fbpx

لاشوں کی شناخت ،طیارہ حادثہ میں مرنیوالے کے لواحقین پھٹ پڑے،بڑا مطالبہ کر دیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی طیارہ حادثہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین نے لاشوں کی شناخت کے حوالہ سے کراچی یونیورسٹی پر سوال اٹھا دیئے اور سیمپلز پنجاب لیب کو بھجوانے کا مطالبہ کر دیا

کراچی پریس کلب کے اندر پریس کانفرنس متاثرہ فیملی طیارہ حادثہ ماڈل کالونی کی طرف سے منعقد ہوئی ،متاثرین کی قیادت عارف اقبال، غزل بیگ نے کی ، عارف اقبال کا کہنا تھا کہ پی آئی اے واقعے کی تمام باڈیز حوالے کی جاچکی ہیں،اب صرف دو ڈیڈ باڈیز بچی ہیں پنجاب کی ٹیم کراچی آئی تھی مگر انہیں سپورٹ نہیں کیا گیا ،میری بیوی اور تین بچے واقعے میں جاں بحق ہوئے تھے ،کوئی کاونٹر یا کوئی فوکل پرسن نہیں بنایا گیا تھا ،میری ویڈیو پر مجھ سے پنجاب کی ٹیم نے رابطہ کیا تھا ،

عارف اقبال کا کہنا تھا کہ سیمپل بھیجنے کے بعد مجھے چھیپا اور ایدھی سے فون آیاکہ بچوں کی باڈی مل گئی ہے ،ایک باڈی کے متعدد لوگ دعویدار تھے ،اتنی ذہنی پریشرائز کیا گیا کہ جس کو جو باڈی ملی اس پر شکر ادا کیا گیا ،کراچی یونیورسٹی کے ڈی این اے سمپلنگ پر جس جس نے باڈی حاصل کی ہے وہ دوبارہ ڈی این اے کروائے ،کراچی یونیورسٹی نے متعدد رپورٹس غلط جاری کی ہیں

عارف اقبال کا مزید کہنا تھا کہ ایک باڈی مرزا وحید میرا بھائی کی تھی جو اس واقعے میں شہید ہوا ،میری والدہ ڈی این اے سمپلنگ کے لئیے گئی تھی ، ابھی تک میری امی ڈپریشن کا شکار ہیں ،ہم نے 25 تک اپنے بھائی کی باڈی کی شناخت کرلی تھی ،ہم ڈی این اے کے علاوہ باقی باڈیز کی شناخت نہیں کر پارہے تھے،ہمیں 26 کو بھی باڈی نہیں دی گئی ہم نے جس باڈی کی شناخت کی تھی وہ باڈی ہمیں بعد میں دینے سے انکار کردیا گیا ،باڈی دوسری فیملی کے حوالے کی گئی ہم نے کوشش کی کہ دوبارہ ڈی این اے ٹیسٹنگ کروائی جائے

عارف اقبال کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں کراچی یونیورسٹی نے بالکل اچھے طریقے سے گائیڈ نہیں کیا ،ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے سیمپلز پنجاب تک پہنچائیں ،وہاں سے جو رزلٹ آئے اس کے مطابق ہماری باڈی دوسری فیملی کے حوالے کر رہے تھے ،ایسی لاتعداد کہانیاں ہیں جو اس واقعے کے بعد سامنے آئیں،50 دن کے اندر یہ تمام ڈی این اے سیمپلز ختم کردیں گے ،احمد مجتبی کی باڈی کا ابھی تک بھی پتا نہیں ہے ،ہمارا مطالبہ ہے کہ سیمپلز پنجاب لیب کو بھجوائے جائیں آج تک ائیر بلو کے لواحقین کو ڈی این اے رپورٹس نہیں ملی

دوسری جانب ین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے سربراہ اور کامسٹیک کے کوارڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا ہے کہ ہوائی حادثے کا شکارمسافروں کی سوختہ لاشوں کی تشخیص کا انتہائی پیچیدہ عمل سندھ فرانزک ڈی این اے اور سیرولوجی لیبارٹری (ایس ایف ڈی ایل)، جامعہ کراچی کے تحت بین الاقوامی معیارکے مطابق تمام تر باریک بینی اور سو فیصد مصدقہ نتائج کے ساتھ مکمل ہوا ہے،اس پورے سانحے میں سندھ فرانزک ڈی این اے لیبارٹری کا تعلق صرف تجزیے اور تحلیل سے رہا ہے جبکہ سیمپلنگ، کوڈنگ، ٹیگنگ اور لاشوں کی ان کے ورثاء تک منتقلی کا عمل میڈیکو لیگل ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری تھی۔

