fbpx

ماں کی تربیت – تعمیر شخصیت. تحریر: سید غازی علی زیدی

سیرت فرزندہا از امہات
جوہر صدق و صفا از امہات
(فرزندوں کی سیرت اور روش زندگی ما ؤں سے ورثے میں ملتی ہے۔صدق و خلوص کا جوہر ماؤں سے ملتا ہے۔ علامہ اقبال)

ماں ایسا لفظ جو ہر زبان میں خوبصورت اور سکون و شفقت کا احساس دل میں جگاتا ہے۔ بچےکی پہلی درسگاہ ماں کی آغوش۔
دور جدید کی چائلڈ سائیکالوجی ہو یا زمانہ قدیم کے اقوال زریں، ماڈرن تحقیقی مقالات ہوں یا مذہبی صحیفے، یورپین "ارلی چائلڈ ہوڈ ڈویلپمنٹ” کی بات ہو یا مشرقی تہذیب میں بچوں کی نشوونما، ماں کا کردار ہر حال میں اولین حیثیت رکھتا ہے۔ جدیدیت و مادیت پرستی کی آڑ میں بچوں کی پرورش و تربیت میں ماں کے کردار میں کمی کرنا یا اسے متبادل طریقے اپناکر کم کرنے کی کوشش کرنا نہ صرف ماں و بچے کیساتھ زیادتی ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کا بنیادی سبب بھی ہے۔

"تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دوں گا” نپولین بوناپارٹ
تمام جدید سائنس و نفسیات اس بات پر متفق ہے کہ کسی بھی بچے کی زندگی کے پہلے پانچ سال انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے جس میں بچے کی نہ صرف بنیادی جسمانی نشوونما ہوتی بلکہ ذہنی، نفسیاتی و شعوری نشوونما بھی تشکیل پاتی۔ اس عمر میں بچے کو سب سے زیادہ توجہ، محبت اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی اگر کوئی کمی رہ جائے تو وہ مناسب سدباب نہ کرنے کی صورت میں تاعمر کیلئے روگ بن سکتی۔

لیکن ہماری سماجی بدقسمتی کہیں یا ماڈرن و لبرل نظر آنے کی احمقانہ خواہش کہ ہم بغیر سوچے سمجھے اپنی نسلوں کو بگاڑ رہے اور ہمیں اس خسارے کا احساس تک نہیں۔ وہ ماں جس کی بدولت پورا معاشرہ تشکیل پاتا وہ جدیدیت و لبرل ازم کی رو میں بہہ کر اپنا اصل مقصد فراموش کر بیٹھی ہے۔ ذریعہ معاش و پیشہ ورانہ زندگی کیلئے تگ ودو کرتی مائیں اپنی اولاد یعنی اصل سرمایہ حیات کو جانے انجانے میں بے توجہی کی نذر کر رہی ہیں جبکہ گھریلو خواتین کا مرکز ارتکاز بھی اب اولاد کی پرورش سے ہٹ کر سماجی روابط اور سوشل و الیکٹرانک میڈیا تک محدود ہو گیا ہے۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ آج کل کی ماؤں میں اپنی اولاد کیلئے محبت و شفقت میں کمی آئی ہے۔ نہیں، ہرگز نہیں بس اب ترجیحات بدل گئی ہیں۔ان کے لیے بچے کے برانڈڈ کپڑے، امپورٹڈ کھلونےو مشینری، مہنگی تعلیم کا حصول زیادہ اہم ہے۔ مائیں ہلکان ہو جاتی ہیں کہ بچے مقابلے میں کسی دوسرے بچے سے پیچھے نہ رہ جائیں لیکن صد افسوس یہ مسابقت و مقابلہ بازی صرف اور صرف مادیت پرستی تک محدود ہے۔ آکسفورڈ و کیمبرج کی کتابیں تو فراہم کردیتی ہیں اور پڑھا بھی دیتی لیکن بنیادی اخلاقی اقدار سکھانے کا وقت نہیں۔ فروزن اور فاسٹ فوڈ تو کھلا دیں گی لیکن کھانے کے آداب نہیں سکھا سکتی کہ کون اپنے مصروف لائف سٹائل سے وقت نکال کر اس جھنجھٹ میں پڑے۔ بچے تھکے ہارے سکول سے آتے اور کھانا لیکر ٹی وی یا وڈیو گیم کے سامنے بیٹھ جاتے۔ نہ پتا کیا کھا رہے نہ پتا کیسے کھا رہے۔

لیکن اس ساری صورتحال میں صرف ورکنگ وومن کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا بلکہ گھریلو خاتون خانہ بھی برابر کی شریک کار ہے۔
کیا آج سے تیس سال یا بیس سال پہلے ورکنگ وومن نہیں تھیں؟
بالکل ہوتی تھیں اور ان کے بچے زیادہ منظم اور تمیزدار ہوتے تھے کیونکہ ان کی زندگی ایک مخصوص نظم و ضبط کے مطابق بسر ہوتی تھی۔ جبکہ گھریلو خواتین کا کیونکہ مکمل دھیان بچوں کی پرورش پر ہوتا تھا اسلئے بچوں کی ابتدائی تعلیم کا آغاز گھر سے ہی ہوجاتا تھا۔ ہر دو قسم کی مائیں اپنی اولاد کیلئے ہمہ وقت موجود ہوتی تھیں۔ بچوں کی بھی بہترین و اولین دوست و رہنما ان کی ماں ہوتی تھی۔ ہر تکلیف، پریشانی، مسئلہ ماں کو بتانا لازمی ہوتا تھا۔اولاد جوان ہونے کے بعد بھی ماں کی نہ اہمیت کم ہوتی تھی نہ مقام میں کوئی فرق آتا تھا۔ لیکن کیا آج کل بھی ایسا ہے؟

