لاک ڈاؤن،ہم اور رمضان کی آمد…!!! تحریر:جویریہ چوہدری

لاک ڈاؤن،ہم اور رمضان کی آمد…!!!
(تحریر:جویریہ چوہدری)۔

لاک ڈاؤن کیا ہوا،گھر سے ایک عجیب سی محبت ہو گئی ہے…
جہاں کئی نقصانات سر پر منڈلا رہے ہیں وہیں کئی اخلاقی سنوار کا بھی احساس ہو رہا ہے…
عجب سی خاموشی کا حصار اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے…
غیبت،چغلی اور جھوٹ کے مواقع کم ہو گئے ہیں…
ابھی صبح ہی والدہ صاحبہ سے ذکر کیا ہے کہ امی جان !!!
یہ سچ ہے کہ بہت زیادہ شہرت،آنا جانا اور گپیں انسان کے بہت سے راز کھل جانے کا باعث ہے،کبھی ہم کسی کی برائی سنتے ہیں اور کبھی کسی کی برائی کرنے میں شامل ہو جاتے ہیں…
غرض دونوں طرح سے گناہ سمیٹتے ہیں…
ایک ماہ ہونے کو آیا ہے اس دوران کوئی بھی بندہ ایسا نہیں آیا جو ذاتی مخاصمت یا گھریلو جھگڑوں کا ہی تذکرہ لیئے بیٹھا ہو…
یوں ذہن میں آسودگی اور دل بوجھ سے آزاد آزاد لگتا ہےکیونکہ غلط بات چاہے ذرا سی ہی کیوں نہ ہو،ذہنی و روحانی اذیت کا باعث ضرور بنتی ہے…
نماز کی ادائیگی بروقت کرنے کے لیئے ہمارے پاس اوّل وقت موجود ہے…
گھر کے سبھی افراد الحمدللہ اللّٰہ اکبر کی صدا پر متحرک نظر آتے ہیں،چنانچہ نماز چھوٹنے یا لیٹ ہو جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا…
گھر کے کام کی روٹین بھی بہت بہتر انداز میں چلنے لگی ہے بلکہ اضافی کام جو کئی مہینوں سے ملتوی رکھے گئے تھے۔۔۔
انہیں کرنے کا موقع ہاتھ آیا ہے…
میں نے بھائی سے کہا کہ چلیں آپ چارپائی پر چڑھ جائیں،میں آپ کی مدد کرتی ہوں تو چھت کے تمام پنکھے صاف کر دیئے جائیں…
صفائی کے بعد میل اترنے سے گویا وہ بھی چمکتے ہوئے مسکرا رہے ہوں…
عموماً تو گھر میں چولہا ہی استعمال ہوتا ہے لیکن والدہ صاحبہ کوئی بھی اضافی کام مثلاً،حلوہ بنانا،مربہ بنانا،یا سحری کی تیاری کے لیئے ہمیشہ سے ہی آگ جلانا پسند کرتی ہیں…
گھر کی لکڑی وافر ہونے کی وجہ سے کافی سارے لکڑی کے بھاری بلاک پڑے تھے،سو موقع غنیمت تھا…
بھائی جان جو لاڈلے اور ایسے کاموں میں قدرے سست طبیعت کے مالک ہیں…
ان کی ورزش اور جم جانے کا بہترین انتظام میں نے یہ کیا کہ کلہاڑا،ہتھوڑا،چھینی وغیرہ سب اوزار اس جگہ پہنچا کر ایندھن کا سامان بنانے پر آمادہ کیا…
وہ قائل کرتے رہے کہ کوئی مزدور مل جائے گا تو کروا لیتے ہیں…
مگر یہ ہاتھ اور ہمت کس لیئے ہیں؟
میں نے استفسار کیا…
اچھا چلو میں بناتا ہوں،اور آپ سمیٹے جانا…
اٹس او کے…آئی ایم ریڈی۔۔۔
اور یوں وہ چارو نا چار اس کام میں لگ گئے،
تین دن میں لکڑیوں کا کافی بڑا ڈھیر جمع ہو گیا،جنہیں ترتیب سے جوڑنا میں نے تھا…
