اپنے کردار کا جائزہ لیں—از—مشی حیات

ہماری روز مرہ کی زندگی میں ہر انسان خود کو اعلی و برتر سمجھتا ہے اور دوسرے کو اپنے سے کمتر۔۔۔۔۔!
مگر آج جو نفسا نفسی کا وقت اس عالم پر آ ٹھہرا ہے ہمیں اب یہ جاننا ہے کہ ہم اعلی ہیں یا جسے ہم کمتر سمجھ رہے ہیں وہ۔۔۔۔۔!
قرآن وہ سچی کتاب ہے جس میں ہر انسان کے کردار اور عملی زندگی کے بارے پیشگوئی ہوئی ہے مگر بات یہ ہے کہ ہم نے سمجھا نہیں۔۔۔!

ہم قرآن پڑھنا شروع کرتے ہیں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں.
صرف اس لیے کہ وہ مجھے دنیاوی چیزوں میں نہ بٹھکائے تاکہ ہم اس کتاب کو سمجھ سکیں۔۔۔!
پھر تسمیہ پڑھتے ہیں کہ الرحمن الرحیم مہربان ذات اور بار بار رحم کرنے والی کے نام سے۔۔!

قرآن کی ابتدائی آیات میں ہم اللہ کے شکر گزار ہوتے ہیں تمام تعریفیں اسکی کرتے ہیں اسی کو رب ماننے کا اقرار کرتے ہیں۔اسی کے بندے ہونے کا اقرار اور اسی سے مدد چاہتے ہیں
مگر اہم بات یہ ہے
اھدنا الصراط المسقیم

بہت سی چیزیں مانگنے کی ہیں لیکن سب سے پہلے مانگنے کی ضرورت بہترین راستہ ہے
وہ راستہ صرف اسلامہے۔۔!
ہماری ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے ہمیں بہتری ہمسفر ملے جو ہمارا کبھی ساتھ نہ چھوڑے زندگی کے کسی مشکل سفر میں بھی مگر ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ بہترین ہمسفر بہترین رستہ ہم چھوڑ چکے ہیں وہ رستہ وہ ہمسفر اسلام ہے

اور اسلام کا پتہ ہمیں صرف اللہ کی مقدس کتاب قرآن پاکسے مل سکتا ہے۔۔۔!
دوسری بات ہم خود کو اعلی و برتر سمجھتے ہیں اللہ نے ہر انسان میں کوئی نہ کوئی ہنر رکھا ہوتا ہے مگر اس کو وہی جانچ سکتا ہے جو متقی ہو گا اسلام کو سمجھنے والا ہو گا۔۔۔!
اب غور کرنا ہے ہم متقی ہیں یا ہم میں بھی نفاق کی قسمیں پائی جاتی ہیں؟

اوپر اعتقادی اور عملی منافقین کا اوپشن ہے۔۔۔۔۔
منافقین کی دو اقسام یہی ہیں
(1)۔ اعتقادی منافق
پکے اعتقادی منافق وہ تھے جن کے میں دل کفر تھا
جیسے۔۔۔۔

مثلھم کمثل الذی استو قد نارا
اس کی تفسیر عبداللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہ کرام (رضی اللہ عنھما)نے کچھ یوں بیان فرمایا کہتے ہیں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم )مدینہ تشریف لائے کچھ لوگ مسلمان ہو گئے لیکن جلد منافق ہو گئے ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اندھیرے میں تھا اسلام سے پہلے مدینہ میں کفر کا اندھیرا تھا اس میں روشنی جلائی (کونسی روشنی؟اسلام کی )جس سے سارا ماحول روشن ہو گیا مفید اور نقصان دہ چیزیں ان پر ثابت ہو گئی اسلام کی روشنی میں نیک و بد اور حق و باطل کا پتہ چلنے لگا پھر روشنی بجھ گئی (کن کی جو مسلمان ہوئے تھے) وہ روشنی باہر کی نہیں ان کے اندر کی تھی اسلام اپنی جگہ موجود تھا مگر انکا اپنا دل بدل گیا۔۔۔!

