fbpx

مغرب میں پنپتے الحادی رجحانات ایک جائزہ تحریر: نعیم اللہ

تحریر: نعیم اللہ
"مغرب میں پنپتے الحادی رجحانات ایک جائزہ”
لفظ "الحاد” عربی زبان میں مادہ "لحد” سے ماخوذ ہے،جو "راہ راست،میانہ روی سے ہٹنے اور منحرف ہونے”کی معنی میں استعمال ہوتا ہے،اور مذہب بیزار روش کو اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اس(مذہب و دین) میں طعن کشی کرنا الحاد فی الدین کہلاتا ہے۔
(المعجم الوسیط مادہ -لحد)
اور اصطلاحاً "الحاد”کا مفہوم انکار اعتقاد وجود الہ پر مبنی ہے یعنی آسان الفاظ میں یہ کہ اس کون کل کا کوئی موجد و مدبر ہے ہی نہیں۔
مغرب میں الحاد کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی ؟
یہ ایک اہم سوال ہے، جب ہم اسے منصب نگاہ رکھتے ہوۓ اس تاریخی لمحے کے کو تلاش کرنے کی سعی کرتے ہیں،جس میں فکر مغرب کے اندر الحاد کی آمیزش اور اسے نمو حاصل ہوا تو اٹھارویں صدی ہمیں مغربی الحاد کی تاریخ کا سنگ میل ثابت ہوتی نظر آتی ہے۔
یہ صدی نہ صرف اہل مغرب کے لیے الحادی اور دینی افکار کے مابین تصادم کی صدی ثابت ہوئی،بلکہ اس میں بے دینی اور الحاد کی ایک ایسی زبردست یلغار مشاہدہ کرنے کو ملی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے مغربی تہذیب و ثقافت کو پوری طرح اپنے لپیٹ میں لے لیا۔
الحاد کے ظہور کے وقت مغربی حالات کا جائزہ لیتے ہوۓ معلوم ہوتاہے کہ عین اسی وقت فلسفہ اپنے انحطاط و انحسار کے دور میں قدم رکھ چکا تھا،ایک جانب الحاد اپنی پوری تابناکیوں کے ساتھ انسانی عقل کو جذب کر رہا تھا ،تو دوسری جانب فلسفہ اپنی بقا کے لیے معرکہ آرائی کے آخری مراحل میں داخل ہونے کی استعداد میں تھا۔
ایک جانب جس دور میں سقراط اور افلاطون جیسے فلاسفرز نے نشو و نما پائی وہ دور ایمانیات و اعتقادات کا دور تھا(چاہے پھر ان ایمانیات و اعتقادات کی نوعیت مختلف ہی کیوں نہ ہو )،تو دوسری جانب ایپکورس جیسے(یونانی فلاسفر)نے اپنے دور میں دنیا کے اندر پاۓ جانے والے شر کے وجود پر بہت سے ایسے ایسے مشہور الحادی سوالات و اشکالات کو فروغ دیا جس نے آگے چل کر انکار الہ کے اعتقاد کو خوب تقویت بخشی۔

مغرب پر فلسفیانہ فکر کے غلبے کا دور:
مصادر و مراجع کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یورپ میں سترہویں صدی اپنے ساتھ فلسفیانہ افکار کی بہتات لائی یہ ایک ایسا دور تھا،جس میں فلسفیانہ افکار نے مغرب کو اپنی غالبیت کے شکنجے میں جکڑے رکھا ہوا تھا،جس میں رینے ڈیکارٹ(رینے ڈیکارٹ فرانسیسی ریاضی دان اور جدید فلسفے کا بانی تھا۔ تورین میں پیدا ہوا۔ پیرس میں ریاضی، طبعیات اور الہیات کی تعلیم حاصل کی۔)
نکولس مالبرانش
(نکولس مالبرانش -6 اگست 1638 – 13 اکتوبر 1715- فرانسیسی عقلی فلسفی تھا)
اور باروخ اسپینوزا (1632–1677)( سترہویں صدی کا ایک ممتاز ولندیزی فلسفی تھا۔ اس کا پورا نام بارخ سپینوزا ہے۔اس کے آباؤ اجداد اصلا یہودی تھے وہ اندلس سے ترک وطن کر کے ہالینڈ آکر آباد ہوگئےتھے۔اسپینوزا عقلیت پسند تھا۔ اس کے نزدیک خدا اور فطرت کے قوانین ایک ہی چیز ہیں،اخلاقیات اس کی اہم تصنیف ہے)
جیسے بڑے بڑے فلاسفرز پیدا ہوۓ جنہوں نے مغربی تہذیب و معاشرے میں نہایت گہرے اثرات مرتب کیے یہ فلاسفرز اپنی نوعیت کی ایمانیات اور اعتقادات سے متصف تھے حتی کہ اسپینوزا جیسے بڑے فلاسفر کے فکری رجحانات کی بنیادیں بھی دینی اعتقاد سے متصف ہوتی نظر آتی ہیں۔

