fbpx

ماؤں کی تاریخ میں ایک روشن مثال…. حضرت ہاجرہ تحریر :اقصٰی صدیق

"ماں” پیکر ہے لازوال شفقت و محبت، وفا اور بے مثال قربانی کا!
اسلام نے عورت کو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی ہر حیثیت میں عزت و عظمت عطا کی۔
دنیا کی پوری تاریخ ایسی کوئی مثال پیش نہیں کر سکتی، جو ماں کی مثال سے بڑھ کر ہو۔یہ ماں کی ممتا اور ماں ہی کا جگر ہے جو اپنی اولاد کے لیے بڑی سے بڑی آزمائش اور تکلیف برداشت کر لیتی ہے۔ماں کی خدمت اس کے خلوص اور اس کے ایثار و قربانی کے جذبے کا کوئی نعم البدل نہیں۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
"ماں ایک احساس ہے جو فطرت کے لطیف ترین جذبوں کو لباس اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔جس طرح دنیا کی ہر زبان کے حروف تہجی کی ابتداء الف سے ہوتی ہے، بالکل اسی طرح محبت کی انتہا اور ابتداء لفظ ماں سے ہوتی ہے۔
” ماں کا دل موم کی مانند ہوتا ہے جو اولاد کی محبت میں پگھل جاتا ہے "۔ (بحوالہ : ڈاکٹر محمود الرحمن /ماں کی عظمت)
محبت، شفقت، خلوص اور ایثار و قربانی یہی وہ جذبہ ہے جو ہر وقت اور ہر دم بچوں پر سایہ اور ڈھال بنا رہتا۔ماں اولاد کے ہر دکھ، ہر مصیبت اور ہر تکلیف میں سایہ رحمت اور سائبان بنی نظر آتی ہے، ہر دکھ سہہ کر اولاد کو راحت پہنچاتی ہے۔
لفظ "ماں ” کے تین حروف "م” ” ا” اور” ن ” کا مجموعہ ایثار و محبت سے بنا ہے۔
"م” محبت کا پیکر، "ا” ایثار اور "ن” کی اساس ناز ہے۔ لفظوں کا یہ مجموعہ ماں شفقت و محبت اس کا شیوہ، ایثار اس کا ایمان اور اولاد پر ناز اس کی کمزوری ہے۔
اگر انسانیت کی پوری تاریخ دیکھی جائے اور ماں کی محبت احترام، تقدس اور ایثار کا جائزہ لیا جائے تو حضرت ہاجرہ ؑ کا کردار بے مثل، بے پناہ محبت اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نگہداشت کا کوئی اور واقعہ اتنا تاریخ ساز اور منفرد نظر نہیں آئے گا۔
اگر ماؤں کی تاریخ مرتب کی جائے تو صرف حضرت ہاجرہ ؑ کا تذکرہ اس پورے تذکرے پر اس طرح حاوی ہو جائے گا کہ دوسری تمام مائیں اس کی قربانی اور محبت سے فیض یاب ہوتی نظر آئیں گی۔
عرب کا تپتا ہوا صحرا، دور دور تک کوئی سبزہ نہیں، آگ کی مانند چٹانیں اور پہاڑیاں، جن پر نگاہ ڈالنے سے آنکھوں میں بھی تپش اور جلن سی محسوس ہونے لگے۔
تو اس آگ اَگلتی ہوئی وادی میں انسانی وجود کا تصور اور وہ بھی کیسے انسان، ایک شیر خوار بچہ اور اس کی ماں جسے صنفِ نازک کہا جاتا ہے، اس میں اس طرح بیٹھے ہوں جنہیں اپنے پروردگار کی قدرت پر پورا ایمان و یقین ہو۔شریکِ حیات، روٹی کے چند ٹکڑے اور پانی کا ایک مشکیزہ رکھ کر واپس جا رہا ہو۔
ہاجرہ ؑ پوچھ رہی ہوں کہ اے ابراہیم علیہ السلام یہ سب کیا کر رہے ہو۔ روٹی کے چند ٹکڑوں اور پانی کے ایک مشکیزہ پر ہم کیسے گزارہ کریں گے، اور پھر اس کے بعد ہمارا کیا ہوگا۔
