fbpx

افغانستان میں امن،خوشحالی اورترقی سب کےمفاد میں:دنیا بھرپورساتھ دے:وزاعظم کاامریکی ٹی وی کوانٹریو

اسلام آباد:افغانستان میں امن،خوشحالی اورترقی دنیا کےمفاد میں ہے:دنیا خوشحال افغانستان کےلیےساتھ دے:وزاعظم کاامریکی ٹی وی کو انٹریو ،اطلاعات کے مطابق امریکی ٹی وی کو انٹریو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن ، خوشحالی اورترقی دنیا کے مفاد میں ہے اورپرامن افغانستان کے لیے اب دنیا کوآگے بڑھنا چاہیے ، پاکستان کے ساتھ مل کرایک نئے سفرکا آغازکرنا چاہیے

افغانستان میں امن،خوشحالی اورترقی دنیا کےمفاد میں ہے:دنیا خوشحال افغانستان کےلیےساتھ دے:وزاعظم کاامریکی ٹی وی کو انٹریووہاں کیا ہونے والا ہے کوئی پیشگوئی نہیں کر سکتا، افغانستان کی خواتین بہت بہادر اور مضبوط ہیں، وقت دیا جائے وہ اپنے حقوق حاصل کر لیں گی۔ وہاں کی خواتین کو باہر سے کوئی حقوق نہیں دلوا سکتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ خواتین کو حقوق مل جائیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ طالبان عالمی سطح پر خود کو تسلیم کرانا چاہتے ہیں۔ طالبان چاہتے ہیں عالمی برادری انہیں تسلیم کرے۔ افغانستان میں کٹھ پتلی حکومت کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔خطے کا امن افغان عوام سے جڑا ہے، 20 سال میں وہاں پر عوام نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ دنیا طالبان کو انسانی حقوق کے معاملے پر وقت دے لیکن امداد کے بغیر انتشار کا اندیشہ ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ہمیں بتایا تھا کہ افغان طالبان پورے افغانستان پر مکمل قبضہ نہیں کر پائیں گے۔ اگر وہ عسکری طریقے سے کنٹرول حاصل کریں گے تو سول وار ہونے کا خدشہ ہے، جس سے ہم خوفزدہ تھے کیونکہ پاکستان نے سب سے زیادہ نقصان برداشت کیا، دنیا کو ایک جائز حکومت بنانے اور اپنے وعدوں پر عمل کرنے کے لیے افغانستان میں حکومت کو وقت دینا چاہیے۔

افغانستان سے انخلاء پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں افغان طالبان کے قبضے کے بعد امریکی صدر جوزف بائیڈن سے ٹیلیفون پر رابطہ نہیں ہوا حالانکہ پاکستان امریکا کا نان نیٹو اتحادی ہے، میں محسوس کرتا ہوں کہ وہ بہت مصروف ہوں گے۔ لیکن امریکا کے ساتھ رشتہ صرف ایک فون کال پر منحصر نہیں ہے اسے کثیر جہتی تعلقات کی ضرورت ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ پاکستان نے امریکا کیساتھ 20 سال تک ملکر جنگ لڑی، ہم کرائے کے بندوق کی طرح تھے، امریکا سے افغان جنگ جیتا چاہتا تھا۔ جو وہ اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکے۔ بار بار امریکی حکام کو خبردار کیا تھا کہ امریکا عسکری طور پر اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکتا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 11/9 حملے کے بعد دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے ہزاروں لوگ اپنی جان گنوا بیٹھے، ایک موقع پر وہاں 50 عسکریت پسند گروہ ہماری حکومت پر حملہ کر رہے تھے، امریکا نے پاکستان میں 480 ڈرون اٹیک کیے۔

میزبان کی طرف سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان افغان طالبان کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کی پوزیشن میں تھا،اس سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کسی اور کی جنگ لڑنے کے لیے ہم اپنے ملک کو تباہ نہیں کر سکتے۔ افغان طالبان ہمارے ملک پر حملہ نہیں کر رہے تھے۔ اگر اس وقت میں حکومت میں ہوتا تو امریکی انتظامیہ کوبتاتاکہ افغان طالبان کیخلاف ہم اپنی فوج استعمال نہیں کریں گے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے لوگوں کی خدمت کرنی ہے اور میرے ملک کے لوگ میری ذمہ داری ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں شورش سے پاکستان بھی زیادہ متاثر رہا ہے، وہاں 40 سالوں کے بعد امن قائم ہوسکتا ہے، افغانستان سے متعلق ایک بڑا مسئلہ مہاجرین بھی ہے، عالمی برادری مدد کرے تو افغان مہاجرین کا مسئلہ بھی حل ہوسکتا ہے، طالبان بحران سے بچنے کے لیے عالمی امداد کی تلاش میں ہیں