fbpx

نتائج حق میں آتے تو لارڈز کی پرفارمنس یادگار بن جاتی، سعود شکیل

لندن:لارڈز کے تاریخی میدان میں اپنے کیرئیر کی پہلی وکٹ حاصل کرنے اور پھر نصف سنچری بنانے والے نوجوان کرکٹر سعود شکیل نے کہا کہ اگر پاکستان لارڈز میں کھیلا گیا انگلینڈ کے خلاف دوسرا ون ڈے انٹرنیشنل میچ جیت جاتا تو ان کے لیے یہ انفرادی کارکردگی یادگار بن جاتی۔

25 سالہ کرکٹر نے میچ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے انگلینڈ کے اوپنر فل سالٹ کو 60 رنز پر بولڈ کرنے کے ساتھ ساتھ میچ میں 56 رنز کی اننگز کھیلی۔ یہ اس میچ میں کسی بھی پاکستانی بیٹسمین کا سب سے زیادہ اسکور تھا۔

مختلف ایج گروپ کرکٹ میں ملک کی نمائندگی کے بعد 2019 میں ایم سی سی کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان پر پاکستان شاہینز کی قیادت کرنے والے سعود شکیل کا کہنا ہے کہ وہ انڈر 16اور 19 کرکٹ کھیلنے کے بعد پاکستان شاہینز اور پھر قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ بنے۔ انہیں قدم با قدم قومی کرکٹ ٹیم تک پہنچنے پر فخر ہے۔

 

نوجوان کرکٹر نے کہا کہ گو کہ ان کا انٹرنیشنل ڈیبیو کارڈف میں ہوا مگر وہ لارڈز میں کھیلنے کے لیے پرجوش تھے۔وہ لڑکپن سے اس گراؤنڈ پر ہونے والی کرکٹ کو شوق سے دیکھتے تھے۔ کئی مرتبہ تو یہاں کاؤنٹی کرکٹ کے ابتدائی میچز دیکھنے کے لیے اپنا نیٹ سیشن بھی چھوڑ چکے ہیں۔

سعود شکیل کا مزید کہناہے کہ ہوم آف کرکٹ پر کھیلنے کے جذبات مختلف تھے۔یہاں میچ کھیلنا کسی اعزاز سے کم نہیں۔ کوشش تھی کہ یہاں ایسی کارکردگی کا مظاہرہ کروں جس سے ٹیم کو فائدہ ہوا۔

سعود شکیل کا کہنا ہے کہ جب انہیں بیٹنگ کے لیے کریز پر جانا تھا تو پاکستان کی پوزیشن زیادہ اچھی نہیں تھی۔ہیڈ کوچ مصباح الحق نے انہیں زیادہ دیر کریز پر ٹھہرنے کی ہدایت کی تھی تاکہ دباؤ کم ہو اور رنز بننا شروع ہوں۔ یہی بات کریز پر پہنچنے پر فخر زمان نے ان سے کہی۔ فخر زمان نے کہا کہ ابھی گیند سیم ہورہا ہے اور ہمیں پانچ اوورز تک اس میچ کو چار روزہ کرکٹ اسٹائل میں کھیلنا ہے تاکہ دباؤ کم ہو۔

نوجوان بیٹسمین نے کہا ہے کہ وہ بیٹنگ کے لیے میدان میں اترنے سے قبل خود کو چوکنا رکھنے کے لیے ڈریسنگ روم میں واک کرتے رہتے ہیں۔ کبھی گلوز او رہیلمٹ پہنتے اور اتارتے ہیں تاکہ توجہ میچ پر رہے۔

سعود شکیل نے کہا کہ انہوں نے میچ کو لمبا لے کر جانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر دوسرے اینڈ سے وکٹیں گرنے کے باعث پاکستان میچ نہیں جیت سکا۔ تاہم یہ میچ ان کے لیے بہت سبق آموز رہا اور وہ کوشش کریں گے انٹرنیشنل کرکٹ کے تجربات سے فائدہ اٹھاسکیں۔

46 فرسٹ کلاس اور 69 لسٹ اے میچز میں بالترتیب 48 اور 45 سے زائد کی اوسط سے رنز بنانے والے سعود شکیل نے 2016 میں بھی انگلینڈ کا دورہ کیا تھا۔ اس ٹور پر سعود شکیل کے علاوہ بابراعظم اور حسن علی بھی پاکستان اے کی نمائندگی کررہے تھے۔

سعود شکیل نے کہا کہ انگلینڈ کے خلاف دوسرے ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں کپتان اور نائب کپتان نے مشاورت کے بعد جب انہیں گیند دیا تو مقصد یہی تھا کہ کھیل کی رفتار کو کم کیا جائے۔ ایسے میں انہیں وکٹ سے اسپن ملنا شروع ہوا تو انہوں نے وکٹ ٹو وکٹ باؤلنگ کرنے کی کوشش کی۔ انگلینڈ کے بلے بازوں نے انہیں پارٹ ٹائم باؤلر سمجھا، جس پر انہیں وکٹ مل گئی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے بین الاقوامی کیرئیر کی پہلی وکٹ حاصل کرنے پر بہت خوشی ہے۔ وہ عموماََ اتنی جوشیلی سیلبریشن نہیں کرتے مگر وہ جذبات قدرتی تھے جو اس وقت باہر آئے۔

نوجوان کرکٹر پرامید ہیں کہ پاکستان انگلینڈ کے خلاف آخری ون ڈے میچ جیتنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ قومی کرکٹ ٹیم میں باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں اور کوشش ہے کہ آخری میچ جیت کر سیریز کو اچھے انداز سے ختم کریں۔