fbpx

لوگوں کے ایمان ،عقیدے اور محبت رسول اللہ کے فیصلےاپنی سیاسی پسند نا پسند کی بنیا دپر نہ کیجیئے،مولانا طاہر اشرفی

مولانا طاہر اشرفی نے اپ نے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ خدا کے لئے لوگوں کے ایمان اور عقیدے اور محبت رسول اللہ کے فیصلے أپنی سیاسی پسند نا پسند کی بنیا دپر نہ کیجیئے-

باغی ٹی وی : مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ محترم اوریا مقبول جان صاحب نے جو واقعہ بیان کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ واقعہ جنرل باجوہ کے حق میں بیان کیا جا رہا تھا اور آج جب ان کو توہین رسالت کا مرتکب قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے آج بھی غلط ہے-

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر چوتھا شخص کہتا ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ میرا ایمان ہے مجھے یقین ہے کہ جب کسی مسلمان کو نبی پاک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہو جائے تو اس کی دنیا بھی بدل جاتی ہے اس کی آخرت بھی سنور جاتی ہے وہ چوکوں چوراہوں میں ڈھنڈورا نہیں پیٹتا کی اسے نبی پاک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی ہے پھر کیا جو شخص کہہ رہا ہے کہ اس نے نبی پاک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے اسے کیا ہے پتہ نبی پاک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوبصورتی کتنی ہے ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ کیسا ہے ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نور کیسا ہے –

انہوں نے کہا کہ مجھے بہت دکھ ہوا افسوس ہوا میں یہ بات کہنا چاہتاہوں ممکن ہے وزارت خارجہ یا دوسرے طاقتور دوست شاید نہیں برا بھی لگے وہ ناراض ہوں لیکن جب کوئی چیز حق و باطل میں فرق کرنے کے لئے سامنے آ جائے اس کو واضح کرنا چاہیئے آج سے ڈیڑھ دوسال پہلے کی بات ہے جب بہت پریشر پاکستان کی طرف آ رہا تھا کہ پاکستان میں نامورسالت اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور عقیدہ ختم نبوت اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے قوانین کو تبدیل کیا جائے تو پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ تھے جنہوں نے یہ بات کہ تھی کہ ہمارے جی ایس پی پلس میں 6 ارب ڈالر کا معاملہ ہے اور باقی بھی تجارت و اقتصادی معاملات ہیں اگر ہماری 600 ارب ڈالر کا بھی معاملہ ہو تو ہم کسی قسم کا کوئی کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں ہیں اس شخص کو جو ڈنکے کی چوٹ کے اوپر دنیا کویہ کہتا ہو اسے توہین رسالت اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مرتکب قرار دینا وہ بھی صرف اس بنا پر کہ اس نے کسی سیاسی حکومت کی حمایت نہیں کی یا اسے حکومت میں کھڑا رکھنے کے لئے ساتھ نہیں دیا –

مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ جب وہ آپ کی منشا کے مطابق چل رہے تھے یا آپ کی خواہشات کے مطابق تھے اس وقت یہی خواب ان کے حق میں بیان ہو رہا تھا آج ان کے خلاف بیان ہو رہا ہے خدا کا خوف کریں کیا کر رہے ہیں ؟ کیا پاکستان کی سیاست کی جو احوال ہیں اس میں رسول اللہ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معاذاللہ کسی کے حق یا مخالفت میں آکر کہیں گے کہ اس کا ساتھ دو اس کا نا ساتھ دو کیا خان صاحب کی حکومت خلافت راشدہ کا دور تھا کیا اس وقت کرپشن نہیں تھا غلط بیانی نہیں تھی جھوٹ نہیں تھا رشوت خوری نہیں تھی سود نہیں تھا اور آج یہ سارا کچھ آ گیا ہے-

مولانا طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ پسندا ور ناپسند پر بالکل حق حاصل ہے کہ پنی پسند اور ناپسند آپ بالکل کریں لیکن اس کونبی پاک اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب نہ کریں یہ پاک فوج ایمان تقویٰ جہاد فی سبیل اللہ والی فوج ہے اس کا سپہ سالارکلمہ طیبہ پر قائم وطن کا سپہ سالار ہے اور پھر میں‌ذاتی طور پر کچھ چیزیں جانتا ہوں بیان نہیں کر سکتا لیکن کہہ سکتا ہوں جنرل قمر جاوید باجوہ کا نبی پاک اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق ہے محبت ہے جو ہر مسلمان کے دل میں ہے ہمیں تو یہ حق حاصل نہیں ہے ہم ایک پیمانہ پکڑ کر دیکھیں کہ کسے رسول اللہ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کتنا عشق کتنا پیار تھا –

انہوں نےآخر میں مولانا اشرف علی تھانوی کا واقعہ بیان کیا کہ جب ان کو آکر بتایا گیا کہ مولانا احمد رضا خان انتقال کر گئے ہیں تو انہوں کہا فاتحہ پڑھیں کسی نے کہا کہ وہ تو ہمیں گستاخ رسول کہتے تھے جس پرمولانا اشرف علی تھانوی نے کہا کہ ممکن ہے ان کے عشق رسول کی انتہا یہ ہو کہ ہم ان کو گستاخ رسول لگتے ہں وہ محبت رسول میں بے انتہا رکھتے ہوں –

مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ خدا کے لئے لوگوں کے ایمان اور عقیدے اور محبت رسول اللہ کے فیصلے أپنی سیاسی پسند نا پسند کی بنیا دپر نہ کیجیئے-