fbpx

لاہور ہائیکورٹ نے دعا زہرا کے شوہرکی حفاظتی ضمانت منظور کرلی

لاہور ہائیکورٹ نے دعا زہرا کے شوہر ظہیر احمد کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی۔

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عالیہ نیلم نے ظہیر احمد کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔

عدالت نے ظہیر کے وکیل سے سوال کیا کہ کب کی ایف آئی آر درج ہے، اس پروکیل نے بتایا کہ 16 اپریل کو اغواکی ایف آئی آر درج کی گئی تھی، عدالت نے پوچھا تو ابھی تک آپ کیا کررہے ہیں؟ آپ کوکیسے پتا چلا پولیس درخواست گزارکو گرفتارکرناچاہتی ہے؟-

دعا زہرہ کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے تو ظہیر کیخلاف قانونی کاروائی کی جائے،والد

اس پر وکیل نے کہا کہ تفتیشی افسرکا بیان ہےکہ وہ معاملےکی دوبارہ تفتیش کررہے ہیں خدشہ ہے کہ پولیس درخواست گزار کو گرفتار کر لے گی لہٰذا عدالت حفاظتی ضمانت منظور کرے تاکہ متعلقہ عدالت سے عبوری ضمانت لی جاسکے۔

بعد ازاں عدالت نے ظہیر احمد کی 14 جولائی تک حفاظتی ضمانت منظور کرتے پولیس کو درخواست گزار کی ممکنہ گرفتاری سے روک دیا۔

واضح رہے کہ دعا زہرا کے شوہر ظہیر احمد نے حفاظتی ضمانت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا ظہیر احمد کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ دعا زہرا سے نکاح کیا ہے، الزام لگایا جارہا ہےکہ دعا کو اغوا کیا ہے، خدشہ ہےکہ پولیس گرفتار کرلے گی لہٰذا حفاظتی ضمانت منظور کی جائے۔

دعا کیجیے گا ہماری دعا ظالموں کے چنگل سے آزاد ہو،دعا زہرہ کے والدین کی اپیل

دعا زہرہ کیس،عمر کے تعین کیلئے ایک بار پھر میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم

یاد رہے کہ دعا زہرہ نے گھر سے بھاگ کر شادی کر لی تھی، دعا زہرہ کے شوہر ظہیر احمد کا کہنا ہے کہ کہ دعا اور میرا رابطہ پب جی گیم کے ذریعے ہوا اور پچھلے تین سال سے ہمارا رابطہ تھا دعا زہرہ کراچی سے خود آئی ہے دعا نے میرے گھر کے باہر آکر مجھے میسج کیا وہ رینٹ کی گاڑی پر آئی تھی میرے گھر والے شادی پر آمادہ تھے میرے گھر والے بھی چاہتے تھے کہ دعاکے گھر والے رضامند ہوں لیکن دعا کے گھر والوں نے شادی کیلئے مثبت جواب نہیں دیا اسی وجہ سے یہ خود اپنا گھر چھوڑ کر آ گئی-

کل کہیں گے افغانستان سے سگنل آرہے ہیں تو ہم کیا کرینگے؟ دعازہرہ کیس میں عدالت کے ریمارکس

والدین سے نہیں ملنا چاہتی،دعا زہرہ کا عدالت میں والد کے سامنے بیان