fbpx

مدینہ کے وارث مدینہ چھوڑ چلے . تحریر: مزمل مسعود دیو

یزید کے تخت سنبھالتے ہی اس نے والی مدینہ ولید بن عتبہ کو خط لکھا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام اور انکے جانثار ساتھیوں جن میں حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن زبیر ان سے بیعت لے لو اور اگر یہ منع کریں تو ان سب کے سر مجھے بھیج دو۔ ولید نے مروان سے پوچھا کہ کیا کریں تو مروان نے کہا کہ امام حسین نواسئہ رسول ہے وہ کبھی بھی یزید کی بیعت نہیں کریں گے اس سے قبل انکو یزید کی تخت نشینی کی خبر پہنچے ان سب کو بلا لو۔ ولید نے رات کو ہی اپنا ایک آدمی آپ سب کی طرف بھیجا۔ حضرت امام حسین اس وقت اپنے نانا کے مرقد پر تھے تو آپ نے اس آدمی کو کہا کہ میں بعد میں آتا ہوں۔ باقی لوگ بھی امام حسین علیہ السلام کے پاس پہنچ گئے اور اس بارے میں آگاہ کیا۔

عبداللہ بن زبیر نے کہا حضرت امام حسین علیہ السلام سے کہا کہ مجھے ولید کے اس پیغام نے پریشان کردیا ہے۔ حضرت امام حسین نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ یزید تخت نشین ہو گیا ہے اور یہ لوگ ہم سے اسکی بیعت کا مطالبہ کریں گے۔ فیصلہ ہوا کہ ولید کے پاس جاکر پوچھا جائے کہ اس نے کیوں بلایا چنانچہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے قریبا تیس لوگوں کو اپنے ساتھ لیا اور ولید کے پاس پہنچ گئے۔ آپ نے اپنے ساتھیوں کو اسلحہ لے کر جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ آپ لوگ باہر ہی رکئے۔ اگر تم لوگ میری آواز کو بلند پاؤ تو اندر آجانا کیونکہ ہم اس کی بیعت والے معاملے کو نہیں مانیں گے۔

حضرت امام حسین علیہ السلام ولید کے پاس گئے۔ مروان بھی وہیں بیٹھا تھا تو ولید نے امیر شام کی موت کی خبر دی اور ولید نے یزید کے خط کے بارے میں بتایا کہ یزید نے آپ سے بیعت کا مطالبہ کیا ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا، مجھے نہیں لگتا کہ تو خفیہ طریقے سے میری بیعت پر راضی ہو بلکہ تو چاہے گا کہ میں یزید کی بیعت اعلانیہ طور پر لوگوں کے سامنے کروں ، ولید نے جواب دیا کہ جیسا آپ نے فرمایا ایسا ہی ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ صبح تک صبر کر۔
حضرت امام حسین وہاں سے جانے لگے تو مروان نے ولید سے کہا کہ ابھی تو امام حسین (ع) کا ہاتھ بیعت کے لئے نہ لے سکا تو کبھی ایسا نہیں ہو سکے گا اس لیے اگر ابھی بیعت نہ کریں تو ان کا سر قلم کر دے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام مروان کی گستاخی پر سخت غضباک ہوئے اور آپ نے فرمایا، تو مجھے قتل کرے گا، اللہ کی قسم تو جھوٹا ہے۔ تم سب میں اتنی طاقت نہیں ہے۔ اسکے بعد آپ نے ارشاد فرمائے، "ہم اہلبیت نبوت ہیں، اللہ کے ملائکہ ہمارے ہاں آتے جاتے ہیں، خدا نے خلقت پر ہمیں مقدم کیا ہے اور ہم پر ختم کیا ہے اور یزید شراب پینے والا فاسق فاجر ہے، میں کبھی اس کی بیعت نہیں کر سکتا یہ کہہ کر امام حسین علیہ السلام اپنے چاہنے والوں کے ساتھ باہر نکل گئے”۔

