fbpx

ماں نے سلا دیا ہے تھپک کے لال کو تحریر محمد وقاص شریف

اعتزاز حسن نے اپنی ایک نظم میں ریاست کو ”ماں“کا درجہ دیکر ہر خاص و عام کو ایک امید کی کرن دلائی اور عوام میں یہ شعور جگایا کہ ریاست کا اصل کردار اپنے عوام کو ماں جیسی توجہ دینا ہوتا ہے،ایک ماں کا کردار ایسا مثالی کہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو ستر ماؤں جیسا پیار دینے والا قرار دیا ہے۔ہم جس ملک میں رہ رہے ہیں وہ پاکستان کم اور مسائلستان زیادہ ہے۔”ایک ماں کا تصور لے کر ملک کا حکمران بننے والا خود بچہ بن جاتا“ الٹا ملک کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ اُس بچے کو سہارا دے۔پاکستان ایک ترقی پزید ملک ہے اور ترقی یافتہ بننے کے لئے ہاتھ پاؤں ماررہا ہے۔یہاں غربت کی شرح بہت زیادہ ہے،ملک کی آدھی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔حق یہ بنتا ہے کہ اس ملک کی پالیسی میں غریب اور غربت پہلے نمبر پر ہو لیکن یہاں عوام پر پیسہ لگانے کا رجحان نہایت کم ہے۔ریاست مدینہ میں انڈر پاس، اوورہیڈبرج،فلائی اوور،میٹرو اونج ٹرین اور موٹر وے کا تصور تک نہیں۔نبی اکرمﷺ نے اپنی ساری توجہ لوگوں پر دی، اپنے اعلیٰ اخلا ق سے لوگوں کے دل جیتے۔مدد کیلئے آنے والے شخص کو پیسے نہیں دیئے کلہاڑا دیا اور بازار کی راہ دکھائی۔لوگوں پر سرمایہ کاری کی۔انتہائی محدود ذرائع کے باوجود وہ ریاست مدینہ قائم کردی جس کے خواب آج کے حکمران بھی دیکھ رہے ہیں۔ڈیڑھ سال ختم ہونے کو ہے،ریاست مدینہ کے علاوہ ہر وہ کام ہورہا ہے جس کی مخالفت 22سال تک کی جاتی رہی۔عمران خان کی یہ بدقسمتی ہے کہ جن امور کی وہ ساری زندگی مخالفت اور تنقید کرتے رہے،حالات ان سے وہ سارے کے سارے کام کروا رہے ہیں جس کی وجہ سے PTIکا ورکر،سپورٹر اور ووٹر شرمندہ شرمندہ دکھائی دیتا ہے اور اُس کی اڑان اب جواب دیتی جارہی ہے۔یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ حکومت کوئی بھی ہو غریب کو اپنے مسائل کا حل درکار ہوتا ہے جو حکومت اسے روٹی، کپڑا،مکان،صحت، تعلیم کاتھوڑا سا بھی حصہ دے دے وہ حکومت عوامی ہوجاتی ہے۔بھٹو نے روٹی،کپڑا اور مکان کا نعرہ دیا اور اس پر 10%بھی عمل درآمد نہ ہوسکا لیکن جتنا قلیل عمل ہوگیا اس نے بھٹو کو نہ صرف یہ عوامی لیڈر بنا دیا بلکہ وہ ساری زندگی کے لئے”امر“ ہوگئے۔آج بھی ان کا نام بیچا جارہا ہے اور شائد اگلے 20سال تک بھی بھٹو زندہ رہے گا۔وہ دن کسی بھی پاکستانی حکومت کے لئے کامیابی اور کامرانی کا پہلا د ن ہو گا جس دن عوام پر پیسہ لگانے کا عملی کام شروع ہوگا۔ چائنا نے اپنی قوم پر پیسہ لگایا،غربت ختم ہوگئی وہاں کے لوگوں نے اس عمل کاReturnدینا شروع کیا،عمل کا ردعمل سامنے آیا اور چائنا دنیا کا دوسرا بڑا کامیاب ملک بن گیا۔آج امریکہ کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں کیونکہ اگلے دس سالوں تک امریکہ کی چودھراہٹ چین کے ہاتھوں ختم ہونے جارہی ہے۔یہ ساری کامیابی غربت کے خاتمے اور عوام پر سرمایہ کاری کی مرہوں منت تھی۔کیا پاکستان میں ایسا ممکن نہیں؟ تو جواب یہ ہے کہ ہاں ایسا ممکن ہے کیونکہ پچھلی حکومتوں نے انفراسٹرکچر پر اتنا کام کردیا ہے کہ اب مزید پیچھے صرف عوام ہی رہ گئے ہیں،اگر اینٹ گارے سے حکومتیں کامیاب ہوتیں تو مسلم لیگ نواز کا حق بنتا تھا کہ انہیں اگلے 20سال بھی ملتے۔یہ ایک مثال ہے جو عمران حکومت کیلئے سبق ہونی چاہئے۔بدقسمتی سے ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود حکومت میں سب کچھ ہے لیکن عوام نہیں۔تاریخ پہ تاریخ ڈالی جاری ہے اور مہلت پہ مہلت مانگی جارہی ہے لیکن یاد رہے دنیا کی تاریخ میں عوام اقتدار تو دے دیتے ہیں لیکن مہلت نہیں دیتے،کارکردگی نہ دکھانے والے ماضی کا قصہ بنا دیئے جاتے ہیں۔عمران خان کو بھی اقتدار دے دیا گیا ہے۔Deliverنہ کیا گیا تو مہلت ان کو بھی نہیں ملے گی کیونکہ عوام کو ریلیف درکار ہوتا ہے، حکومت چاہے نمرود کی ہی کیوں نہ ہو
@joinwsharif7