو تنگ نہ کریں،وزیراعلیٰ سندھ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کابینہ میں اہم معاملے پر بات ہوئی ہے

سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کابینہ اجلاس میں گندم کی قیمت 2200مقرر کی ہے،ایندھن فرٹیلائیزاورزرعی ادویات کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے،ہم نے سندھ کے کسانوں کے فائدے کے لیے اقدامات کیے،ہم چاہتے ہیں گندم میں خود کفیل ہوں،کھاد بیج، تیل کی قیمت میں اضافے کے پیش نظر گندم کی قیمت 2200 روپے فی من مقرر کی ہم گندم کی پیداوار کو بڑھانا چاہتے ہیں،پچھلے سال ہمیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا وفاقی حکومت بیرون ممالک کو تو فائدہ پہچانا چاہتی ہے مگر اپنے کسانوں کو نہیں ،کابینہ نے میرپورخاص میں ہائی کورٹ کا بینچ قائم کرنے کی سفارش کردی ہے

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں سندھ نے وفاق کے افسران کو روکا ہوا ہے،واضح طور پر کہہ رہا ہوں یہ وفاق کے افسران نہیں ہیں،یہ وفاق کے افسران نہیں فیڈریشن کے افسران ہیں،وزیراعظم نے 3سال میں 2،3ملاقات کے کوئی مشاورت نہیں کی،میں نے عدالت میں کہاتھا کہ ہمارے پاس افسران کی قلت ہے،اٹارنی جنرل نے عدالت کوبتایا کہ وزیراعلیٰ نے مجھے بتایا ہی نہیں یہ وفاق نہیں بلکہ فیڈریشن کے افسران ہیں فیڈریشن میں چاروں صوبے آتے ہیں،یہ قانون گورنر سے مشاورت کے بعد بنایا گیا تھا 2014میں اس قانون میں ترمیم کرکے آئین کا حصہ بنا دیا گیا، قانون میں آخری ترمیم 2020میں ہوئی بغیر مشاورت کرکے کام کرتے ہیں،مجھ سے بھی کوئی مشاورت نہیں ہوتی،مجھ سے بات کرسکتے ہیں کریں یا اپنا کوئی نمائندہ مقرر کریں تمام اتھارٹیز کسی اور کو دے دی گئیں فیڈریشن کے ہمارے پاس 67 افسران ہونے چاہییں ہمارے پاس 47 افسران کی کمی ہے،گریڈ 21 کے 16میں سے صرف4 افسران ہمارے پاس ہیں، بات کی گئی تو کہا گیا کہ باقی صوبوں میں بھی کمی ہے،لگتا ہے سندھ کچھ مختلف ہے، لوگوں کو مختلف ٹریٹ کرنا ہے،لڑنا ہے تو سندھ کابینہ سے لڑیں ان افسران کو خط لکھ کرتنگ نہ کریں وفاق سندھ حکومت کو کام سے روکنا چاہتا ہے ،اسٹیبلشمنٹ ڈویژن صوبے کی گورننس میں مداخلت نہ کرے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سیاست سے باز رہے.مردم شماری میں کہا گیا خیبر پختونخوا میں38 لاکھ گھرانے ہیں، رگنگ کے لیے جو قوانین بنائے اسکے لیے کتنا اہتمام کیا گیا،گزشتہ روز آصف زرداری نے کہہ دیا کہ اسکا پھل کوئی اور کھائے گا الیکٹرونک ووٹنگ مشین پر الیکشن کمیشن 35 اعتراض لگا چکا ہے،جمہوریت کو نقصان پہچانے کے لیے قدم اُٹھایا گیا،ہمیں اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ پر اعتراض نہیں ہے،

ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں سندھ کابینہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزرا، مشیر، معاون خاص، چیف سیکریٹری، چیئرمین پی اینڈ ڈی اور دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے، کابینہ نے گزشتہ اجلاس کے منٹس منظور کر لئے، وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے زراعت منظور وسان نے وزیراعلیٰ سندھ کو اپنے محکمے کی ترقیاتی کاموں پر بریفنگ دی اور کہا کہ محکمہ زراعت کا کل 5 بلین روپے کی 43 اسکیمیں ہیں، حکومت نے 900 ملین روپے جاری کئے ہیں جس میں 565.5 ملین روپے خرچ ہوچکے ہیں، 15 اسکیمیں 1.16 بلین روپے کی لاگر سے اس سال مکمل ہوجائینگی،صوبائی وزیر برائے سوشل ویلفیئر ساجد جوکھیو نے ترقیاتی اسکیموں کے حوالے سے کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کی 800 ملین روپے کی 36 اسکیمیں ہیں، 5 اسکیمیں 216.1 ملین روپے کی لاگت سے اس سال مکمل ہوجائینگی،

پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پولیس افسران کی روٹیشن پالیسی پر تبادلہ خیال کیا گیا، اجلاس میں آگاہی دی گئی کہ 9 نومبر 2021 کو سندھ سے 4 پی اے ایس کےگریڈ 20 اور 7 پولیس سروس کے افسران کا تبادلہ کیا گیا، 4 پی اے ایس اور 8 پی ایس پی کو سندھ بھیجا گیا ہے، سول سروس رولز 15 (آئی) 1954 کے تحت وزیراعظم پی اے ایس اور پی ایس پی افسران کو وزرا اعلیٰ کی مشاورت سے کرسکتا ہے پی ایس اے کے گریڈ 20 کی سندھ میں 67 پوسٹ ہیں لیکن 19 افسران کام کر رہے ہیں اس حساب سے گریڈ 20 کے 48 افسران کی کمی ہے،پی اے ایس یا پی ایس پی کے افسران وفاق کے نہیں بلکہ فیڈریشن کے سرونٹ ہیں،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ جو افسران یہاں بھیجے گئے ہیں انہوں نے کبھی سندھ میں خدمت سرانجام نہیں دی ، سندھ کابینہ نے کہا کہ جن افسران کو سندھ سے ٹرانسفر کیا گیا ہے ان کو روکا جائے جن افسران نے سندھ میں رپورٹ کیا ہے ان کو رکھا جائے، کابینہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو وفاقی حکومت کو خط لکھ کر وفاق کو آگاہ کرنے کی درخواست کی کابینہ نے سندھ پولیس سروس کا کیڈر بنانے کا بھی فیصلہ کیا

عمران خان مایوس کریں گے یا نہیں؟ زرتاج گل نے کیا حیرت انگیز دعویٰ

نہر کنارے درخت کاٹ کر ان کے ساتھ دہشت گردی کی گئی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

ملزم نے دو شادیاں کر رکھی ہیں،وکیل کے بیان پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کیا ریمارکس دیئے؟

سرکلرریلوے کی بحالی ،چیف جسٹس نے کی سماعت،سندھ حکومت نے دیا جواب

اتنے بے بس ہیں تو میئر بننے کی کیا ضرورت تھی، جائیں اور یہ کام کریں، عدالت کا میئر کراچی کو بڑا حکم

اربوں کی ریلوے کی زمین کروڑوں میں دینے پر چیف جسٹس نے کیا جواب طلب

عمارت میں ہسپتال کیسے بند ہو گیا؟ کیسے معاملات ہمارے سامنے آ رہے ہیں؟ چیف جسٹس کے ریمارکس

حلیم عادل شیخ اور وزیر اعلی ٰمراد علی شاہ کے اختلافات سیاسی معاملہ قرار

رائس کینال لاڑکانہ کی کچی آبادیوں کا مسئلہ پر بھی بات چیت کی گئی، لاڑکانہ شہر میں رائس کینال کے دونوں کناروں پر کچی آبادیاں ہیں کمشنرلاڑکانہ نے رپورٹ دی ہے کہ 19 کچی آبادیاں 48 ایکڑوں پر ہیں یہ زمین محکمہ آبپاشی کی ہے اگر یہ اراضی ان کے استعمال میں نہیں تو وہ محکمہ کچی آبادی کو دی جائے ، سندھ کچی آبادی اتھارٹی نے محکمہ آبپاشی کو درخواست کی ہے کہ یہ زمین ان کو دی جائے تاکہ ان کو ریگیولر کیا جائے کابینہ نے کہا کہ یہ مسئلہ تقریباً تمام اضلاع میں ہے محکمہ آبپاشی کی زمین پر انسانی آبادیاں بن گئی ہیں کابینہ نے تمام اضلاع کی رپورٹ مانگ لی کابینہ نے اس اراضی کا سروے کر کے سروے نمبر الاٹ کرنے کی ہدایت دیدی

گندم کی خریداری قیمت پر بھی کابینہ اجلاس میں بحث ہوئی، اجلاس میں کہا گیا کہ ملک میں 22-2021 میں گندم کی پیداوار 27.5 میٹرک ٹن ہونے کی امید ہے کابینہ اراکین نے کہا کہ کھاد اور دیگر زرعی ان پٹس کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں کابینہ نے 2200 روپے فی 40 کلو گرام کی خریداری کی قیمت مقرر کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ * امید ہے ہماری آبادگار زیادہ گندم اگائینگے، گزشتہ سال گندم کی خریداری کی قیمت 2000 روپے رکھی گئی تھی، ربیع میں کھاد پر سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا گیا سبسڈی میں وفاقی حکومت 1.65 بلین روپے اور سندھ حکومت 1.65 بلین روپے کا حصہ ادا کریگی یہ سبسڈی 1 سے 16 ایکڑز کی اراضی کے آبادگاروں کو دی جائے گی سندھ کابینہ نے پیکج کی منظوری دیدی، وفاقی حکومت نے ربیع میں فاسفیٹ کھاد پر سبسڈی دینے کی منظوری دی تھی فیصلے کے مظابق وفاق اور صوبائی حکومت 50:50 فیصد کے تناسب سے سبسڈی دینگے سندھ کا شیئر 21.6 فیصد بنتا ہے جس کی سبسڈی پر 5.6 بلین روپے خرچ ہونگے یہ سبسڈی گندم، دال، چینی اور گھی پر دی جائیگی ، سندھ کابینہ نے وفاقی حکومت سے کچھ وضاحت حاصل کرنے کیلئے خط لکھنے کا فیصلہ کیا ،سندھ کابینہ نے الیکٹرک گاڑیاں رجسٹریشن کرنے کی اجازت دیدی وزیراعلیٰ سندھ نے اپلائیڈ فار رجسٹریشن (اے ایف آر) کی نمبر پلیٹس ختم کرنے کی ہدایت دیدی