سسٹر کی ڈیوٹی لگی کہ آپ سارے جالے برش سے صاف کر دیں تاکہ رمضان المبارک کے دوران بڑی صفائی کی ضرورت نہ پڑے اور کمرے صاف ستھرے ہوں…
آسمانی بجلی کی چمک پڑنے سے حویلی کا ایک درخت جھلس چکا تھا…
والد محترم کو ہم نے مشورہ دیا کہ وہ کاٹ دیا جائے کیونکہ اب کسی کام کا نہیں…
آپ اوپر چڑھ کر آری چلائیں،
ہم سب نیچے سے ساری صفائی کر دیں گے…
اچھا آری نہیں مل رہی…؟
پتہ نہیں کہاں رکھی ہے آپ نے،
ایسی چیزیں آپ ہی تو سنبھال دیتی ہیں…
مجھ سے سوال ہوا…؟
مجھے لگا اب معاملہ پینڈنگ ہو گیا…
شاید کوئی لے کر گیا ہو تو واپس نہ کی ہو ابھی…
میں نے ذہن پر زور دیا…
تب یاد آئی کہ وہ تو شیڈ پر سنبھالتے ہوئے پیٹی کے پیچھے گر گئی تھی…
اللّٰہ اللّٰہ کرکے بمشکل آری نکالی اور پیش کی…
درخت کٹ گیا اور ہم سب اُسے سنبھالتے جا رہے تھے…
چھوٹے ٹکڑوں میں کر کے تہہ لگا دی گئی…
اور اُدھر امی جان زبردست سا حلوہ بنا چکی تھیں کہ سب فیملی ممبرز ٹف کام میں جتے ہوئے تھے…
بازار کے وقت،بے وقت کے چکر محدود ہو گئے ہیں…
کھانا تو اب بھی تین وقت ہی کھایا جاتا ہے مگر قریبی کریانہ سٹور سے بھی تو سب مل ہی جاتا ہے…
وہ پہلے کی لمبی لسٹ،بیس سے تیس ہزار کے بِل کو چھُوتا سودا سلف اب پانچ چھ ہزار میں بھی گزارا کرا رہا ہے…
بس ہمیں سٹاک رکھنے،اور چیزیں دھڑا دھڑ خرید کر ایکسپائر کر دینے کا بھوت سوار ہے…
ضرورت ہے یا نہیں گھر میں ہونا ضروری ہے بس…
سوچا لاک ڈاؤن اگر بڑھ جاتا ہے تو گرمیوں کے کپڑے؟
ضمیر نے کچوکہ لگایا…ابھی پچھلی گرمیوں کے تین سوٹ تو ایسے بھی پڑے ہیں جنہیں ہاتھ تک نہیں لگایا،صرف بنوائے تھے…؟؟؟
دل میں اطمینان اُبھرا کہ چلو اس بار نہ بھی لیئے تو نہ سہی۔
پہلے سے موجود بوسیدہ کر کے ہی حساب دینے کے بار کو کم کریں گے۔

ایک کام ابھی تک ذہن میں گردش کر ہی رہا تھا کہ اگر پچھلے سال کی پڑی گندم کو صاف کر کے دھوپ لگوا دی جائے تو کیسا اچھا ہے…؟
لیکن ساتھ کون دے؟
لے دے کر بھائی نظر آئے،
کیوں بھیا یہ کام رہ گیا ہے،کیا کر نہ دیا جائے؟
میں نے دھیرے سے سوال کیا…
بھئی لاک ڈاؤن تے قسمت نال آ گیا اے…
میں گھر آ گیاں تے کم کروا کروا کے مرمت تو نے کر دتی اے…
اچھا،چلیں آپ کی مرضی،موڈ نہیں تو رہنے دیں؟
نہیں کل کریں گے ان شآ ء اللّٰہ…
تین دن تک اس گندم کی صفائی کے دوران گرمی اور دھوپ سے جب آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تو مئی، جون کی تپتی دھوپ میں باہر اکھاڑے پر تپتے کسان یاد آئے کہ کیسے وہ محنت کر کے دانہ دانہ سنبھال کر قوم کے گھر تک پہنچانے کا سبب بنتے ہیں…!!!