اس موقع پر ایس ایف ڈی ایل، جامعہ کراچی کے انچارج ڈاکٹر اشتیاق احمدسمیت دیگر آفیشل بھی موجود تھے۔ پروفیسر اقبال چوہدری نے کچھ ناسمجھ لوگوں کی جانب سے اور ایک نجی چینل کے ٹالک شو میں ڈی این اے سے متعلق تجزیوں پر بے بنیاد الزام تراشیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ مخصوص عناصرسندھ کی پہلی فرانزک ڈی این اے لیبارٹری کے خلاف میڈیا مہم چلانے میں مصروف ہیں۔ ہوائی حادثے کا شکارمسافروں کی سوختہ لاشوں کی تشخیص کرنے کا تحقیقی وظیفہ پاکستان کی اس جدید لیبارٹری کو سونپا گیا تھا،

انھوں نے کہا کہ لیبارٹری کو تمام سیمپل پولیس سرجن کی نگرانی میں میڈکو لیگل آفیسر سے موصول ہوئے۔

ڈاکٹر اشتیاق احمدنے کہا پنجاب فرانزک سائینس ایجنسی نے غیر ضروری اور غیر قانونی طور پر یعنی اعلیٰ حکام کی اجازت کے بغیر سندھ فرانزک ڈی این اے لیبارٹری کے تحقیقی امور میں مداخلت کرنے کی بھی کوشش کی، ان کی ٹیم نے 23 مئی کو ایس ایف ڈی ایل کا اچانک دورہ کیا اور غیر قانونی طور پر سیمپل اور کیس ریکارڈ بھی طلب کیا جبکہ ایسا کرنا ایس ایف ڈی ایل کے لیے ممکن نہ تھا لیکن پنجاب فرانزک ایجنسی نے براہ راست لاشوں کے سیمپل غیر قانونی طور پر حاصل کیے، انھوں نے بنیادی تحقیقی اصولوں کی پاسداری نہیں کی لہذا ان کے نتائج میں درستگی کی کمی یقینی ہے۔

انھوں نے کہا سندھ فرانزک ڈی این اے لیبارٹری تمام تر تحقیقی ریکارڈ رکھتی ہے اورادارے میں کی جانے والی تحقیق کی درستگی کو ثابت کرسکتی ہے۔

جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

اے ٹی سی کی وائس ریکارڈنگ لیک،مگر کیسے؟ پائلٹ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مبشر لقمان نے اٹھائے اہم سوالات

کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات

طیارے کا کپتان جہاز اڑانے کے قابل نہیں تھا،مبشر لقمان کھرا سچ سامنے لے آئے

اگلی سپر پاور چین ہو گا، سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے اہم انکشافات

سول ایوی ایشن اتھارٹی ،طیارہ حادثات میں مرنیوالوں کا قاتل کون؟ ہم نہیں چھوڑیں گے، مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

وہ قوم جو ہر سال 200 ارب جلا ڈالتی ہے، سنیے سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کی زبانی

جہازکریش، حقائق مت چھپاؤ ، جواب دو، مبشر لقمان کا پالپا کو کھلا چیلنج

کاش. پی آئی اے والے یہ کام کر لیتے تو PK8303 کا حادثہ نہ ہوتا، سنیے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشافات

ماشاء اللہ، پی آئی اے کے پائلٹ ماضی میں کیا کیا گل کھلاتے رہے ؟سنئے مبشر لقمان کی زبانی

سول ایوی ایشن نے گونگلوؤں سے مٹی جھاڑ دی،پائلٹ کوذمہ دار ٹھہرانے کا لیٹر کیوں جاری کیا گیا؟ سنئے مبشر لقمان کی زبانی

طیارہ حادثہ،ابتدائی رپورٹ اسمبلی میں پیش، تحقیقاتی کمیٹی میں توسیع کا فیصلہ،پائلٹس کی ڈگریاں بھی ہوں گی چیک

واضح رہے کہ ڈاکٹر پنجوانی سینٹر فار مالیکولر میڈیسن اینڈ ڈرگ ریسرچ، جامعہ کراچی کے تحت اس جدید ڈی این اے اور سیرولوجی لیبارٹری کا قیام شعبہئ صحت حکومتِ سندھ کے مالی تعاون سے عمل میں آیا تھا، یہ سندھ میں اپنی نوعیت کی پہلی فرانزک لیبارٹری ہے جسے جمیل الرحمن سینٹر فار جینومکس ریسرچ میں قائم کیا گیا ہے، اس سلسلے میں بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی اورشعبہئ صحت سندھ کے درمیان ایک ایم او یو پر بھی دستخظ ہوئے تھے جبکہ سپریم کورٹ پاکستان کے جسٹس فیصل عرب کی زیرِ نگرانی اس لیب کا قیام عمل میں آیا تھا۔

طیارہ حادثہ، تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل