fbpx

لارڈ نذیر احمد: دارالامرا کے سابق رکن بچوں پر جنسی حملے کے مجرم قرار

برطانیہ کی لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے دارالامرا کے سابق رکن لارڈ نذیر احمد کو ستّر کی دہائی میں دو بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے مرتکب قراردیئے گئے اوریوں آج ایک لمبی بحث بھی اپنے اختتام کو پہنچ گئی

تفصیلات کے مطابق لارڈ احمد آف روتھرہیم کو ایک لڑکے کے خلاف سنگین جنسی حملے اور ایک کمسن لڑکی کے ریپ کی کوشش کرنے کا مجرم پایا گیا۔اس حوالے سے شیفیلڈ کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ سلسلہ وار جنسی حملے روتھرہیم میں تب ہوئے جب وہ ٹین ایجر تھے۔

برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز کے سابق رکن لارڈ نذیر کو 1970 کی دہائی میں نوجوان لڑکے پر سنگین جنسی حملے اور لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کرنے کا مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایک خاتون نے شیفیلڈ کراؤن کورٹ کو بتایا کہ نذیر احمد، جو پہلے لارڈ احمد آف رودرہم تھے، نے اس پر اس وقت حملہ کیا جب وہ 16 یا 17 سال کے تھے لیکن وہ ان سے بہت کم عمر تھیں۔

لارڈ نذیر نے اسی عرصے کے دوران ایک لڑکے پر بھی جنسی حملہ کیا اور انہیں عصمت دری کی کوشش کے دو الزامات کا مجرم پایا گیا۔

 

 

2016 میں خاتون کے پولیس کے پاس جانے کے بعد اس نے متاثرہ مرد سے فون پر بات کی۔جیوری نے ان کی گفتگو کی ایک ریکارڈنگ سنی، جو اس شخص کے ای میل کرنے کے بعد ہوئی جس میں اس نے کہا کہ اس کے پاس ‘اس بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے کے خلاف ثبوت’ ہیں۔

نذیر احمد پر ان کے دو بڑے بھائیوں 71 سالہ محمد فاروق اور 65 سالہ محمد طارق کے ساتھ فرد جرم عائد کی گئی تھی، لیکن دونوں کو مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے اَن فٹ سمجھا گیا۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال مارچ میں شواہد کے افشا میں مسائل کی وجہ سے پہلے مقدمے کی سماعت روک دی گئی تھی۔
نذیر احمد نے نومبر 2020 میں ایک کنڈکٹ کمیٹی کی رپورٹ کے مندرجات کو پڑھنے کے بعد ہاؤس آف لارڈز سے استعفیٰ دے دیا تھا جس میں پتا چلا کہ انہوں نے اُن سے مدد مانگنے والی ایک مجبور عورت کے ساتھ جنسی استحصال کیا۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!