عمران خان سائفر کیس:ایف آئی اے کی سماعت اِن کیمرہ کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

عدالت نے کہا کہ سائفر کا اصل گھر وزارت خارجہ ہے، سائفر آتے کیسے ہیں؟
0
8
islamabad highcourt

‏اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت پر چیف جسٹس ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ لائیو سٹریمنگ ہو گی ضرور ہو گی،ہم نے یہ معاملہ فُل کورٹ کے سامنے رکھا ہے-

باغی ٹی وی: ضمانت کی درخواست پر اِن کیمرہ سماعت کی ایف آئی اے کی درخواست پر بھی سماعت جاری ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق درخواست پر سماعت کر رہے ہیں،چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ کیا آپ نے ایف آئی اے کی اِن کیمرہ سماعت کی درخواست دیکھ لی ہے،وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ میں عدالت کے سامنے کچھ گزارشات رکھنا چاہتا ہوں، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پراسیکیوشن نے درخواست دی ہے پہلے انہیں دلائل دینے دیں، ٹرائل کا معاملہ الگ ہے، کیا ضمانت کی سماعت بھی اِن کیمرہ ہو سکتی ہے؟

چیف جسٹس نے وکلاء سے مکالم مجھے اس حوالے سے تو نہیں معلوم، آپ بھی دیکھ لیجئے گا، پراسکیوٹر نے کہا کہ درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران کچھ اہم دستاویزات اور بیانات عدالت کے روبرو رکھنے ہیں ، سپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ کچھ ملکوں کے بیانات بھی ریکارڈ پر لانے ہیں ، پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ کارروائی پبلک ہوگی تو کچھ ممالک کیساتھ تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں ،

شاہ خاور ایڈووکیٹ نے کہا کہ سائفر ایک سیکرٹ دستاویزات ہے، اس دستاویز کو ڈی کوڈ کون کرے گا؟ چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سائفر سے متعلق کوئی کوڈ آف کنڈکٹ یا ایس او پی ہے تو بتا دیں ، میں نے آج تک ان کیمرہ کی درخواست منظور نہیں کی لیکن آپ دلائل دیں سائفر کا کوڈ آف کنڈکٹ بتادیں ، معمول کے مطابق ہم بھی باہر بھجواتے ہوں گے ،جو یہاں سفارتکار ہیں وہ بھی سائفر بھجواتے ہونگے اس دستاویز کو ڈی کوڈ کون کرے گا؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت میں پیش ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سائفر کے کوڈ آف کنڈکٹ سے متعلق آگاہ کیاسائفر سے متعلق کوڈ آف کنڈکٹ عدالت میں پڑھا جارہا ہے-

منور دگل ایڈووکیٹ نے کہا کی کوڈڈ پیغام ہر ملک کا الگ ہے،شاہ خاور ایڈووکیٹ نے کہا کہ سائفر ایک خفیہ دستاویزات ہے جسے ہر صورت خفیہ رکھا جاتا ہے،سائفر وزارت خارجہ آتا ہے، عدالت نے کہا کہ سائفر کا اصل گھر وزارت خارجہ ہے، سائفر آتے کیسے ہیں؟-

پراسیکیوٹر شاہ خاور ایڈووکیٹ نے کہا کہ ای میل یا فیکس کے زریعے کوڈڈ فارم میں آتا ہے،سائفر کو ڈی کوڈ کیا جاتا ہے، بیرون ممالک پاکستان کے سفارت خانوں سے کوڈڈ سائفر بھیجے جاتے ہیں، دفتر خارجہ میں سائفر کو ڈی کوڈ کیا جاتا ہے، چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کہ کیا یہ تمام کوڈز یونیورسل ہوتے ہیں؟

پراسیکیوٹر نے کہا کہ صدر، وزیراعظم، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو سائفر کاپی بھیجی جاتی ہے، سائفر نے تمام جگہوں سے ہو کر واپس دفتر خارجہ آنا ہوتا ہے، دفتر خارجہ میں پہنچنے پر ڈی کوڈ کئے گئے سائفر کو ختم کر دیا جاتا ہے، صرف اصل سائفر دفتر خارجہ میں موجود رہتا ہے-

