fbpx

لنڈے بازاروں میں بھی مہنگائی نے پنجے گاڑ لئے

کراچی : لنڈے بازاروں میں بھی مہنگائی نے اپنے پنجے گاڑ لیے ،شہریوں کیلئے گرم کپڑوں کی سستے داموں خریداری بھی پہنچ سے دور ہونے لگے ۔

تفصیلات کے مطابق لنڈے بازاروں میں بھی مہنگائی نے اپنے پنجے گاڑ لیے ،شہریوں کیلئے گرم کپڑوں کی سستے داموں خریداری بھی پہنچ سے دور ہونے لگے ۔ شہری اور د کاندار دونوں مہنگائی کا رونا لگے ،سفید پوش افراد کا سفید پوشی کا بھر م رکھنا بھی مشکل ہوگیا۔چھٹی کے روز شہریوں کی بڑی تعداد نے لنڈے بازاروں کا رخ کیا تاہم زیادہ تر شہریوں کو خالی ہاتھ ہی واپس لوٹنا پڑا اور لنڈے بازاروں میں بھی کئی شہری صرف بھائو تائو کرنے تک ہی محدود رہے ۔
شہری کی جانب سے مہنگائی میں کئی گنا اضافے کا گلہ کیا جاتارہا جبکہ د کاندار مہنگائی کے باعث مال کی فروخت میں کمی دکھڑا سناتے رہے ۔اس حوالے سے شہریوں نے بتایاکہ مہنگائی کی ماری عوام کا ایک واحد سہارا لنڈا بازار ہے جہاں سردیوں میں تن ڈھانپنے کو کپڑے مل جاتے تھے تاہم اب یہ ایک خواب بنتا جارہا ہے خود تو گزارا کرلیں تاہم بچوں کیلئے خریداری بہت ضروری ہے مہنگائی اتنی زیادہ ہے برانڈڈ کپڑے لینا بس کی بات نہیں ہے پہلے 1000روپے میں 3سے 4 بچوں کے کپڑوں کی خریداری ہوجاتی تھی تاہم اب 600روپے میں صرف ایک بچے کے کپڑ ے آتے ہیں ۔
بچوں پہننے والی ہائی نیک،پاجامے جو آرام سے 30روپے سے 50روپے میں مل جاتے تھے وہ اب100سے کم میں دستیا ب نہیں ہیں ۔سیکنڈ ہینڈ جیکٹ500سے 700روپے میں مل رہی ہے دوسری جانب د کاندار بھی مہنگائی کے باعث مال فروخت نہ ہونے کا شکوہ کرتے رہے ۔دکانداروں نے بتایاکہ ہم بھی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہیں ہر چیزکے دام بڑھ گئے ہیں پہلے جو بنڈل 10ہزار میں آتا تھا اب وہ 17ہزار میں آرہا ہے تو ہم کیسے سستے داموں فروخت کر یں ۔
ایک دکاندار نے کہاکہ اس نے 30ہزار روپے کا مال خرید کر فروخت کے لیے رکھا ہوا ہے لیکن تین دنوں میں صرف3500روپے کا ہی مال فروخت ہوسکا،شہریوں کی بڑی تعداد خریداری کیلئے تو آتی ہے لیکن اس میں سے صرف آدھی ہی خریداری کرتی ہے باقی دام پوچھ کرچلے جاتے ہیں ۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!