fbpx

لانگ مارچ کے دوران تشدد، عدالت کا وزیر داخلہ پر مقدمہ درج کر کے کاروائی کا حکم

لانگ مارچ کے دوران وکلا اور کارکنوں پر تشدد کا معاملہ سیشن کورٹ نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور پولیس افسران کے خلاف کاروائی کا حکم دے دیا

عدالت نے حکم دیا کہ متعلقہ ایس ایچ او مقدمہ درج کرکے قانون کے مطابق سخت کارروائی کریں ایڈیشنل سیشن جج ملک مدثر عمر بودلہ نے پی ٹی آئی وکلا کی درخواست پر فیصلہ سنایا سیشن کورٹ نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر قانون رانا ثناءاللّه کے حکم پر پولیس نے معصوم شہریوں پر شدید تشدد کیا۔ وزیر داخلہ کے خلاف قانونی کاروائی کا حکم دیا جائے، عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد قانونی کاروائی کا حکم دے دیا،

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران لاہور سمیت کئی شہروں میں گرفتاریاں ہوئی تھیں، اس دوران پی ٹی آئی کارکنان پر تشدد بھی کیا گیا تھا، عمران خان اسلام آباد پہنچ گئے تھے لیکن اسلام آباد پہنچنے کے بعد فوری واپس چلے گئے اور کہا کہ ایک ہفتے بعد دوبارہ لانگ مارچ کروں گا، اور اہم اعلان کروں گا،

قبل ازیں پی ٹی آئی لانگ مارچ کے دوران توڑ پھوڑ کا معاملہ، سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، سیشن جج نے 5،5 ہزار کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی، عدالت نے 2 مقدمات میں شیخ رشید کی ضمانت منظورکی۔ عدالت نے پولیس کو ریکارڈ سمیت 13 جون کو طلب کرلیا۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما حسن مرتضیٰ کہتے ہیں کہ ھماری پولیس کے جوانوں کو جس طرح لانگ مارچ کے دوران تشدد اور گولی کے زریعے اپنے فرائض ادا کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی ہم اس کی بھی بھر پور مزمت کرتے ہیں جو جوان ملکی سلامتی تحفظ کے لیے جانیں قربان کرتے ہیں انکے لواحقین کے لیے ریلیف کے لیے اقدامات کرنے پر بھی مشاورت ہوئی

کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

اللہ تعالیٰ اس ملک کے سیاست دانوں کو ہدایت دے،لاہور ہائیکورٹ کے ریمارکس

لانگ مارچ، راستے بند، بتی چوک میں رکاوٹیں ہٹانے پر پولیس کی شیلنگ،کئی گرفتار

پی ٹی آئی عہدیدار کے گھر سے برآمد اسلحہ کی تصاویر سامنے آ گئیں