سلمان صفدر ایڈووکیٹ نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر کہا گیا کہ ہم ایک درخواست دینا چاہتے ہیں، ہم نے کہا تھا جس کو کمرہ عدالت سے باہر نکالنا ضروری ہے نکال دیں ، وکیل چیئرمین پی ٹی آئی سلمان صفدر نے ان کیمرہ سماعت کی درخواست پر دلائل کا آغاز کردیا کہا کہ
گزشتہ سماعت پر کہا گیا کہ ہم ایک درخواست دینا چاہتے ہیں، ہم نے کہا تھا جس کو کمرہ عدالت سے باہر نکالنا ضروری ہے نکال دیں ، چیئرمین پی ٹی آئی پر سائفر کو پبلک کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا، پراسیکیوشن کی سماعت اِن کیمرہ کرنے کی درخواست ہی اُس سے متضاد ہے، ایف آئی اے کی درخواست ہے کہ سماعت اِن کیمرہ کریں کیونکہ کچھ پبلک نہ ہو اگر سائفر پہلے پبلک ہو چکا تو پراسیکیوشن اب کس چیز کو پبلک نہیں ہونے دینا چاہتی-

چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ میں نے 9 سالوں میں کسی کیس کی اِن کیمرہ سماعت کی نہیں، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی پر سائفر کو پبلک کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا، پراسیکیوشن کی سماعت اِن کیمرہ کرنے کی درخواست ہی اُس سے متضاد ہے، آج سرکاری وکلا نے مجھے بہت زبردست گراؤنڈ دیا ہے ، بسرکاری وکلا کہہ رہے ہیں کہ پبلک کو کچھ پتہ نہ چلے ، ایف آئی اے کی درخواست ہے کہ سماعت اِن کیمرہ کریں کیونکہ کچھ پبلک نہ ہو، اگر سائفر پہلے پبلک ہو چکا تو پراسیکیوشن اب کس چیز کو پبلک نہیں ہونے دینا چاہتی-

بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ہمارے تو سارے لوگ آج تیار ہوکر آئے تھے کہ آج عدالتی کارروائی براہ راست دیکھائی جائے گی، یہاں سرکاری وکلا کہہ رہے ہیں کہ سماعت کو ان کیمرہ کردیں،عوام کو کچھ پتہ نہ چلے –

چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کورٹ کی کارروائی براہ راست بھی ہوگی،ابھی اس پر کمیٹی کام کررہی ہے ،

بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ہمارے تو سارے لوگ آج تیار ہوکر آئے تھے کہ آج عدالتی کارروائی براہ راست دیکھائی جائے گی، یہاں سرکاری وکلا کہہ رہے ہیں کہ سماعت کو ان کیمرہ کردیں،عوام کو کچھ پتہ نہ چلے –

چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کورٹ کی کارروائی براہ راست بھی ہوگی،ابھی اس پر کمیٹی کام کررہی ہے ،چیف جسٹس نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی عدالتی کارروائی براہ راست دکھانے کا عندیہ دیدیا-

بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ پراسیکیوشن درخواست ضمانت پر اِن کیمرہ سماعت کی استدعا کر رہی ہے، ہم تو آج تیار ہو کر آئے تھے کہ سماعت کی لائیو سٹریمنگ ہو گی، چیف جسٹس عامر فاروق کے ریمارکس دیئے کہ لائیو سٹریمنگ ہو گی ضرور ہو گی،ہم نے یہ معاملہ فُل کورٹ کے سامنے رکھا ہے-

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کی سماعت اِن کیمرہ کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا ہے کہ سماعت اِن کیمرہ ہو گی یا اوپن کورٹ میں،کیس دوبارہ سماعت کیلئے مقرر کرنے کی تاریخ دینگے،، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ استدعا ہے کہ آئندہ سماعت ایک دو دن میں ہی رکھ لی جائے،چیف جسٹس نے کہا کہ آفس کیس سماعت کیلئے مقرر کر دے گا-

Leave a reply