*اب ہم دیکھیں گے دل کے بدلنے کی وجوہات کیا ہیں؟

انکا اپنا دل فکر میں پڑ گیا کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
ذھب اللہ بنورھم

اللہ ان کا نور لے گیا
یہ حدیث عبداللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھما کی ہے۔۔۔۔!
پہلی مثال کس کی ہے؟

پکے اعتقادی منافق ان کا حال یہ تھا وہ اسلام سے پہلے کفر کے اندھیرے میں تھے
فلما اضاءت ماحول
پھر جب ماحول روشن ہوا (اسلام سے) تو۔۔۔۔
ذھب اللہ بنورھم

اللہ نور لے گیا انکا اور انہیں
وترکھم فی ظلمت
اندھیروں میں چھوڑ دیا

اور لا یبصرون نہی وہ دیکھتے
کس کو؟نبی کریم کو
اس لیے اللہ تعالی نے فرمایا
صم بکم عمی

انکا حال یہ ہے بہرے بھی ہیں گونگے بھی اور اندھے بھی ہیں۔۔۔۔۔!
ایک بات ذہن میں رکھیں اعتقادی منافق یہود میں سے تھے

رسول اللہ جب مدینہ تشریف لائے تو وہاں یہود تھے انصار تھے اور مہاجر مسلمان۔۔!
یہ تھے اعتقادی منافق پکے منافق جو اسلام کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہ تھے

(2 )۔ عملی منافق ۔۔
جن کے دل میں ایسا کفر تو نہیں تھا مگر ڈھواں ڈھول تھے جیسے
اس کصیب من السماء

آسمان سے زوردار بارش ہوئی
یہ بارش اسلام کی بارش جس میں
ظلمت و رعدو برق

اندھیرے تھے گرج تھی بجلی تھی مشکلات تھی اب یہ کیا کرتے جب اسلام کی دعوت دی جاتی تو
یجعلون اصابعھم فی اذانہم
اپنے کاموں میں انگلیاں ڈال لیتے

عملی منافق تھے جب اسلام کو فائدہ ہوتا ساتھ چل دیتے جیسے فتح مکہ ،بدر اور جب مشکل وقت آتا کھڑے ہو جاتے یعنی خندک اور تبوک کےمیدان
جہاد کے لیے نہیں آتے تھے
اس لیے اللہ تعالی فرماتے ہیں

ولو شآءاللہ
اور اگر اللہ چاہتا ان کی سماعت اور بصارت کے جاتا مگر نہیں لے کر گیا کیونکہ ان کے اسلام کی طرف آنے سے چانسزتھے یہ واپس آ سکتے تھے اس لیے اللہ نے انہیں مہلت دی تھی۔۔!

اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں اس جیسی کوئی برائی تو نہیں کیا ہم اعتقادی یا عملی منافق تو نہیں کہیں ہم بھی تو نہیں ایسے کرتے کہ جہاں قرآن کی دعوت مل رہی ہو جہاں اسلام دیا جارہا ہو اور ہم خاموش ہو جائے سنی ان سنی کر دیں۔!
یاد رکھیں دین کے رستے میں مشکلات ہیں پریشانیاں ہیں مگر اس کا اجر عظیم بھی ہے اللہ فرماتے ہیں جو متقی بن گیا وہ گھبراتانہیں اور جو متقی بن گیا اسلام کے رستے چلتے رہے
ھم المفلحون وہ کامیاب ہوگئے

اگر مشکلات آئی ہیں تو کامیابی بھی ملے گی لیکن ثابت قدم رہنا ہوگا
جائزہ لینا ہو گا ہمیں کہ کوئی ایسی بات ہم میں تو نہیں کہ اللہ ہمیں بھی کہہ دیں کہ
و مایشعرون

لا یشعرون
اور
وما کانو مھتدین
اور نہیں یہ ہدایت پاسکتے
ابھی وقت ہے مگر وقت بہت تھوڑا لوٹ آئیے واپس اللہ کے در پر کہیں دیر نہ ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

اپنے کردار کا جائزہ لیں
اعتقادی و عملی منافق
✍🏻از قلم۔
مشی حیات

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.