سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹنگ اجلاس،لائیو کرکٹ ایونٹس کے حوالے کمیٹی کو بریفنگ

0
42

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹنگ کا چئیرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں پی ٹی وی حکام نے پی ٹی وی سپورٹس پر لائیو کرکٹ ایونٹس کے حوالے کمیٹی کو بریفنگ دی-

باغی ٹی وی :پی ٹی وی حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پی ٹی وی اسپورٹس پر آئی سی سی کے رائٹس 2023 تک ہیں، پی سی بی کے رائٹس براڈکاسٹ کے 2023 تک ہیں،2012 سے پی ٹی وی اسپورٹس 24/7 چینل بن گیا ہے-

طیب گوندل نامی جعلی صحافی کو ایف آٸی اے ساٸبر کراٸم نے گرفتار کرلیا

چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ ایک دفعہ رات کو پی ٹی وی جانے کا اتفاق ہوا تو دیکھا کہ ایک پرومو 35 منٹس تک چل رہا تھا پی ٹی وی حکام نے کہا کہ اس معاملے کو دیکھ لیں گے کہ ایسا نا ہو آئندہ-

چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ اگلی میٹنگ میں آپ اپنا فونٹ بڑا کر لیں اور پرامٹر لا کر ہمیں سمجھائیں،حکام پی ٹی وی نے جواب میں کہا کہ ہاکی چیمئین شپ، ویمبلٹن ، یو ایس اوپن، انگلش پریمئیر لیگ، فرینچ اوپن جیسے ایونٹس پی ٹی وی اسپورٹس پر لائیو دکھائے جا رہے ہیں-

ایم ڈی پی ٹی وی نے کہا کہ پی ایس ایل کے رائٹس پر بات ہوئی جس میں ہمارے مقابلے میں جیو سوپر تھا جس کو رائٹس نہیں ملے، جو زیادہ پیسے دیتے ہیں اس کو رائٹس مل جاتے ہیں، رائٹس ملنے کیلئے پارٹنر شپ کی ضرورت پڑتی ہے۔

چئیرمین کمیٹی نے پوچھا کیا آپ نے اشتہار دیا تھاسات ارب آپکو سالانہ بجلی کے بلوں میں ملتا ہے پارٹنر کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟ اس کے لئے جواب میں ایم ڈی پی ٹی وی نے کہا کہ جی اگست میں اشتہار دئے تھے پارٹنرشپ کیلئے جیو نے ڈاریکٹ بڈ میں حصہ نہیں لیا، پی ایس ایل رائٹس کے حوالے سے معاملہ کورٹ میں ہے جو جواب کورٹ میں جمع کرایا ہے کمیٹی میں لے آئیں گے-

سرینا عیسٰی ایک بار پھر میدان میں، کس کیخلاف کیا کاروائی کا مطالبہ؟

چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ لائیو کرکٹ کے علاوہ پروگرامز میں بہتری کی بہت گنجائش ہے، جیو سوپر، اے اسپورٹس کے پروگرامز پی ٹی وی اسپورٹس سے کہیں زیادہ اچھے ہیں، لائیو ایونٹ اچھے ہیں لیکن پروگرامز میں بہتری لانے کی ضرورت ہے پی ٹی وی ہوم پر آپ ڈرامے ریپیٹ چلا رہے ہیں لیکن ان کورائلٹی نہیں دے رہے، آپ اس سے پیسی کما رہے ہیں لیکن شئیر باقی ایکٹرز اور گانے والوں کو نہیں دے رہے پہلے پی ٹی وی رائلٹی دیتا تھا-

کمیٹی تجویز دیتی ہے کہ جلد سے جلد ان کو رائلٹی دی جائے80 کی دہائی میں اداکاروں کے گھر چیک جایا کرتے تھے جو ابھی کام نہیں کر رہے اور بہت بہتر اداکار تھے ان کو رائلٹی ملنی چاہئے ، یہ لوگ اپنا علاج نہیں کراسکتے-

پی ٹی وی حکام نے بتایا کہ دو تین مہینے میں اپگریڈیشن لا رہے ہیں آپ کو بہتری نظر آئے گی-

سیکرٹری انفارمیشن نے کہا کہ آرٹسٹس ویلفئیر فنڈز اداکاروں کیلئے ہے پہلے انفامیشن منسٹری کے انڈر تھا ابھی کلچرل ہیریٹیج کے پاس ہے جس کو صدر ہیڈ کرتے ہیں پی ٹی وی میں بھی ایک فنڈ قائم کرنا چاہئے-

سات اے سی مری تبدیل ہوئے، کیا کوئی سیاسی طاقتور ہے ادھر؟ عدالت

چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ یا تو پرانے ڈرامے چلانے بند کردیں یا ان کو رائلٹی دیں ایم ڈی نے کہا کہ میں دیکھتا ہوں اگر پرانے کنٹریکٹ مل جائے جن کو رائلٹی ملتی ہے-

چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ پرانے کنٹریکٹ کمیٹی کی اگلی میٹنگ میں پیش کریں اور ساتھ یہ بھی بتائیں کہ یہ رائلٹی کیوں اور کس نے ختم کئے، چئیرمین کمیٹی نے پرانے ڈرامے چلانے پر اداکاروں کو رائلٹی دینے کے احکامات جاری کئے اگلی میٹنگ میں سارے کنٹریکٹ کی تفصیلات، پرانے ڈرامے چلانے پر کتنا ریوینیو جنریٹ کیا یہ ساری تفصیلات کمیٹی کو فراہم کریں پرانے اداکار جو کہ بہترین اداکار ہیں ریڑی لگانے پر مجبور ہیں ، پی ٹی وی کو تو ان کا خیال رکھنا چاہئے آپ اداکاروں کے گھر جائیں اور ان کی حالت دیکھیں-

سینیٹر نسیمہ نے کہا کہ جن کی وجہ سے پیسے کما رہے ہیں ان کے پاس دوائیوں کے بھی پیسے نہیں-

چئیرمین کمیٹی نے پی ٹی وی ویلفئیر فنڈز بنانے کی تجویزدی کہا کہ اگلی میٹنگ میں فنڈ کے قیام کے حوالے سے تفصیلات اور مکینزم کے حوالے سے لائحہ عمل کمیٹی کے ساتھ شئیر کریں سینیٹر عرفان صدیقی نے ایم ڈی پی ٹی وی سے پی ٹی وی اور اے آر وائے کی پی ایس ایل 7 ایڈیشن کیلئے براڈکاسٹنگ رائٹس ملنے کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ اگلی میٹنگ میں طلب کرلیں-

شہباز شریف فیملی ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں اہم پیش رفت

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹنگ

ایم ڈی شالیمار ریکارڈنگ اینڈ براڈکاسٹنگ نے کمپنی کی کمیٹی کو بریفنگ دی بتایا کہ اگر کوئی اقدامات نا اٹھائے گئے تو لائیبلٹی مزید بڑھے گی سیلری میں لائبلٹی 207 ملین جبکہ مجموعی طور پر ایک بلین سے زائد کی لائبلٹیز ہیں ہمارے حالات بہت برے ہیں، مسئلے پر قابو پانے کیلئے شئیر ہولڈرز بھی ہیں اور حکومت بھی ون ٹائم پیپمنٹ کر سکتی ہے-

ایم ڈی نے بتایا کہ 2018 میں یہ ادارہ منافع میں تھا اس کے بعد 2018 سے یہ ادارہ نقصان میں چلا گیا اب تقریبا ۴۵۰ ملین نقصان میں ہیں،ادارے میں نئی برتیاں نہیں ہورہی ہیں اس وقت ۳۶۰ ملازمین ہیں ۲۱۰۸ میں ۲۵ کروڑ کی لائبلٹیز تھیں-

چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ اس وقت پاکستان کا کوئی انٹرنیشنل چینل نہیں ہے باہر کای ہوٹل میں جائیں تو ہر جگہ انڈیا کے چینلز ہیں اور وہ پاکستان کے خلاف پروپیگینڈا کرتا رہتا ہے، ایک اعلی انگلش نیوز چینل کی ضرورت ہے-

مہناز بیگم کی آج 9 ویں برسی منائی جا رہی ہے

ایم ڈی ایس آر بی سی نے بتایا کہ ہمارا پلان ایک بہترین انگلش نیوز چینل لانے کا ہے، نئی بلڈنگ بھی بنانے جا رہے ہیں-

عرفان صدیقی نے کہا کہ ادارے پہلے ہی نقصان میں تو نئے بلڈنگ کی کیا ضرورت ہے،پی ٹی وی ورلڈ کو بہترین بنایا جا سکتا ہے-

ایم ڈی ایس آر بی سی نے کمیٹی کو بتایا کہ اس طرح کی پالیسی بنا رہے ہیں کہ ایک بیم پر ۵ پراڈکٹ چلیں گے،4 بیمز کو الوکیٹ کر رہے ہیں –

چئیرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایک اچھی چیز ہے، ادارے کو بہتر بنانے کا یہی ایک بہترین طریقہ ہے-

ایم ڈی ایس آر بی سی کا کہنا تھا کہ بچوں کا چینلز اور ایف ایم ریڈیو 94.6 میگا ہرٹز بھی لا رہے ہیں جس کی بڈنگ آج ہونی ہے، نئی بلڈنگ میں 4 ایم سی آر بنائیں گے

چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ پی ٹی وی کی بلڈنگ کو یونیورسٹی یا ریسرچ سنٹر بنایا جا سکتا ہے اور پی ٹی وی کو شالیمار کی نئی بلڈنگ میں جگہ دی جا سکتی ہے-

سینیٹ اطلاعات و نشریات کمیٹی

سینیٹر فیصل جاوید نے کمیٹی میں کہا کہ پی ٹی وی پہ پرانے ڈرامے چلائے جاتے ہیں پرانے اداکاروں نے ڈراموں میں کام کیا آج گھر پہ بیٹھے ہیں پی ٹی وی پیسے بناتا ہے لیکن اداکاروں کو رائلٹی نہیں ملتی-

ڈرامہ "سونا چاندی” کےمصنف "منو بھائی” کودنیا سے رخصت ہوئے 4…

ایم ڈی پی ٹی وی کا کہنا تھا اداکاروں کیساتھ جو معاہدہ کیا جاتا ہے اس کو دیکھنا پڑھتا ہے،

سینیٹر فیصل جاوید نے بتایا کہ 1980 میں پی ٹی وی رائلٹی دیتا تھا، قوی خان، عابد علی کیساتھ جو معاہدے ہوئے آپ نہیں دکھا سکتے آپ پریکٹس کی بات کریں، ڈرامے بند کریں یا اداکاروں کو پیسے پہنچائیں جس کے کہنے پہ رائلٹی دینا بند ہوئی کمیٹی کو آگاہ کیا جائے-

سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ امیر اداکاروں کو رائلٹی کی ضرورت نہیں لیکن غریب اداکار مشکل حالات میں ہیں اسماعیل شاہد دلیپ کمار سے بھی بڑے اداکار ہیں رشید ناز نے پوری زندگی پی ٹی وی کیلئے کام کیا،پوری دنیا میں اداکاروں کو رائلٹی ملتی ہے آپ پٹھانے خان، ناہید اختر کے گانے چلاتے ہیں لیکن پیسے نہیں دیتے-

سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ فوری طور پر رائلٹی دینا شروع کریں،پچھلے ایک سال میں جتنے ڈارمے چلے تفصیلات کمیٹی کے سامنے پیش کریں،ایم ڈی پی ٹی وی صاحب آپ کو پرانے اداکاروں کے گھروں میں جانا چاہیے،پرانے اداکاروں کے حالات بہت خراب ہیں،فوری طور پی ٹی وی ویلفیئر فنڈ دیں اور ہمیں آگاہ کریں-

عرفان صدیقی نے کہا کہ پی ٹی وی ملازمین بھی مشکلات کا شکار ہیں،سالہا سال سے لوگ کنٹریکٹ پہ ہیں پرانی تنخواہ پہ کام کررہے ہیں،کچھ لوگ لاکھوں میں تنخواہ لے رہے ہیں،کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہیں بڑھا دی ہیں،ہوسکتا ہے کسی کی رہ گئی ہوں-

چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ پی ٹی وی کو کیوں اتنی بڑی بلدنگ کی ضرورت ہے اس حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کریں، چئیرمین کمیٹی نے اگلی میٹنگ میں پی ٹی وی کی ملک بھر میں بلڈنگز اور اثاثوں کی تفصیلات بھی طلب کرلیں-

زیرخزانہ شوکت ترین بھی کورونا وائرس کا شکار،ای سی سی اجلاس ملتوی

عرفان صدیقی نے کہا کہ نئے بلڈنگ بنانے اور خالی کرانے اور بیچنے کی ضرورت نہیں بلکہ ان کی کارکردگی کو بہتری بنانے کیلئے ان کی مدد کرنی چاہئے، پی ٹی وی کو مزید مضبوط بنانا چاہئے اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے-

چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ پی ٹی وی آرام سے دیگر کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے، پی ٹی وی بہت بڑا نیٹورک ہے سارے پاکستان میں اداروں کو فوٹیجز بیچھتا ہے، ارطغرل کی شکل میں معیاری پروڈکشن آئی تو ساروں نے پی ٹی وی دیکھنا شروع کیا جبکہ یو ٹیوب پر ریکارڈ تھوڑے-

سیکٹری انفارمیشن نے بتایا کہ اب ہم ٹیپو سلطان ، بابر پر ڈرامہ پبلک پرائویٹ پارٹنرشپ میں بنانے جا رہے ہیں-

چئیرمین کمیٹی نے بتایا کہ پی ٹی وی نیوز پر شہباز شریف کی تقاریر دکھائی جاتی ہے جبکہ پہلے عمران خان کی تقریر نہیں دکھائی جاتی تھی، پی ٹی وی پر بلاول بھٹو اور خواجہ آصف کی تقاریر بھی دکھائی جاتی ہیں جبکہ پہلے ایسا نہیں تھا اس پر پی ٹی وی داد کی مستحق ہے-

