fbpx

لاک ڈاؤن اور کراچی کی تباہ شدہ پبلک ٹرانسپورٹ تحریر: ام سلمیٰ

بے بس کراچی کے شہری جو کئی دہائیوں سے اپنے مسائل کے حل کے انتظار میں ہے.
پہلے بھی یہاں ٹریفک کا انتظام اس قابل نہں ہے آبادی کے تناسب سے لوگ با آسانی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر سکیں پھر کورونا کے معاملات اس وقت بھی سندھ میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے لیکن کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ کا وہی حال ہے گاڑیاں کھچا کھچ بھری ہوئی کورونا کے لیے بتائی گئے احتیاط تدابیر پر کوئی عمل نہں کر رہا. پبلک ٹرانسپورٹ میں ڈرائیور اور کنڈیکٹر حضرات بتائی گئی احتیاطی تدابیر نہں آپناتے اور نہ ہی اس پے عمل کرواتے نظر آتے ہیں ایسا لگتا ہے جیسے پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے کورونا ہے ہی نہں. خدانخوستہ جس حساب سے بسوں میں عوام کا رش نظر آتا ہے یہ ہی ایک بڑی وجہ نہ بن جائے کررونا پھیلانے کی صوبائی گورمنٹ لاک ڈاؤن کے احکامات جاری کرتے ہوئے اس چیز کو مد نظر رکھے کے جن احکامات کا اعلان کیا جا رہا ہے ان پر سختی سے لوگ عمل پیرا ہوں یا ان احکامات کے لاگو ہونے کا بعد کوئی چیک پوائنٹ ضرور ہوں مانیٹر نگ کا اور احکامات کو نہ ماننے والوں کو جرمانہ کیا جائے تاکہ لوگ سختی سے احکامات پر اعمال در آمد کریں.
لاک ڈاؤن کی وجہ سے جب تمام ادارے ایک ہی وقت میں بند کر دیے جاتے ہیں تو ٹریفک کا دباؤ بے تحا شا بڑھ جاتا ہے سڑکوں پر اور اس وجہ سے ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ پڑتی ہے اور لوگوں کے لئے سفر کا وقت بڑھاتی ہے ،اس سے بھی ذہنی تناؤ اور دیگر متعلقہ بیماریوں میں اضافہ ہوتا ہے اسی ذہنی دباؤ کی وجہ سے عام لوگ نقل و حمل سے متعلق تشویش کا شکار رہتے ہیں اور ان کی ذہنی بیماریوں میں ہائی بلڈ پریشر اور اضطراب اضافہ ہوتا ہے.

تب صحت کے ان مسائل کا نتیجہ طبی بلوں میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں کم اور درمیانی آمدنی والے مزدور طبقے کو معاشی عدم استحکام کا زیادہ خطرہ بن جاتا ہے۔

نقل و حمل کے محدود وسائل کی وجہ سے خواتین خاص طور پر متاثر ہوتی ہیں مزید انفراسٹرکچر اور سہولیات میں صرف سرمایہ کاری کرکے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے مسائل توجہ طلب ہیں صرف بجٹ میں پیسہ مختص کرنے سے یہ مسائل حل نہیں ہوسکتے بلکے انکو حل کرنے کے لیے جامع حکمت عملی اور موثر اداروں میں ہے۔
کراچی میں آبادی کے تناسب سے پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات انتہائی کم ہیں رجسٹرڈ بسوں اور منی بسوں کی تعداد لگ بھگ 21،800 ہے ، اس لئے ایک بس میں روزانہ 257 مسافر سوار ہوتے ہیں ، ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے چونکہ بسیں انفرادی لوگ چلاتے ہیں جو کرایہ کی آمدنی کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا چاہتے ہیں ، چھت کے اوپر بیٹھنے سمیت ، بس اسٹاپ پر مسافروں کے لیے زیادہ دیر انتظار کرنا عام ہے ان کے لیے کوئی قوانین نہں بنائے گئے.

اس کے علاوہ سرکاری اور نجی بسیں غیر مستحکم اور غیر آرام دہ ہیں۔اور ان بسوں کی بناوٹ کی وجہ سے ان بسوں میں خواتین کو تنگ کرنے کے واقعات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں.

صوبائی گورنمنٹ بسوں کی وجہ سے کررونا کے پھیلاؤ کو روکنے پر فوری توجہ دے.

@umesalma_