صبح حضرت امام حسین علیہ السلام گھر سے نکلے، مدینہ کے بازار میں مروان سے سامنا ہوا۔ مروان نے کہا کیا فیصلہ کیا تو آپ نے فرمایا میں یزید کی بیعت نہیں کروں گا۔ اسکے بعد آپ نے مدینہ کو ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اپنے نانا کے مرقد پر آئے اور وہ شب آپ اپنے نانا کے مزار پر ہی رہے، اسکے بعد آپ نے مدینہ کو چھوڑ دیا۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یزید کی بیعت سے انکار کے بعد آپ نے یزید کے خوف سے مدینہ منورہ سے ہجرت کی حالانکہ اگر ایسا ہوتا تو حضرت امام حسین کسی خفیہ راستے سے مکہ جاتے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے ایک قافلے کی شکل جس میں گھوڑے، اونٹ ، ناقے جو گھریلو سامان سے لدھے ہوئے تھے سب مرکزی شارع سے مکہ گئے۔ بہت سے لوگوں نے آپ کو خاموشی سے نکلنے کا مشورہ بھی دیا تھا لیکن آپ نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔ حضرت امام حسین نے کیونکہ بیعت سے انکار کردیا تھا اسلیے آپ چاہتے تھے کہ لوگوں کو اس بات کا پتا چل جائے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام مدینہ سے کسی ڈر اور خوف کی وجہ سے نہیں نکلے بلکہ لوگوں کو ایک اشارہ دیا کہ اب یہ وقت مدینہ میں محفوظ بیٹھنے کا نہیں، بلکہ کربلا سجانے کے عزم کے ساتھ اٹھ کر یزیدی نظام حکومت کے خلاف قیام کا وقت ہے۔ لہٰذا کہا جاسکتا ہے امام حسین علیہ السلام نے محض سوال ِبیعت کی بنا پر مدینہ نہیں چھوڑا بلکہ ظالمانہ حاکمیت کے خلاف آپ پہلے سے ہی قیام کا ذہن بنا چکے تھے۔ سوال ِبیعت نے اتنا ضرور کیا کہ آپ کو وہ موقع فراہم کر دیا جو آپ کے سفر کا نقطہ آغاز بنتا، اور آپ نے مدینہ سے مکہ کی طرف ہجرت کے ذریعہ کربلا کی تعمیر کی صورت اسکا آغاز کر دیا۔

۲۸ رجب سن ۶۰ ہجری میں حضرت امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے مکہ جانے کا ارادہ کیا۔ آپ ۲۹ رجب المرجب کی رات مدینہ سے نکل گئے اور اس سفر میں آپکے ہمراہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا، حضرت ام کلثوم (ع)، حضرت عباس بن علی (ع) حضرت علی اکبر بن حسین (ع)اور آپکے دیگر اہلخانہ موجود تھے۔ حضرت زینب و ام کلثوم سلام اللہ علیہما کو ملا کر آپکی ۱۳بہنیں اس سفر میں آپ کے ساتھ تھیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی بہن حضرت جمانہ بنت ابوطالب (ع) اور ۹ کنیزیں آپ کے ہمراہ مدینہ سے نکلے، اس قافلے میں حضرت امام حسن مجتبٰی علیہ السلام کی بعض زوجات کے علاوہ ۱۶ افراد وہ تھے جنکا تعلق حضرت امام حسن مجتبٰی علیہ السلام و خانوادہ جناب مسلم بن عقیل سے تھا۔ اصحاب ِباوفا کے علاوہ ۱۰ غلام بھی آپکے ہمراہ تھے۔
حضرت امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے مکہ پہنچ کر وہاں کم و بیش 4 مہینے قیام فرمایا اور 8 ذوالحجہ کو مکہ سے کوفہ کی جانب سفر شروع کیا۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کو راستے میں حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر ملی اور پھر راستے میں آپکو ابن زیاد کا پیغام پہنچایا گیا کہ آپ کوفہ نہیں جاسکتے بلکہ آپکو شام لے جانے کا حکم ہے لیکن آپ کے انکار کے بعد آپ نے اپنے قافلے کا رخ کربلا کی جانب موڑ دیا۔ 2 محرم کو آپکا قافلہ کربلا کی سرزمین پر پہنچا اور آپ نے اس جگہ کا نام پوچھا تو بتایا گیا کہ اس کا نام کربلا ہے تو آپ نے اسی وقت وہاں پڑاو ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہی ہماری مقتل گاہ ہے۔

‏@warrior1pak