fbpx

ٹھٹھہ : مظلوموں کی آواز صحافی، بالخصوص خواتین صحافیوں کے تحفظ کے لئے قانون سازی نا گزیر ہے

باغی ٹی وی ،ٹھٹھہ( نامہ نگار راجا قریشی) مظلوم صحافیوں کی آواز بالخصوص خواتین صحافیوں کے تحفظ کے لئے قانون سازی نا گزیر ہے
تفصیلات کے مطابق مظلوم کی آواز صحافی بالخصوص خواتین صحافیوں کے تحفظ کے لئےقانون سازی نا گزیر ہے۔ تفصیلات کے مطابق سماجی بہبود ٹھٹہ کی تنظیم مظلوم کی آواز کے صدر عبد القیوم شیخ نے صحافیوں اور دیگر سماجی محنت کش خواتین کے پیشہ ورانہ تحفظ کے لیئے اقدامات کی اشد ضرورت ہے گزشتہ کچھ روز قبل وزیر آباد میں یکم نومبر 2022ء نجی ٹی وی کے ادارے سے وابستہ خاتون صحافی صدف نعیم کی پیشہ ورانہ زمہ داریاں نبھاتے ہوئے ایک حادثے میں ناگہانی موت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ملک میں صحافیوں بالخصوص خواتین میڈیا کارکنان کے تحفظ کے حوالے سے قانون سازی بلا تاخیر کیجائے یہ بات سماجی بہبود کے صدر نے مظلوم کی آواز میں جنرل باڈی میٹنگ کے دوران انہوں کا کہنا تھا کہ میڈیا پاکستان سٹیزن پریس کے صحافیوں کو جاری کردہ بیان میں صدف نعیم کی کارکردگی پر پیش آنے والا اچانک حادثہ جو ایک المیہ اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ مرحومہ صحافی کے اہلخانہ کے لیئے امدادی رقوم فی الفور جاری کی جائیں وفاق اور سندھ میں جرنلسٹ سیفٹی اینڈ پروٹیکشن کا قانون موجود ہے مگر پنجاب بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں ابھی تک یہ قانون متعارف نہیں کروایا گیا صحافیوں سمیت خواتین محنت کش کارکنان کے لیئے قوانین ناکافی بھی ہیں اور ان پر عملدرآمد بھی نہ ہونے کے برابر ہے پنجاب میں صحافی کارکنان کے تحفظ کے قانون کے اجراء کی فل فور ضرورت ہے اس کے ساتھ ساتھ آجر ادارے کی زمہ داری ہے کہ رپورٹرز کو خطرناک حالات میں رپورٹنگ کے حوالے سے سہولیات مناسب لباس اور ہدایت فراہم کرے تاکہ رپورٹرز کی سلامتی کو لاحق خطرات کو کم سے کم کیا جاسکے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صحافت ہی نہیں بلکہ ہر شعبے میں خواتین محنت کشوں کو پیشہ ورانہ تحفظات کے حوالے سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں خاص طور پر کام کے اوقات کار ہراسانی ناسازگار ماحول پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے دوران انسانی زندگی کو درپیش خطرات ہنگامی حالات سے نمٹنے کے حوالے سے تربیت کا فقدان اور تحفظ کے آلات کی عدم فراہمی کیوجہ سے بڑے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