خیر اس ذمہ داری کو نبھا کر فرش دھوتے ہوئے جب پسینے کے بہتے قطرے فرش دھوتے پانی میں شامل ہوئے تو ہم آہ بھر کر بیٹھے کہ:
ہمارا پسینہ بھی شامل ہے اے گھر تری تزئین میں…
ہم جب نہیں ہوں گے،ہمیں بھی یاد کر لینا…!!!
اب رمضان سے قبل میرا آخری ٹارگٹ اپنی مطالعہ کی بُکس کو ترتیب سے رکھنا اور الگ کرنا تھا…
سو یہ کام کر کے ہم لاک ڈاؤن کے لمحات سے خوب مستفید ہوئے…
موٹاپا تو پہلے ہی ہم سے دور بھاگتا ہے،اب غم میں ڈوبے کلائی کا ناپ لیا تو وہ پہلے سے اور کمزور لگ رہی تھی…
لیکن اس جسم کا،اس صحت کا،قوت کا حق ادا کرتے رہنا چاہیئے…
اس کے مثبت اور بہترین و تعمیری استعمال کے بے شمار فوائد ہیں
اور اللّٰہ تعالٰی سے عافیت کا سوال بھی کرتے رہنا چاہیئے کیونکہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ایمان کے بعد عافیت سے بہتر کوئی خیر نہیں__!!!”
اس لاک ڈاؤن نے سکھا دیا کہ ہم یہ صناعی جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری سے پیدا کرتے ہیں…
ہر کام انسان خود کر سکتا ہے صحت و عافیت کے باوجود کام کو ہاتھ تک نہ لگانا فیشن نہیں اپنے ساتھ زیادتی اور اپنے بدن کو بیماریوں کا گھر بنانے کی دعوت ہے…
اللھم بلغنا رمضان…
اے اللّٰہ !
ہمیں رمضان کی رحمتوں کا حقدار بنانا…بخشش کا مستحق بنانا اور ہماری غلطیوں سے درگزر فرما کر ہمارے احوال پر رحم فرمانا…
ہمیں متقین کی لسٹ میں شامل کرنا…اللّٰہ ہم سے حساب آسان لینا…
اے اللّٰہ ہمیں اس زندگی کی نعمتوں سے ایمان کے ساتھ مستفید ہونے اور آخرت میں فردوس و عدن کے باغوں میں سکون عطا کرنا…
کہ ابدی سکون تو نے جنت کا ہی خاصہ رکھا ہے…آمین۔
وطنِ عزیز سمیت تمام دنیا پر چھائی آفت کے اثرات سمیٹ لے…
اس لامتناہی بحث اور شر سے خیر کا پہلو نکال دے…
سو ان لمحات کو ڈپریشن کی بجائے مثبت استعمال میں گزاریں اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اس حدیث کو ان ایام میں حرزِ جاں بنا لیں کہ جب آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے صحابی سے فرمایا:
ولیسعک بیتک…”اور اپنے گھر میں رہو”
جب انہوں نے سوال کیا تھا کہ نجات کیا ہے؟
اگر باہر کی رنگ رنگیلی دنیا سے کچھ وقت کے لیئے کٹ گئے ہیں تو اندر کی دنیا کو رنگین کیجیئے…
صبغۃ اللّٰہ سے…
اور آسانیوں کا سوال کرتے رہیئے تاکہ میرے وطن کے غریب آدمی کی بھی پریشانیاں ختم ہو جائیں…
لوگ اس غیر مرئی وائرس سے بچاؤ کرتے ہوئے دو وقت کی روٹی کے لیئے نہ لڑیں…
اے گُلشن تو شاد رہے،آباد رہے
ترا اک ایک لمحہ مصائب سے آزاد رہے…تیرے دامن میں بستے ہر انسان کی خیر ہو…
جہاں بھر میں انسانیت کے احترام کی ریت جڑ پکڑے اور ہمارے ہاں کے لاک ڈاؤن سے بہت پہلے عشروں سے کئی خطوں کے لاک ڈاؤنوں سے نبرد آزما "انسانوں” کی بھی مشکلات کم ہوں…!!!!!(آمین)۔
==============================

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.