اور وہ یہ کہتے ہوئے جا رہے ہوں کہ اللہ پر بھروسہ رکھو، اور میں اسی کے حکم سے تم دونوں کو یہاں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔
ماں کا صبر و شکر دیکھنے کے قابل ہے، اپنی پرواہ نہیں کرتی بلکہ بچے کی معصوم صورت پر نظر ڈال کر اللہ کے آگے سر جھکا لیتی ہے، اس وقت ماں کے دل پر کیا گزر رہی ہو گی؟
ماں کی ممتا تڑپ رہی ہو مگر وہ پیکر تسلیم و رضا بنی اپنے جگر گوشے کو سینے سے لگائے ہوئے قدرت خداوندی کے کرشمے کی منتظر ہے۔
آخر کار وہی ہوا پانی کا ایک مشکیزہ آخری قطرے بھی اپنے اندر سے انڈیل کر اپنی بے چارگی کا اظہار کر رہا ہے۔ شرم کے مارے آنکھیں خشک ہو گئی ہیں، مشکیزہ اپنی بے چارگی اور بے بسی پر افسردہ ہے۔
کاش! اس وقت ندامت کے کچھ آنسو ہی مشکیزہ سے نکل پڑتے کہ معصوم کی جان بچ جاتی۔
حضرت ہاجرہ ؑ بے چین اور بے قرار ہو جاتی ہیں، پانی کی تلاش میں اِدھر اُدھر بھاگتی ہیں، لیکن کہیں پانی موجود نہیں اور بچے کا وجود خطرے میں پڑ رہا ہے۔ بچے کو لیے سوچتی ہیں کہ پانی کہاں سے لاؤں۔
سامنے ایک پہاڑی نظر آتی ہے سوچتی ہیں کہ اس پر چڑھ کر دور کہیں نظر دوڑائیں شاید کہیں پانی نظر آ جائے۔صفا پر جاتی ہیں پانی نظر نہیں آتا، تھوڑی دور ایک اور پہاڑی نظر آ رہی ہے جو صفا کے سامنے ہے، دوڑتی ہیں اور اس پہاڑی پر جا کر نظر دوڑاتی ہیں۔
اس طرح صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا کی دوڑ ہو رہی ہے۔
ادھر اللہ رب العزت فرشتوں کو حکم دے رہا ہے کہ دیکھو، غور کرو اس ماں کی محبت کی یہ ادا ہمیں تمام امت مسلمہ کے لیے فرض کرنا ہے۔میں آنے والی نسلوں کو تاقیامت یوں ہی بے قرار دوڑتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں۔
اس کے بعد ہی ماں کی بے قراری پر اللہ رب العزت کی رحمت کو جوش آتا ہے اور اچانک حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیوں کی رگڑ سے پتھر کا دل موم ہو جاتا ہے۔آبِ شیریں کا چشمہ ابل پڑتا ہے، جس میں سے پانی بہنا شروع ہو جاتا ہے، یہ پانی نہیں بلکہ آبِ حیات تھا۔
صرف ان ماں بیٹے کے لیے نہیں، بلکہ قیامت تک آنے والی تمام نسلوں کے لیے تھا، جنہوں نے ابراہیم علیہ السلام کے دین کو پڑھنے کا عہد کیا۔
حضرت ہاجرہ ؑ زم زم کہہ کر اسے روکتی ہیں، اور بچے کو یہ پانی پلا کر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتی ہیں۔
مینڈھ باندھ کر پانی کو روک لیا گیا ہے، خوش نوا پرندے پانی کی تلاش میں ادھر آتے ہیں، قبیلہ جرہم پرندوں کو اڑاتا ہوا دیکھ کر آ کر یہیں قیام کر لیتا ہے۔
یہ قبیلہ شاید اسی لیے آیا تھا کہ ان ماں بیٹے کی نگہداشت کر سکے۔
درحقیقت ماں کی محبت اور قربانی کا یہ واقعہ تاریخ کے صفحات میں اس طرح پھیلا ہوا ہے کہ ہر صفحے سے ماں کا تصور اس طرح ابھرتا ہے، کہ آدمی ماں کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں سوچ سکتا۔

@_aqsasiddique