fbpx

ماں باپ اور بچے تحریر: سحر عارف

بچہ پیدا ہوتے سب کچھ سیکھ کر تھوڑی آتا ہے بلکہ وہ تو جو کچھ سیکھتا ہے اپنے اردگرد کے ماحول سے سیکھتا ہے جس میں سب سے پہلے اس کے ماں باپ، بڑے بہن بھائی، دادا دادی اور گھر کے باقی سب افراد آتے ہیں۔ لیکن ان میں بھی سب سے پہلے وہ ماں باپ سے سیکھنا شروع کرتا ہے۔

ظاہر ہے جب بچوں کے اردگرد کا ماحول اچھا ہوگا تو وہ سب کچھ اچھا ہی سیکھے گا۔ اسی طرح سے ماں باپ اگر کچھ غلط کرتے ہیں، اگر وہ بچوں کے سامنے لوگوں کی غیبت یا ان سے لڑائی جھگڑا کرتے ہیں تو اس وقت ان ننھا سا دماغ یہ سب کچھ کمپیوٹر کی میمری کی طرح اپنے اندر محفوظ کرلیتا ہے۔

پھر جیسے جیسے وہ بڑا ہونے لگتا ہے تو ان باتوں کا جن کو اس نے چھوٹی سی عمر میں اپنے دماغ میں محفوظ کیا تھا استعمال میں لانا شروع کردیتا ہے اور یہ چیز اس کے رویے سے صاف ظاہر ہوتی چلی جاتی ہے۔
بہت پڑھے لکھیں ماں باپ بھی اگر ہوں تو ان کی بھی اولاد غلط راہ پر نکل پڑتی ہے اور اس کی وجہ باز اوقات صرف اور صرف والدین کی لاپرواہی ہوتی ہے۔

بچے جب چھوٹے ہوتے ہیں تو انھیں صرف ماں باپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ماں باپ پاس ہوں، ہماری ننھی ننھی شرارتیں دیکھیں اور خوش ہوں لیکن جب ایسا نہیں ہوتا تو بچے بہت کچھ اپنے ذہنوں پر سوار کرلیتے ہیں۔

یہاں امیر ماں باپ دیکھے ہیں جو بچوں کو ان کی چھوٹی عمر میں ہی ملازموں کے حوالے کر دیتے ہیں صرف اپنی مصروفیات کی وجہ سے، پر کیا مصروفیات اولاد سے زیادہ قیمتی ہوتی ہیں؟ شاید یہی وجہ ہے کہ پھر بچے بھی ماں باپ سے دور ہو جاتے ہیں۔

اسی لیے ماں باپ کو چاہیے کہ بچوں کو سمجھیں انہیں اس وقت اکیلا نا چھوڑیں جس وقت بچوں کو سب سے زیادہ ماں باپ کے پیار اور ان کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یقین جانے وہی بچے پراعتماد اور باحوصلہ ہوتے ہیں جنہیں ماں باپ کی توجہ زیادہ ملتی ہے۔

@SeharSulehri