بیشک نہیں۔ معذرت و افسوس کیساتھ آج کل کے بچوں کا اولین رہنما ٹی وی اور بہترین دوست موبائل ہے۔ اخلاق باختہ مواد، بیہودہ زبان اور ہندی میں ڈب کیے گئےکارٹون ان کی تربیت کررہے اور معصوم بچوں کو پیارو محبت کے نام پر جنس زدہ کررہے۔ وہ والدین جو بچوں کو مکمل طور پرملازمین کے حوالے کر جاتے جو ان معصوموں کو ذہنی و جسمانی طورپر پامال کرتے ان کے کچے ذہنوں کو جنسی طور پر آلودہ کرتے اور پھر ہم حیران ہوتے جب ایک دس سال کا بچہ چار سال کی بچی کا ریپ کر دیتا۔ جب ایک چھ سال کا بچہ سکول کی اسمبلی میں نیکر اتار کر ننگا ہوجاتا یا بارہ سال کی بچی محبت کے نام پر حاملہ ہو جاتی۔

یہ سب نہ توافسانوی قصے ہیں نہ ہی کسی ایک طبقے کی کہانی۔ بلکہ غریب ترین طبقے سے لیکر امیر ترین طبقے تک کے سچے واقعات ہیں جن کی تعداد ہر روز خطرناک طور پر بڑھ رہی اور ہم صرف ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرارہے۔ ماڈرن اور مذہبی اقدار و تعلیمات کی جنگ میں ہم ان بچوں کو بھول گئے ہیں جو ہمارا مستقبل ہیں۔
ماڈرن ماؤں کو احساس دلاؤ تو عورت مارچ والے شاہراؤں پر بینرز لیکر آجاتے اور قدامت پسند خواتین کو اصلاح کا کہو تو مذہبی ٹھیکیدار سڑکیں بلاک کردیتے۔ ہر دو اپنی اپنی جگہ بالکل ٹھیک لیکن پھر بھی بچے بگڑتے جارہے۔ یہ بگاڑ اب واضح ہو کر ایک بھیانک مستقبل کی نشاندہی کر رہا لیکن کوئی نہ سمجھنے کو تیار ہے نہ ذمہ داری لینے کو الٹا نشاندہی کرنے والے کو ہی لعن طعن کیا جاتا۔
کیا یہ کھلی حقیقت نہیں کہ پہلے بچوں کو سونے سے پہلے آیت الکرسی پڑھائی جاتی تھی اور اب سٹوری بکس یا نرسری رائمز؟ سات سال کے بچے کو فجر کیلئے اٹھایا جاتا تھا لیکن اب بچے کی نیند خراب ہوگی یہ کہہ کر بڑے بچوں تک کو فجر کا نہیں پتا۔
کیا یہ ہمارا المیہ نہیں؟پھر ہمیں ریاست مدینہ بھی چاہیے۔ کیا یہ بھی حکمرانوں کے کرنے کا کام ہے؟

ماں کی تربیت کا مقابلہ دنیا کا مہنگے سے مہنگا تعلیمی ادارہ نہیں کر سکتا۔ ماڈرن ترین ماؤں کو یہ حدیث تو ازبر ہے کہ "ماں کے قدموں تلے جنت ہے” لیکن ماں کی کونسی ذمہ داریاں ہیں جن کو پورا کرنے پر جنت کی بشارت ہے اس سے انجان ہیں۔ ماں کا کام اولاد کو پیدا کر کے پھینک دینا نہیں بلکہ اس کی تربیت کرنا ہے۔اولاد کو خوراک فراہم کرنا ماں کا کام نہیں بلکہ اسلام میں ایک ماں اپنے شوہر سے اپنے ہی بچے کو دودھ پلانے کا معاوضہ لینے میں بھی حق بجانب ہے۔ لیکن تربیت کرنا ماں کا اولین فرض ہے جس کیلئے وہ اللّٰہ تعالیٰ کو جوابدہ ہے۔

’’تم میں سے ہر کوئی نگران ہے اور اپنی رعایا اور ماتحتوں کے بارے میں تم سے جواب طلبی کی جائے گی‘‘۔ (صحیح بخاری)
بچوں کا ذہن تو کورا کاغذ ہوتا ہے جس پر مستقبل کی بنیاد ہوتی۔ پھر چاہے اسے بہترین تربیت سے رنگیں و خوشنما بنا دیں یا ناقص و بدتر تربیت سے سیاہ کردیں۔ فیصلہ ماؤں کے ہاتھ میں ہے!
خشت اول جوں نہد معمار کج
تاثریا می نہد دیوار کج
(اگر معمار پہلی اینٹ غلط اور ٹیڑھی رکھ دے تو دیوار کو بلندی تک ٹیڑھا ہونے سے کیسے روکا جا سکے گا)

@once_says

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!