fbpx

لٹل ڈریگن، ایم ایم عالم تحریر : اقصٰی صدیق

ایم ایم عالم 6 جولائی 1935ء کولکتہ کے ایک تعلیم یافتہ خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ 11 بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے، آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم 1951 ء گورنمنٹ ہائی سکول ڈھاکہ میں مکمل کی۔
1952 ء میں پاکستان ائیر فورس میں شمولیت اختیار کی، اور 2 اکتوبر 1953 ء کو انہیں کمیشن دیا گیا۔
ایم ایم عالم کو بچپن ہی سے پائلٹ بننے کا شوق تھا جبکہ ان کے والد انہیں سی ایس ایس آفیسر بنانا چاہتے تھے۔
فورس میں شامل ہونا ان کا خواب تھا، سو اس خواب کی تعبیر کے لیے انہوں نے لڑائی کی باقاعدہ تربیت بھی حاصل کی۔
جب ہندوستان کی تقسیم ہو رہی تھی اور مسلمانوں پر ہندوؤں کے حملوں اور مظالم کی خبریں آ رہی تھیں، اس دور میں ایم ایم عالم اپنے پاس اپنی حفاظت کے لیے چاقو رکھتے تھے۔
قیام پاکستان کے کچھ عرصے بعد ان کا خاندان پاکستان آگیا۔ ایم ایم عالم اپنے خاندان کے پہلے فرد تھے جنہوں نے ایئرفورس جوائن کی۔
1965 ء میں وہ سرگودھا ائیر بیس میں تعینات تھے کہ بھارتی ائیر فورس نے حملہ کر دیا۔
اس موقع پر ملک کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کے 5 جہاز مار گرائے، جبکہ پہلے 30 سیکنڈ میں 4 بھارتی طیاروں کو گرانے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔
1965ء کی اس جنگ میں ان کی جرأت و بہادری کو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
یہی کارنامہ ان کی وجہ شہرت بنا اور اسی بناء پر انہیں ستارہ جرأت کے اعزاز سے نوازا گیا۔جبکہ اسی وجہ سے انہیں” لٹل ڈریگن” بھی کہا جاتا ہے۔
1965ء کی جنگ کے بعد ایم ایم عالم سوویت افغان جنگ میں بھی شریک رہے اور 1982 ء میں ائیر کموڈور کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے کراچی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔اور ان کا زیادہ تر رجحان دین کی طرف ہو گیا۔انہوں نے خود کو تبلیغِ اسلام کے لیے وقف کر دیا۔
اوائل عمر ہی سے ایم ایم عالم کو کتب بینی کا شوق تھا۔کتابیں جمع کرنا اور پڑھنا ان کا مشغلہ اور جنون تھا۔
ایم ایم عالم کی خدمات کے اعتراف میں گلبرگ لاہور کی ایک سڑک کو ” ایم ایم عالم روڈ” کا نام بھی دیا گیا۔
اپنے گھر اور چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داریاں سنبھالنے اور انہیں معاشرے کے مفید اور قابل افراد بنانے کے لیے ایم ایم عالم نے شادی نہیں کی۔
ایم ایم عالم کی بھرپور کوشش اور محنت کے بدولت ہی ان کے چھوٹے بھائیوں نے تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی میں کارہائے نمایاں سر انجام دئیے۔
ایم ایم عالم کے ایک بھائی شاہد عالم معاشیات کے استاد، جبکہ دوسرے بھائی ماہر طبیعیات تھے۔
ایم ایم عالم نے اپنے ائیر فورس کیرئیر کے دوران بہت سے کورسز کیے، ان میں فائٹر کنورژن کورس، فائٹر لیڈر کورس، پی اے ایف اسٹاف کالج کورس، امریکہ سے اورینٹیشن ٹریننگ کورس اور برطانیہ کے رائل کالج آف ڈیفنس اسٹڈیز کا کورس شامل ہے۔
ایم ایم عالم کے نام سے مشہور ائیر کموڈور (ریٹائرڈ) محمد محمود عالم طویل علالت کے بعد بالآخر 18 مارچ 2013 ء کو 78 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
ایم ایم عالم 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے ہیرو قرار پائے۔
ان کی اسی جرأت و بہادری سے متاثر ہو کر ہزاروں نوجوانوں نے پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔
ایم ایم عالم نے اسی اسپتال میں دم توڑا، جہاں وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے زیرِ علاج تھے۔
ایم ایم عالم کافی عرصہ سے سانس کی بیماری میں مبتلا تھے، تاہم عمر کے آخری حصے میں ان کی صحت زیادہ خراب ہو گئی تھی۔
اُن کی نماز جنازہ مسرور بیس میں ادا کی گئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے چند شاندار برس گزارے تھے۔
بعد ازاں انہیں مسرور ائیر بیس ہی میں واقع شہداء قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
ایم ایم عالم اپنی جرات بہادری سے فضائیہ کی تاریخ کا نیا باب رقم کر گئے۔

@_aqsasiddique