کرونا وائرس کی تباہ کاریاں ، سڑکوں پرصرف شیرہی رہ گئے ، انسان کہاں گئے ، اہم خبرنے غمگین کردیا

لندن :کرونا وائرس کی تباہ کاریاں ، سڑکوں پرصرف شیرہی رہ گئے ، انسان کہاں گئے ، اہم خبرنے غمگین کردیا،اطلاعات کےمطابق دنیا بھر میں پھیلی وبا کورونا وائرس کے باعث کئی ممالک میں حکومتوں نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے لاک ڈاؤن نافذ کردیا ہے، جس کے باعث سڑکوں پر کافی سناٹا ہے۔ایسے میں جہاں انسان تو اپنے گھروں میں محصور ہیں وہیں جانور سڑکوں پر چہل قدمی کرتے اور آرام کرتے نظر آرہے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس پارک کا رینجر رچرڈ سووری روز کی طرح گشت پر نکلا تو اس نے دیکھا کہ شیروں کا جھنڈ سڑک پر آرام کرتا نظر آیا، اس سڑک پر عام طور پر سیاحوں کو ہجوم رہتا ہے۔جنوبی افریقہ کے کروگر نینشل پارک میں موجود شیر بھی لاک ڈاؤن کے باعث سناٹے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔

خیال رہے کہ جنوبی افریقہ کے دیگر پارکس اور چڑیا گھروں کی طرح کروگر نینشل پارک بھی 25 مارچ سے سیاحوں کے لیے بند ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ شیر ان سڑکوں پر صرف راتوں کے وقت نظر آتے تھے تاہم اب سیاحوں کی غیر موجودگی میں دن میں بھی یہ سڑکوں پر گھوم رہے ہیں۔


رچرڈ سووری لاک ڈاؤن کے دوران بھی اس پارک میں کام کررہے ہیں اور شکاریوں سے جانوروں کی حفاظت میں مصروف رہتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ گشت کے لیے نکلے تو انہیں سڑک پر بہت سے شیر آرام کرتے نظر آئے، جن کی انہوں نے صرف 5 میٹر کی دوری سے تصاویر لیں۔ان کے مطابق ’میں نے اپنے موبائل فون سے ان شیروں کی تصاویر لی، وہ مجھے دیکھ کر پریشان نہیں ہوئے جبکہ ان میں سے بیشتر تو سورہے تھے‘۔

رینجر اہلکار کے مطابق ان جانوروں کو لوگوں کو گاڑیوں میں گزرتا دیکھنے کی عادت ہے لیکن اگر میں گاڑی سے اتر کر پیدل جاکر تصاویر لینے کی کوشش کرتا تو یہ ممکن نہیں ہوپاتا۔انہوں نے بتایا کہ اس جھنڈ میں موجود سب سے بڑی شیرنی کی عمر 14 سال ہے اور یہ ایک شیرنی کے لیے بہت طویل عمر مانی جاتی ہے، اس لیے انہیں گاڑیاں دیکھنے کی عادت ہوگئی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.