لاک ڈاؤن بمقابلہ لاک ڈاؤن !!! تحریر: محمد طارق

ابھی سندھ، پنجاب ، آزاد کشمیر، کے پی اور گلگت بلتستان میں لاک ڈائون کو صرف 3 دن ہوئے ہیں پاکستان کے کسی بھی حصے میں لاک ڈائون کے دوران نہ تو کسی کو غدار قرار دے کر گولی مارنے کا حکم ہے اور نہ ہی ضروریات زندگی کی اشیاء کی تمام دوکانیں بند ہیں، نہ گلی گلی بندوق بردارکھڑے ہیں لیکن پھر بھی لوگوں کو فکر ہے کہ لاک ڈائون کے دوران کیا ہو گا عوام تو عوام اربوں کھربوں ڈالر اور بے پناہ طاقت کے وسائل رکھنے والی پاکستانی حکومت بھی پریشان ہے کہ 14 دن کے لاک ڈائون کے نتائج کیا ہوں گے؟ دوسری طرف 7 ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے لاک ڈائون کر رکھا ہے جس کو دل چاہا اور جس شہر یا چوک میں چاہا غدار قرار دے کر گولیوں سے چھلنی کر دیا، 7 ماہ سے 8 لاکھ ظالم فوج 80 لاکھ کشمیری مسلمانوں پر بندوق تانے کھڑی ہے گھر سے باہر جیسے ہی قدم رکھا جاتا ہے درجنوں گولیاں جسم کے آر پار کر دی جاتی ہے بچے بھوک سے تڑپ تڑپ کر جان دے رہے ہیں اور جوان مسلمان لڑکیوں کو گھروں سے اٹھا کر بے آبرو کر دیا جاتا ہے، درجنوں والدین کی روزانہ شہادت سے سینکڑوں بچے یتیم ہو رہے ہیں لیکن اس لاک ڈائون پر نہ کسی کی زبان ہلی، نہ کوئی آنکھ نم ہوئی۔ نہ کوئی محمد بن قاسم آیا اور نہ ہی دنیا میں امن کی ٹھیکیدار اقوام متحدہ کی نیٹو نے بھارتی فوج کا ہاتھ روکا۔ غرض یہ کہ دنیا میں کشمیری قوم تن تنہا بھارتی فوج کا ظلم برداشت کر رہی ہے۔ ہر مذہب (مسلمان، ہندو، عیسائی، بدھ مت اور غیر مذہب) نے ان کو تنہا چھوڑ دیا لیکن نہیں چھوڑا تو میرے پروردگار آللہ تعالیٰ کی ذاتِ نے ان کو تنہا نہیں چھوڑا،
میرے دوستو مجھے اجازت دو تو میں آج کہہ دینا چاہتا ہوں کہ شائد کشمیری اللہ تعالیٰ کو اتنے پیارے لگے ہیں کہ ان پر ہونے والے مظالم کو دیکھ کر چپ رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے سزا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اس لیے کرونا وائرس کا لاک ڈائون سب سے پہلے دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت چین سے ہوا۔ خودساختہ سپر پاور امریکہ بھی شکنجے میں جکڑا گیا۔ بھارت کا یار ایران بھی سخت عذاب کا مستحق ٹھرا ہے جانوروں کے حقوق پر جلوس نکالنے والا یورپ اور کشمیر میں لاکھوں شہادتوں پر چپ رہنے والے یورپ کا حال دیکھ کر بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اب مظلوم قوم کا ہمسائے ملک پاکستان کی بھی حالت تشویشناک اور قابل رحم ہوتی جا رہی ہے دنیا میں کرونا وائرس کے نام پر ہونے والے لاک ڈائون اور اس کے بعد والے حالات سے لاکھوں بلکہ کروڑوں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے
میں یہاں پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر دنیا چاہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ کرونا وائرس کا لاک ڈائون ختم کرے اور دنیا وائرس سے محفوظ ہو جائے تو ہمیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا لاک ڈائون ختم کرنا ہو گا اور ساتھ ساتھ ظلم پر خاموشی اختیار کرنے والے گناہ پر توبہ کرنی ہو گی ہو سکتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے لاک ڈائون کے بعد اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کرتے ہوئے دنیا میں کرونا وائرس کا لاک ڈائون ختم کر دے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.