fbpx

لوڈ شیڈنگ کی وجوہات سامنے آگئیں،سابق حکومت نے پاور پلانٹس کیلئے بروقت فیول کا انتظام نہیں کیا

موجودہ حکومت نے بروقت اقدامات اٹھاتے ہوئے اگست 2022 تک 70 ملین کیوبک فٹ یومیہ آر ایل این جی کا بندوبست کیا

سابق حکومت کی نااہلی کی وجہ سے پاکستان کے عوام اور ملک کو شدید گرمی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، سابق حکومت نے پاور پلانٹس کیلئے بروقت فیول کا انتظام نہیں کیا، سستے اور مقامی بجلی گھروں پر کام میں دانستہ تاخیر کی، عالمی سطح پر ایل این جی کی کم قیمتوں کے وقت طویل المدتی معاہدے نہ کرنے، ڈالر کی قدر میں اضافہ اور سرکلر ڈیٹ بھی لوڈشیڈنگ کی وجوہات ہیں، موجودہ حکومت نے بروقت اقدامات اٹھاتے ہوئے اگست 2022 تک 70 ملین کیوبک فٹ یومیہ آر ایل این جی کا بندوبست کیا ہے،سابق حکومت کی سستی کی وجہ سے کروٹ ہائیڈرو، شنگھائی الیکٹرک اور پنجاب تھرل آر ایل این جی کے 3197 میگاواٹ کے منصوبے اپنی معین مدت میں مکمل نہ ہوسکے۔

دستیاب اعدادوشمار کے مطابق اس وقت ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کی زیادہ تر وجوہات سابقہ حکومت کی 2018 سے 2022 کے دوران غفلت اور کمیشن ہے، بین الاقوامی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں کے باعث پاکستان کے پاور سیکٹر کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، مالیاتی بندش میں تاخیر بھی سابق حکومت کی نااہلی تھی، حکومت پاکستان کی جانب سے ساہیوال کول اور حب جیسے مکمل شدہ منصوبوں کیلئے ریوالونگ اکائونٹ کھولنے میں ناکامی کا نتیجہ یہ نکلا کہ سی پیک کے تحت بجلی کی تیاری کے سلسلہ میں توانائی کے شعبہ کیلئے مزید فنانسنگ نہیں ہے۔

سابق حکومت یا تو سی پیک کے توانائی کے فریم ورک کو سمجھ نہیں سکی یا یہ فریم ورک اس کی سمجھ سے باہر تھا۔ اس سستی کی وجہ سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ نہیں ہوسکا اور اس شعبہ کاگلہ گھونٹا گیا۔ 720 میگاواٹ کا حامل کروٹ ہائیڈرو پراجیکٹ فروری 2022ء میں مکمل ہونا تھا تاہم یہ منصوبہ اب جولائی میں مکمل ہوا ہے۔ 1214 میگاواٹ کا تھرکول بلاک اور معدنیاتی شنگھائی الیکٹرک منصوبہ کی تکمیل مئی 2022ء میں ہونا تھی تاہم اب یہ مئی 2023ء میں مکمل ہونا ہے۔

اسی طرح اعلیٰ کارکردگی کا حامل 1263 میگاواٹ کا پنجاب تھرمل آر ایل این جی پاور پلانٹ جھنگ پی ٹی آئی کی حکومت کی وجہ سے تین سال سے زیادہ تاخیرکا شکار رہا۔ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق فیول مکس کی عدم دستیابی کی وجوہات میں آر ایف او کی عدم دستیابی ہے۔ 30 جون 2022 تک آئل انڈسٹری (او ایم سیز اور ریفائنریز) کے پاس دستیاب آر ایف او کے موجودہ ذخائر دو لاکھ 77 ہزار میٹرک ٹن ہیں جبکہ ایک لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن آر ایف او کے دو کارگو اس وقت بندرگاہ سے باہر ہیں ۔

جولائی 2022 کیلئے تقریبا ایک لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن کی درآمد کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ یہ انتظامات جولائی 2022 کے دوران پاور ڈویژن کی طرف سے رکھی گئی چار لاکھ 36 ہزار میٹرک ٹن کی طلب کو پورا کرنے کیلئے کافی ہیں۔ اس کے علاوہ تیل کی صنعت نے پراڈکٹ کا بندوبست کیا ہے لیکن پاور پلانٹس کی طرف سے پاور ڈویژن کے کم آرڈرز اور ادائیگیوں کے مسائل کی وجہ سے اس کی حقیقی اپ لفٹمنٹ کم رہی۔ پٹرولیم ڈویژن پاور سیکٹر کیلئے مطلوبہ آر ایف او انتظام کرنے کیلئے تمام کوششیں کر رہا ہے اور متعلقہ پاور پلانٹس کی جانب سے بروقت آرڈر دینے اور پیشگی ادائیگیوں سے مشروط آر ایف او کی ضروریات کو آرام سے پورا کرسکتا ہے۔

