fbpx

غسل میت کا طریقہ تحریر: فرزانہ شریف

ہر موضوع پر آرٹیکل لکھ رہی ہوں سوچا جو معلومات ہر مسلمان کو ہونی چاہئیے اس پر لکھتے ہوئے ہم ہچکچاتے ہیں یا پھر ہلکا سا خوف اور ڈر بھی ہوتا ہے لیکن یہ اٹل حقیقت ہے جو اس دنیا میں آیا اس نے آخر ایک دن واپس لوٹنا بھی ہے چاہے ہم سو سال بھی ذندہ رہیں
خود بھی سیکھئے ، گھر والوں کو بھی سکھائیے
کون جانے ہم میں سے کون پہلے رخصت ہو
موت اور موت کے بعد کی حقیقی زندگی کے تذکرے روزانہ کی بنیاد پر گھروں میں ہونے چاہیں
یہی تذکرے ہیں جو ہماری باطنی صفائی کرتے ہیں ، گناہ سے روکتے ہیں
آج سے سو برس بعد ہم سب اس دنیا کے لئے ایک کہانی ہوں گے
یہاں نئے چہرے ہوں گے ، اسی تکبر ، اسی "میں” کے زعم کے ساتھ ۔۔۔۔
اور وہاں اس ہمیشہ کی زندگی میں صرف ہم ہوں گے اور ہمارے ساتھ صرف ہمارے اعمال۔
۔۔۔جن دو بہنوں کی وجہ سے یہ معلومات مجھ تک پہنچی اللہ ان دونوں کو اجر عظیم عطا فرمائے دونوں جہاں میں ان کا بھلا ہو آمین ثمہ آمین
غسل میت کا طریقہ

بہت تفصیل سے ایک ایک سٹیپ لکھ رہی ہوں ،

عورت کا کفن پانچ چیزوں پر مشتمل ہوتا یے

1) چادر
2) آزار (قدرے چھوٹی چادر)
3) کرتا (گلے سے پاوں تک)
4) سربند
5) سینہ بند

دیگر ضرورت کی چیزیں جو اہل خانہ سے لیں گے
تین گہرے رنگ کی بڑی چادریں
(جو پرانی بستر وغیرہ کی چادریں گھر کے استعمال میں ہوتی ہیں )
گہرے رنگ کی اس لئے تا کہ دوران غسل گیلی ہونے پر جسم نہ چھلکے ۔۔۔۔
2 ڈسٹ بن
قینچی
گلوز
کاٹن
ٹب / دو تین مگ
(اگر غسل واش روم کے ساتھ کسی کمرے میں دیا جا رہا اور استنجا کے لئے زیادہ پانی کی ضرورت محسوس ہو تو نل کے ساتھ ٹیوب اٹیچ کر کے بھی استعمال کیا جا سکتا یے ، یہ صورتحال پر منحصر ہے )

جو کفن کے پیکٹ میں سامان ہوتا یے ، اس میں کافور، اگربتی، صابن ، کاٹن اور بیری کے پتے موجود ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
استنجا کے لئے کپڑے کے گلوز بھی اس میں موجود ہوتے ہیں لیکن بہتر یے کہ پلاسٹک کے گلوز کا استعمال کیا جائے

بیری کے پتے ملا کر ایک بڑے برتن میں پانی ابال لیا جائے اور پھر موسم کی مناسبت سے اس میں دوسرا پانی ملا کر ٹب میں ملا لیا جائے
(باقی بیری ملا پانی برتن میں رہنے دیا جائے اور بوقت ضرورت دوبارہ ملا لیا جائے )
پانی ایسا ہو جیسے ہم اس موسم میں خود غسل کے لئے استعمال کرتے ہیں