چئیرمین کمیٹی نے اگلی میٹنگ اے پی پی سے دوبارہ بریفنگ طلب کرلی اے پی پی اگلی میٹنگ میں بتائے کہ اگر اے پی پی نا ہو تو ملک کو کیا نقصان ہوگا؟ اے پی پی میں ایڈیٹر کی پوسٹ ابھی خالی ہوگئی ہے اور ایڈیٹر 20 گریڈ کا افسر ہوتا ہے یہ 113 خالی پوسٹوں پر بھرتیاں کب کریں گے-

ایم ڈی اے پی پی نے کہا کہ ان 113 پر بھرتیاں نہیں کریں گے بلکہ اس کو مزید ریفائن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کچھ عرصے میں 360 ڈگری ڈیجیٹل ایجنسی بن جائیں گے-

چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ اپگریڈیشن جو آپ کر رہے ہیں یہ بہت بڑا کام ہے-

سارہ گِل پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر بن گئی

عرفان صدیقی نے کہا کہ مسئلہ چل رہا ہے کہ فلاں پرائیویٹ چینل کو سپورٹس نشریاتی حقوق دے دیے گئے ہیں کیا معاملہ اب عدالت میں ہے ، پی ٹی وی سپورٹس حکام نے کہا جی بالکل اب معاملہ عدالت میں ہے –

سینیٹر فیصل جاوید نے پی ٹی وی حکام سے سوال کیا کہ کیا آپ نے اشتہار دیا تھا؟-

پی ٹی وی حکام نے بتایا کہ پی ایس ایل نشریاتی حقوق ایڈورٹائز ہوئے تھے ،جی بالکل ہم نے اگست میں پارٹنر شپ کے لیے اشتہار دیا تھا ،جیو نے براہ راست بڈ میں حصہ نہیں لیا ،پی ایس ایل پر جیو بڈ ہار گیا ، اب وہ کہہ رہے ہیں کہ کچھ معاملات کو فالو نہیں کیا گیا رائٹس ملنے لے لیے پارٹنرشپ کی ضرورت ہوتی ہے جیو کو کچھ چیزوں کو پتہ ہی نہیں تھا جسکی وجہ سے بڈ ہار گئے –

عرفان صدیقی نے کہا کہ پی ٹی وی اسپورٹس کوریج حقوق کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کریں ،کیا اسپورٹس کوریج حقوق دینے میں کیا تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ؟ کیا اس کے اشتہارات دیے گئے تھے عدالت میں جمع کرائے گئے تمام جواب کمیٹی کے سامنے پیش کریں-

ایم ڈی نے بتای کہ پی ایس ایل حقوق کے حوالے سے معاملہ عدالت میں ہے ، ہم نے اس حوالے سے جواب عدالت میں جمع کرایا ہے کمیٹی میں رپورٹ جمع کرا دیں گے-

معروف براڈ کاسٹریاور مہدی طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے

ایم ڈی اے پی پی نے بھی کمیٹی کو بریفنگ دی ،بورڈ آف ڈاریکٹرز کے 11 ممبرز ہیں مقامی سطح پر نمائندوں کے علاوہ 4 فارن نمائندے بھی ہیں، نئی دہلی اور نیو یارک میں بھی ہیں

جو فارن نمائندے ہیں ان کی سلیکشن کا طریقہ کار کیا ہے؟ ایم ڈی اے پی پی نے بتایا کہ نسٹ اور نمل یونیورسٹی ان کا تحریری ٹیسٹ لیتی ہے اور انٹرویوز بھی ہوتے ہیں زبان کی روانی بھی دیکھی جاتی ہے سارے باہر موجود نمائندے پاکستان سے متعلق ساری خبریں بھیجتے ہیں اور یہاں باقی چینلز کو بھی فراہم کی جاتی ہیں-

چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ جو خبریں باہر سے آتی ہیں اور آپ دیگر چینلز کو دیتے ہیں تو اسکا کریڈٹ کس کو جاتا ہے،دیگر چینلز کو چاہئے کہ وہ اے پی پی کی خبروں کا حوالہ دیا کرے-

ایم ڈی اے پی پی نے بتایا کہ ہم دیگر علاقائی زبانوں کے علاوہ عربی، چینی زبان میں بھی سروسزمہیا کرتے ہیں،جن ٹی وی چینلز نے اے پی پی کی سبسکرپشن لی ہے ماہانہ کم سے کم 25 ہزار روپے چارجز ہیں جبکہ اخبار کی بھی یہی ریٹ ہیں-

ن لیگ نے چوری کے ٹرک کی تاویل ایسی پیش کی کہ پھرٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا

Leave a reply