الحاد کے ابتدائی آثار:
اصولی طور پہ تو الحادی افکار اتنے ہی قدیم ہیں جتنی کے انسانی ذات قدیم ہے،البتہ مصادر و مراجع کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ الحاد کے ابتدائی آثار آج سے ایک ہزار سال قبل مسیح میں ہندکے اندر ”رگ ویدا”کے نص مکتوب میں شکوک و شبہات کی صورت میں ظاہر ہوچکے تھے،اور تقریباً 500 سال قبل مسیح کے دورانیے میں گوتم بدھ(گوتم بدھ کو بدھا اور بدھ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ ان کا اصل نام سدھارتھ تھا۔ یہ563قبل مسیح یا 480 قبل مسیح میں پیدا ہوئے۔ ان کا باپ ایک ریاست، جو علاقہ اب موجودہ نیپال میں شامل ہے، کا راجا تھا اس ریاست کو کپل وستو کہا جاتا تھا۔ گوتم بدھ، بدھ مت مذہب کے بانی ہیں)نے انسانی فکر کو الاہیات کے بجاے انسانی تکالیف کی جانب مائل کرنے کی کوشش کی۔

دوسری جانب یونانی فلسفانیہ فکر میں مادیت کی اتنی آمیزش ظاہر ہوچکی تھی کہ دیموقراطیس
یونانی فلسفی جسے بابائے طبیعیات بھی کہا جاتا ہے۔ تھریس کے شہر ابدیرا میں پیدا ہوا۔)

جیسے فلاسفر نے یہ نظریہ پیش کیا کہ اجزا یا مادہ ازل سے موجود ہے اور غیر فانی ہے۔ جسامت اور شکل و صورت میں تو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ماہیت کے لحاظ سے یہ ایک ہی ہیں اور اس نے پتھر سے تراشے گئے خدا کی حقیقت کو سرے سے لغو قرار دے ڈالا۔

اور چوتھی صدی قبل مسیح کے حلول کے ساتھ ہی ایپکورس نے دنیا میں پاۓ جانے والے”وجود شر”کی بحث کو چھیڑ کر الہ کے وجود پر طرح طرح کے اعتراضات اٹھاۓ جس نے آگے چل کر قرون وسطی میں ایمان پر حملہ آوری کی صورت اختیار کر لی اور ذات باری تعالی خالق کون کل کے وجودی فکر پر عقلی اعتراضات لگاۓ گئے حتی کہ "ولیم اوکامی”(ولیم اوکامی مسیحی علم عقائد کے عالم ہونے کے ساتھ ساتھ منطقی،طبیعیات دان اور فلاسفر بھی تھے)نے صراحتا "امکان وجود الہ” کا انکار کیا، پھر آگے چل کر عقلیت،فطرت پسندی اور امپیرزم کے فلسفے نے الحادی فلسفے کے فروغ میں تعمیری و اساسی کردار ادا کیا۔ اور جہاں تک روشن خیالی کے زمانے کی بات کا تعلق ہے،تو اس دور کی موجودہ خصوصیت مذہب پر کڑی تنقید تھی جو آج تک چلی آ رہی ہے،دوسری جانب اگر موجودہ دور کے فلسفے کی بات کی جاۓ تو الحاد اپنے وجود میں ایک نیا منظرنامہ پیش کر رہا ہے،جس نے سائنس کو غالبیت عطا کرکے کائنات و انسان کو اس کا ما تحت بناکر رکھ دیا ہے اور یوں کہا جاۓ کہ مادہ پرستانہ افکار اور الحاد کے ما بین ایک بہت بڑا گہرا ربط و تعلق ہے تو اس میں کسی بھی نوعیت کے شک کا شائبہ نہ ہوگا۔

مغرب کے اندر الحادی لہر اور دین مسیح کے ما بین پیدا ہونے والی معارضت نے ایک ایسی صورتحال اختیار کردی ہے کہ بہت سے لوگ دین مسیح پر عقل و سائنس کو فوقیت دینے لگے ہیں۔

مغرب میں اس وقت سائنسدانوں کے دو گروہ ہیں ایک گروہ تو وہ ہے جو الحادی فکر سے متاثر اور انکار وجود الہ کا قائل ہے لیکن اس کے مد مقابل ایک ایسا گروہ بھی موجود ہے،جو ملحدانہ فکر کی شدید تنقید کرتے نظر آتا ہے تاکہ وہ یہ ثابت کر سکیں کہ الحاد کا یہ طوفان مغرب کا پیداوار نہیں ہے،بلکہ خود بخود وجود میں آ گیا ہے،جو وقت کے ساتھ انسانی فکر میں کھپ چکا ہے،بہر حال اس کی درست حقیقت اب دنیا کے سامنے آشکار ہوچکی ہے،اس لیے اس بحث میں ہم نہیں پڑتے۔