اعداد وشمار کے مطابق 21 اپریل 2022 کو مئی اور جون کیلئے تین کارگو کے ٹینڈر دیئے گئے تاہم جون کے کارگو کیلئے کوئی بڈ موصول نہیں ہوئی جبکہ مارکیٹ کی قیمت سے زائد قیمت کی وجہ سے دو کارگو ایوارڈ نہیں کئے گئے۔3 جون 2022 کو جولائی 2022 کیلئے ایک کارگو کے ٹینڈر کی آخری تاریخ تھی۔ تاہم ایل سی کنفرمیشن مسائل کی وجہ سے اس میں شرکت کم رہی۔10 جون کو جولائی کے ماہ کیلئے ایک کارگو، اور 23 جون 2022 کو چار کارگو کے ٹینڈر کی آخری تاریخ تھی اس میں بھی یہی مسائل رہے۔ 16 سے 30 اپریل 2022 کے دوران ایک لاکھ 39 ہزار میٹرک ٹن کی ڈیمانڈ دی گئی جبکہ ایک لاکھ 68 ہزار میٹرک ٹن آر ایف او اپ لفٹ کیا گیا۔ مئی 2022 میں تین لاکھ چار ہزار میٹرک ٹن کی ڈیمانڈ کے مقابلہ میں دو لاکھ 58 ہزار میٹرک ٹن اپ لفٹ کیا گیا جبکہ جون 2022 کیلئے چار لاکھ 42 ہزار میٹرک ٹن ڈیمانڈ کے مقابلہ میں تین لاکھ چھ ہزار میٹرک ٹن اپ لفٹ کیا گیا۔

موجودہ حکومت نے اپریل میں 8 ملین ، مئی میں 12ملین، جون میں 12 ملین، جولائی میں 8 ملین اور اگست 2022 میں 7 ملین کیوبک فٹ یومیہ آر ایل این جی کا انتظام کیا ہے۔ موجودہ حکومت نے اپریل سے جون 2022 کے دوران ایل این جی کی سپاٹ خریداری شروع کی۔ اس دوان 573 ملین ڈالر کی ایل این جی کی خریداری کی گئی۔ گوکہ پی ایس او اور پی ایل ایل کے ایس این جی پی ایل اور پاور سیکٹر کی طرف بڑی مقدار میں بقایا جات ہیں لیکن اس کے باوجود بجلی کیلئے سپلائی جاری رکھی گئی۔ جون میں ایل این جی کی ادائیگی میں پی ایس او کا شارٹ فال 285 ارب جبکہ پی پی ایل کا 119 ارب قابل وصول ہے۔ پی ایس او اور پی ایل ایل، ایل این جی درآمد کیلئے مصروف عمل ہیں۔

سابق حکومت کی جانب سے ایل این جی کی عالمی مارکیٹ میں قیمت کم ہونے پر طویل المدتی کنٹریکٹ نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے اب زائد قیمت پر ایل این جی مل رہی ہے جوکہ آر ایل این جی کی خریداری کے طویل المدتی معاہدوں میں کمی ہے۔ 2020 کے وسط میں آر ایل این جی 3 سے 5 ڈالر ایم ایم بی ٹی یو دستیاب تھی تاہم اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا اگر اس وقت یہ معاہدہ کرلیا جاتا تو آج صارفین کو بجلی کے بل کم ملتے۔2018 سے 2022 کے دوران مسلم لیگ ن کی گزشتہ حکومت کے معاہدہ کی وجہ سے ایل این جی 8 ڈالر پر دستیاب تھی جبکہ اس وقت اس کی قیمت 9 ڈالر 44 سینٹ تھی جبکہ حالیہ مہینوں میں آر ایل این جی 38 ڈالر ایم ایم بی ٹی یو سے تجاوز کرچکی ہے۔

دستاویز کے مطابق جو 2018 میں سرکلر ڈیٹ 1152 ارب روپے تھا جبکہ مارچ 2022 میں اس میں 114 فیصد اضافہ کے ساتھ 2467 ارب تک پہنچ گیا۔ سرکلر ڈیٹ بڑھنے کی ایک بڑی وجہ پی ٹی آئی کے دور میں ڈالر کی قدر 115 کے مقابلہ میں 191 روپے تک بڑھ جانا بھی ہے۔ اس کے علاوہ بڑھتے ہوئے سرکلر ڈیٹ نے پرائیویٹ پاور پلانٹس کو حکومتی ادائیگیوں کو بھی متاثر کیا۔ 3900 میگاواٹ کے کوئلہ کے تین بڑے پاور پلانٹس کوئلہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپنی استعداد کے مطابق نہیں چل رہے۔

ایک کول پاور پلانٹ کا کوئلہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کراچی پورٹ سے واگزار نہیں ہوسکا۔عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتوں میں گزشتہ 18 ماہ میں 300 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ 2018 میں آر ایف او فی میٹرک ٹن 58 ہزار 85 روپے سے تھی جو اپریل 2022 میں ایک لاکھ 28 ہزار 210 میٹرک ٹن ہوگئی اسی طرح آر ایل این جی 1250 ایم ایم بی ٹی یو دستیاب تھی جو اپریل 2022 میں 2671 روپے تک پہنچ گئی۔2018 میں کول 18107 روپے ٹن تھا جو اپریل 2022 میں 63775 روپے ہوگیا۔