سب سے پہلے غسل کے پھٹے کو دھو کر صاف کر لیں گے ۔۔۔۔۔۔
پھر اس کے گرد تین بار ، پانچ یا سات بار اگربتی جلا کر دھونی دیں گے ، اس کے بعد اگر بتی کو سائڈ پر کہیں رکھ دیں گے ۔۔۔۔
باڈی کو چادر سمیت پھٹے پر لٹا دیں گے
( جسم بھاری ہو یا اٹھانا مشکل ہو تو گھر کے مرد آ کر لٹا سکتے ہیں )
اب بہت نرمی سے باڈی کے نیچے سے چادر نکالنی یے بلکہ غسل کے ہر سٹیپ میں باڈی کو بہت نرمی سے ہاتھ لگانا یے کہ تکلیف نہ ہو
چادر نکالنے کے لئے جسم کو دائیں کروٹ پر لٹائیں گے اور نرمی سے نیچے سے چادر رول کر کے دوسری طرف لے جائیں گے اور پھر آہستگی سے بائیں کروٹ پر لٹا کر آرام سے چادر نکال لیں گے
اب سب سے پہلے ایک ڈارک بیڈ شیٹ میت کے اوپر پھیلا دیں گے اور نرمی سے قینچی کے ساتھ لیفٹ بازو کو کندھے تک کاٹ لیں گے ،اسی طرح دایاں بازو کاٹ لیں گے
اور قمیض کو دونوں طرف سے چاک سے کندھے تک کاٹ لیں گے ، جب سب حصے کٹ کر الگ ہو جائیں گے تو نرمی سے ایک طرف کروٹ بدل کر لباس علیحدہ کر دیں گے اور اسی طرح دوسری طرف سے
اس پروسیجر کے دوران اور مکمل غسل کے دوران اوپر والی چادر ہٹنے نہ پائے اور میت کے ستر کا احترام برقرار رہے ،
اسی طرح شلوار کا بایاں حصہ پائینچے سے نیفے تک کاٹا اور پھر دایاں حصہ کاٹا اور نرمی سے ان حصوں کو کروٹ کے بل لٹا کر الگ کر لیں گے
کٹا ہوا لباس موجود ڈسٹ بن میں سے ایک میں ڈال دیں گے ۔۔۔
استنجا کے لئے گلوز پہن لیں گے اور نرمی سے پیٹ ملیں گے اور کاٹن پکڑ کر نجاست صاف کریں گے
اس موقع پر کچھ دیر انتظار کریں گے ، کھانے کے چند گھنٹوں کے بعد وفات ہو جائے تو نجاست کچھ دیر نکلتی رہتی یے اور خالی پیٹ ہو تو پھر زیادہ انتظار کرنے کی ضرورت نہیں
نجاست نکلنے کا انتظار کر کے اچھی طرح کاٹن سے صاف کرتے جائیں گے اور ساتھ ساتھ اچھی طرح پانی بہاتے جائیں گے اور پھٹا بھی صاف کرتے جائیں گے
یہ کاٹن دوسری ڈسٹ بن میں پھینکتے جائیں گے ، اس بن میں پہلے بیگ لگوا لیں گے

اور اگر پھٹا واش روم کے قریب ہو تو ایک خاتون مستقل واش روم کی طرف وائپر کے ساتھ پانی کو دھکیلنی جائیں اور اگر واش روم نہ بھی ہو تو جس طرف پانی کا بہاؤ ہو ، اسی طرف پانی کو وائپر سے ساتھ ساتھ صاف کیا جائے تا کہ پانی اکٹھا نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔

اب سب سے پہلے میت کو وضو کروانا ہے ، وضو میں چاروں اعضاء دھونے ہیں جو فرائض وضو میں شامل ہیں
منہ ، دونوں بازو کہنی سمیت، سر کا مسح اور دونوں پاوں اچھی طرح دھوئیں گے کہ کوئی جگہ خشک نہ رہے

کاٹن پیس لے کر گیلا کر کے دانتوں، مسوڑھوں پر اور دوسرا ناک کے دونوں نتھنوں میں پھیر دیا جائے تو بھی جائز ہے
(یہ عمل ضروری نہیں لیکن اگر میت کا حیض و نفاس یا جنابت کی حالت میں انتقال ہوا ہو تو یہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے )
اب نتھنوں اور کانوں میں الگ الگ خشک روئی ڈال دیں گے تا کہ دوران غسل پانی ناک اور کانوں میں نہ جائے ۔۔۔
پھر سب سے پہلے سر دھونا ہے
شیمپو میسر ہو یا صابن جو چیز موجود ہو اسے پانی میں مکس کر لیں گے ، سر اٹھا کر بازو پر رکھیں گے اور دوسری خاتون دھو دیں گی
اب جسم کے لئے دوبارہ پانی میں صابن یا باڈی واش پانی میں مکس کریں گے ، براہ راست باڈی پر رگڑنے کی بجائے ۔۔۔۔۔
نرمی سے ہینڈل کرنے کے پوائنٹ آف ویو سے

