ایل پی جی انڈسٹری سے متعلق حکومت کیا نئی پالیسی بنا رہی ہے؟ خبر آ گئی

حکومت نے ایل پی جی انڈسٹری کے لیے طویل المدتی پالیسی تشکیل دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ایل پی جی انڈسٹری پر کوئی نیا ٹیکس نہیں‌ لگایا جائے گا۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق وزارت پٹرولیم میں معاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابر کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایل پی جی پرڈیوسرز۔مارکیٹنگ کمپنیوں’امپورٹرز اور ڈسٹری بیوٹرز کے نمایندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ قدرتی گیس کی پیداوار میں گزشتہ کئی سالوں سے اضافہ نہیں ہوا جس کی وجہ سے سرما میں خاص طور پر گیس کی قلت کا سامنا رہا۔معاون خصوصی ندیم بابر نے کہا کہ قدرتی گیس کی پیدوار میں متوقع کمی کے پیش نظر دونوں گیس کمپنیوں کے پائپ لائن کے نیٹ ورک میں توسیع نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے وفاقی حکومت ایل پی جی کے استعمال کے فروغ کے لیے ایک نئی پالیسی بنا رہی ہے تاکہ تمام سیکٹرز کو ایل پی جی پر منتقل کیا جا سکے.

معاون خصوصی نے کہا کہ وفاقی حکومت دونوں گیس کمپنیوں کے نیٹ ورک میں توسیع کی وجہ سے اربوں روپے کا خسارہ ہو رہا ہے۔ ایل پی جی کے استعمال سے ان کمپنیوں کے خسارہ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔اجلاس میں شامل ایک افسر کا کہنا تھا کہ ایل پی جی پر نیا ٹیکس نہ لگایا جاے گا اور نہ ہی درامدی ایل پی جی پر ریگولیٹری ڈیوٹی بحال کی جاے گی۔ درآمدی ایل پی جی پر ریگولیٹری ڈیوٹی لگانے سے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ایل پی جی ایسوسی ایشن کے فاونڈر چئیرمین عرفان کھوکھر نے بتایا کہ ایل پی جی آٹو سیکٹر اور متبادل  ایندھن سے65 فیصد اور سی این جی سے 20 فی صد  سستی ہے ۔آٹو سیکٹر میں ایل پی جی کے استعمال سے درامدی بل کم کرکے اربوں ڈالرز کا زر مبادلہ بچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دس ماہ میں ایل پی جی کی قیمت اوگرا کی مقررہ کردہ قیمتوں سے کم رہی ہے۔ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز اور مارکیٹنگ کمپنیوں نے مطالبہ کیا کہ سگنیچر بونس کو بھی ختم کیا جاے۔ معاون خصوصی ندیم بابر نے نئی پالیسی میں سگنیچر بونس ختم کرنے کی یقین دہانی  کرائی ہے.

واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ایل پی جی انڈسٹری سے وابستہ سٹیک ہولڈرز نے صارفین کو سستی اور میعاری گیس کی فراہمی کے لیے ایل پی جی کی پیداوار میں اضافے اور پالیسی 2016 کے از سر نو جائزے کا مطالبہ کیا تھا ، سٹیک ہولڈرز نے ایل پی جی انڈسٹری میں استعمال ہونے والے غیر معیاری آلات بنانے اور اس کی خریدو فروخت پر فو ری پابندی لگانے کا بھی مطالبہ کیا تھا ، اس ضمن میں ایل پی جی ایسوسی ایشن کی جانب سے صوبائی اور وفاقی حکومت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ گیس بحران سے بچنے کیلئے ایل پی جی انڈسٹری کے مسائل کے حل کیا جائے ایل پی جی انڈسٹری ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی جانب سے صوبائی وزیر توانائی ،گورنر پنجاب کو تجویز دی گئی ہے کہ گیس بحران پر قابو پانے کیلیے لوکل پیدا ہونے والی ایل پی جی تمام مارکیٹنگ کمپنیوں میں مساوی بنیاد پر تقسیم کی جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.