ماں باپ…!!! بقلم:جویریہ بتول

ماں باپ…!!!
[بقلم:جویریہ بتول]۔
کہو میں کیسے اظہار کروں…؟
کیا چند لفظوں میں بس پیار کروں…؟
تو حروف کا کاسہ بھی ہے خالی…
کہ ان کا رتبہ تو ہے بہت عالی…
میرے پاس وہ لفظ بھی نہیں…
نہ میرے اندر وہ فن ہے…
کہ اُن کی اہمیت بتا سکوں…
اور اُن کا جو بڑا پن ہے…
میرے عدم سے وجود تک…
جو اپنا آپ کھپا گئے…
مری دنیا میں آمد کے بعد…
یہ سکون اپنا بھلا گئے…
میری نیند کے سکوں کی خاطر…
جو شب بھر جھولا ہلاتے رہے…
میں بے سکون کہیں ہو نہ جاؤں…
ہر لمحہ مجھے جو بہلاتے رہے…
مرے نرم و نازک سے بدن پر…
جو حسین لباس پہناتے رہے…
خود پہن کر بوسیدہ پوشاک…
ہر آن مجھے ہی سجاتے رہے…
جو خود کھا لیتے تھے روکھا سوکھا…
مجھے نرم و تازہ غذا کھِلاتے رہے…
میں قدموں پہ جب سنبھلنے لگی…
تو انگلی تھام کر چلاتے رہے…
میری بات بات کی ضد پہ جو…
پیچھے پیچھے چکر لگاتے رہے…
میرے ہونٹوں پہ سلوٹ بھی نہ مچلے…
یوں بانہوں میں مجھ کو جھلاتے رہے…
مری ننھی سی آنکھوں میں چمک رہے…
ہر آن مجھے یوں ہنساتے رہے…
وقت کی رو کے ساتھ بہتے ہوئے…
مرے دل میں جو ارماں اُٹھتے رہے…
وہ ہر حال میں مقدور بھر نبھاتے رہے…
اپنی خواہشات کی دے کر قربانی…
میری خاطر جو خود کو جَلاتے رہے…
مجھے بٹھا کر سایہ شجر تلے…
جو خود دھوپ میں پسینہ بہاتے رہے…
مجھے گھر کی جنت کا سکون دے کر…
باہر کے گرم و سرد سے خود کو لڑاتے رہے…
میرا وجود وقت کے ساتھ بڑھتا گیا…
وہ دل کو اپنے دلاسہ دلاتے رہے…
ہمارے ناتواں کندھوں کا سہارا ہو کوئی…
یہ ارماں وہ سینوں میں سجاتے رہے…
بڑھاپے کی ناتوانی میں بھی جو…
ہنوز گرتے پڑتے بھی گھر کو بناتے رہے…
مرے پاس نہیں کُچھ چشمِ تر کے سوا…
یا دے دوں انہیں ذرا بس حوصلہ…
میرا عزم بھی بہت ہیچ ہے…
نہ ہی احساس میں وہ اونچ ہے…
جیسا عمر بھر وہ مجھ پر لنڈھاتے رہے…
میرے پاس کیا ہو،میں کیا دوں انہیں؟
جو بن کر حصار مجھ پر منڈلاتے رہے…!!
میں نے ستایا ہو گا،کبھی رُلایا بھی ہو گا…
کبھی ناراضگی و غصہ دکھایا بھی ہو گا…
میں کیسے خراجِ عقیدت پیش کروں…؟
جو میرے صرف ایک لفظ پر…
ہر ہر بار مسکراتے رہے…!!!
منتوں،مرادوں کی نوبت نہ آئی…
وہ اکثر خود ہی مجھ کو مناتے رہے…
ایسا احساس و رشتہ دائم ہے ناپید…
جو رکھے کسی کو دل کی محبّت سے قید…
میں نے لفظوں کے پھول تلاشے بہت ہیں…
کوشش کے باوجود بھی بہت کم ہیں…
اُن جذبوں کا لفظوں سے کیا تقابل…؟
جو وہ اخلاص سے مجھ پر لُٹاتے رہے…!!!
لفظوں کے سوا بھلا پاس میرے کیا ہے؟
ابھی تک اُن کے لیئے کیا بھی کیا ہے؟
ابھی تو قدموں پہ اپنے وہ چلتے ہیں بخیر…
ابھی تو جیتے ہیں وہ خدمت کے بغیر…
اُن کے حق کی ادائیگی ممکن نہیں…
چاہے کندھوں پر اُٹھا کر بھی ہم پھرتے رہے…
اُن کی جدوجہد کا تو سفر ہے طویل…
ہماری خدمت کے وہ طلبگار ہیں بہت قلیل…
وفاؤں کا بدلہ پھر وفا ہونا چاہیئے…
محبتوں کا صلہ نہ جفا ہونا چاہیئے…
وہ چاہتوں کی رہ کے رہے ہیں مسافر…
وہ محبتوں کے ہی جام بھرتے رہے…
وہ آسودگی کے سامان ہی کرتے رہے…
ہواؤں کی تلخیوں کی زد میں…
وہ جیتے رہے،کبھی مرتے رہے…
کہیں اولاد پر نہ آ جائے کوئی اُفتاد…
اسی خیال سے بس وہ ڈرتے رہے…!!!
کہو میں کیسے اظہار کروں…؟
کیا چند لفظوں میں بس پیار کروں…؟؟؟
(Global day of parents,appreciating their struggle with my pen).
=============================

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.