مغربی ممالک اور لاک ڈاؤن، گھر لڑائی کے اکھاڑے بن گئے بقلم فردوس جمال!!

0
48

آپ جانتے ہیں مغربی ممالک میں لاک ڈاؤن اور گھروں تک محدود ہونے کی وجہ سے جو بہت بڑا مسئلہ پیدا ہوا ہے وہ یہ کہ گھروں میں جھگڑے اور خواتین پر تشدد کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے.

امریکہ اور یورپ میں پولیس کو موصول ہونے والی سب سے زیادہ شکایات اسی نوعیت کی ہیں کہ بیٹے نے ماں پر تشدد کر ڈالا شوہر نے بیوی کو مارا پیٹا.

کیلیفورنیا کے ایک شخص نے ٹوائلٹ پیپر سے متعلق جھگڑے پر اپنی ماں کے چہرے کو لہو لہان کر دیا.

ان جھگڑوں کی وجہ یہ ہے کہ دنیاوی لحاظ سے ترقی یافتہ یہ ممالک عائلی اور خانگی زندگی سے بالکل نا آشنا ہوچکے تھے،شوہر رات گھر کب آتا ہے بیوی رات کہاں گزار آتی ہے،ماں کہاں اور کس حالت میں ہے ان باتوں سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہوتا تھا ،ہر ایک مارکیٹ کی مشینی لائف کا الگ الگ پرزہ تھا ،آپس میں کوئی کنکشن نہ تھا.

اب جب کہ باہر کی متحرک دنیا تھم چک ہے،مشینوں کی سانس رک چکی ہے،سڑکیں سنسان اور بازار ویران ہوچکے ہیں تو سب گھروں میں مقید ہیں اور ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہیں،ایک دوسرے کے ساتھ ٹائم سپینڈ کرنا ان کے لیے بہت مشکل ہوچکا ہے،ایک دوسرے کو برداشت کرنا ناممکن ہوچکا ہے،لہذا گھر لڑائی کے اکھاڑے بن چکے ہیں.

اللہ تعالٰی کا شکر ہے کہ مشرقی دنیا میں اب تک مربوط خاندانی نظام موجود ہے، خوشگوار اور خوشحال فیملی کا تصور عملا سماج میں دکھائی دیتا ہے.

Leave a reply