میت کو بائیں کروٹ کر کے دائیں طرف پہلے اچھی طرح اس لیکوئڈ سے دھو کر پھر پانی بہائیں گے ، تمام سائڈ کو اچھی طرح دھو کر اور پھر دائیں کروٹ پر لٹا کر بائیں سائڈ کو اسی طرج اچھے طریقے سے تسلی سے دھونا ہے کہ کوئی جگہ خشک نہ رہے
اس سارے عمل کے دوران دھیان رہے کہ اوپر والی چادر ہٹنے نہ پائے
پھر سیدھا لٹا کر ہاتھ کے سہارے ذرا اوپر اٹھا کر پیٹ کو ہلکا ہلکا ملیں گے
اگر دوبارہ نجاست نکلے تو صاف کریں گے ،غسل یا وضو پر اس سے فرق نہیں پڑے گا
آخر میں بائیں کروٹ لٹا کر دوبارہ دائیں طرف دھوئیں گے
ممکن ہو تو پانی میں کافور ڈال کر دائیں طرف تین بار کندھے سے پاوں تک وہ پانی ڈالنا یے اور کافور ڈالنا بھول جائے تو بھی کوئی مسئلہ نہیں
اب غسل مکمل۔ہوگیا

کوئی عام چادر ایک چارپائی پر ڈالیں گے
تینوں جگہ پٹیاں رکھیں گے
سر کی طرف
کمر کی جگہ (لمبی پٹی درمیان میں ہو گی)
اور پاوں کی طرف
اور اس کے اوپر پہلے کفن کی چادر اور پھر آزار بند بچھا لیں گے
اور پھر کرتہ کی نیچے رہنے والی سائڈ بچھا دیں گے اور جو سائڈ باڈی کے اوپر آنی ہے اس چارپائی کے سر کی طرف پیچھے ڈال دیں گے ۔۔۔۔
اب واپس باڈی کی طرف آئیں گے
ناک اور کان سے گیلی روئی نکال لیں گے
اگر کسی کے ناک یا کان سے خون یا کوئی لیکوئڈ نکل رہا تو تو خشک روئی رکھ دیں گے ، عام صورتحال۔میں ضرورت نہیں
اب گیلی چادر باڈی کے اوپر سے اس طرح ہٹائیں گے کہ پہلے دوسری گہرے رنگ کی خشک چادر اوپر ڈالیں گے اور نیچے سے گیلی چادر نکال کہیں گے کہ ستر کا احترام قائم رہے ، گہرے رنگوں کی چادر استعمال کرنے کی بھی یہی وجہ ہے ۔۔۔۔
اب تیسری چادر آہستگی اور نرمی سے باڈی کے نیچے بچھائیں گے ، اسی طرح دونوں طرف کروٹ چینج کروا کے
اب اسی چادر سمیت اٹھا کر چارپائی پر ڈالیں گے
چارپائی پر ڈال کر نیچے والی چادر آرام سے نکال لیں گے
کرتے کی چارپائی کے سر کی طرف رکھی سائڈ کو گلے سے ڈال کر سامنے ڈالیں گے اور پاوں تک لے جائیں گے ۔۔۔۔

اب کرتا پہنانے کے بعد وہ گہرے رنگ کی اوپر دی گئی چادر ہٹا دیں گے ۔۔۔۔
کافور کو ذرا سا ہاتھ پر مل کر ان سات جگہوں پر ملیں گے جو سجدہ کرتے ہوئے زمین سے لگتی ہیں
ماتھا ، ناک
دونوں ہتھیلیاں
دونوں گھٹنے اور دونوں پاوں کی اوپر کی طرف جو دوران سجدہ زمین پر لگتی ہے
اب سینہ بند کو سینہ پر ڈال دیں گے ، پہلے ایک بازو کے نیچے سے گزار کر اور پھر دوسرے بازو کے نیچے سے گزار کر نیچے کی طرف دبا دیں گے ، سینہ کور ہو جائے گا ، اگر بڑا ہو تو فولڈ کر کے استعمال کرہں گے
بال دونوں طرف سے آگے لا کر سینے پر ڈال دیں گے
سربند کو سر کے نیچے کی طرف رکھا ، آگے سے سکارف کی طرح آگے لا کر سائڈوں پر دبا دیں گے
اب آزار کی بائیں طرف پہلے سامنے ڈالیں گے اور دائیں طرف بعد میں اوپر کریں گے
اسی طرح بڑی چادر کو پہلے بائیں طرف سے اوپر ڈالیں گے اور پھر دائیں سائڈ اس کے اوپر کریں گے
اب تینوں پٹیاں باندھ دیں گے
پھر چہرے کی طرف سے چادر اور آزار کو تھوڑا سا کھول دیں گے
پھر اوپر ایک کوئی بھی علیحدہ چادر ڈال دیں گے ۔۔۔۔

ہم سب کو یہ طریقہ سیکھنا چایئے ، اپنے اطراف میں خود کو پیش کرنا چاہیئے غسل میت کے لیے
بہت اجر و ثواب کا باعث ہے ____

https://twitter.com/Farzana99587398?s=09