fbpx

ماحول دوست سبزی گوار کی پھلی کے حیرت انگیز فوائد

گوارصدیوں پُرانی ایک پھلی دار فصل ہے اور یہ پاکستان اور انڈیا میں کثرت سے پائی جاتی ہے دنیا میں پیدا ہونے والے گوار کا قریباً 95فیصد حصہ برصغیر پاک و ہند میں پیدا ہوتا ہے۔

گوار ان علاقوں میں کاشت ہوتی ہے جہاں کا موسم گرم ہو مطلب اس کو گرم آب وہوا کی سخت ضرورت ہوتی ہےاور یہ گرم علاقوں میں ہی کاشت کیجاتی ہے۔

اس میں لحمیاتی مادہ (پروٹین) قریباً 35 فیصد تک پایا جاتا ہے۔ جو کہ جانوروں کے گوشت میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے گوار کو غیر پھلی دار چارہ جات مثلاً جوار، باجرہ اور مکئی وغیرہ کے ساتھ ملا کر بھی کاشت کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ اس کو سبزی اور دال کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے –

ماہرین کا کہنا ہے کہ گوار کا پودا کافی سخت ہوتا ہے یعنی یہ اپنی جان کی ساخت کے حوالے سے کافی مضبوط ہوتا ہے،زرعی ماہرین کے مطابق اس فصل کو سبز کھاد کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے زمین کی زرخیزی بھی بڑھائی جا سکتی ہے۔

دماغی صحت کو بہتر بنانے والی غذائیں

گوار کی فصل ایک سیزن میں فضا سے 300 پائونڈ نائٹروجن کا زمین میں اضافہ کرتی ہے۔ گوار کی فصل ملک دوست، کسان دوست، زمین دوست اور ماحول دوست ہےاور اس فصل کی خاص بات یہ ہے کہ پانی کی کمی کو بھی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اگر یہ جانوروں کو چارے کے طور پر دی جائے تو یہ جانوروں کے گوشت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فصل کو زیادہ تر توجہ کی ضرورت نہیں ہوتی گوار کی فصل زیادہ تر کم بارشوں والے علاقے میں کیجاتی ہے اور اسی وجہ سے یہ پاکستان،انڈیا میں کثرت سے کاشت کیجاتی ہے۔

پاکستان سمیت ایشائی ممالک خصوصاً بھارت، بنگلہ دیش میں گوار کی پھلی کو بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے فائبر سے بھرپور یہ سبزی صحت کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتی ہے طب میں گوار کا استعمال صدیوں سے ہورہا ہے خاص طور پر دل کی بیماریوں ، شوگر اور رات کے اندھے پن کیلئے انتہائی مفید ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق پھلیاں انسانی صحت کے لیے ناگزیر ہیں، پھلیاں اور ہرے رنگ کی تمام سبزیاں انسانی صحت اور معدے سے جڑی تمام شکایتوں کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

گوار کی پھلی کا بطور سبزی یا اس کا چاولوں میں استعمال کرنا انسانوں کے لیے صحت مند غذا ثابت ہوتا ہے گوار پھلی کی سبزی انسانی خطرناک بیماریوں مثلاً شریانوں کے تنگ ہو جانے، دل کی متعدد شکایتوں اور شوگر کے مریضوں کے لیے بہترین غذا قرار دی جاتی ہے۔

گوار پھلی کا استعمال متعدد طریقوں سے کیا جاتا ہے اسے عام روایتی طریقوں سے سبزی بنا کر یا گوشت کے ساتھ پکا کر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے گوار کی پھلی کے استعمال سے قبل اسے ابال کر پانی نکال لیا جاتا ہے تاکہ اس پھلی کی سختی اور تیکھے ذائقے میں کمی لائی جا سکے۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان کلونجی موت کے سوا ہر بیماری کا علاج ہے

علاوہ ازیں اس کے بیج میں ایک خاص قسم کا گوند (گوارگم) پایا جاتا ہے۔ جو کہ پوری دنیا میں ٹیکسٹائل، بیکری، گن پائوڈر، پیپر، کاسمیٹکس، تمباکو، بارود، مرغیوں، مچھلیوں اور مویشیوں کی خوراک، ادویات، خوراک اور دیگر بہت سی صنعتوں میں وسیع پیمانے پر کھودے جانے والے کنوئوں میں بہت زیادہ مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے۔

پنجاب میں گوار کی کاشت زیادہ تر میانوالی، سرگودھا، بھکر، جھنگ، لیہ، بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان کے اضلاع میں کی جاتی ہے۔ اس کی کاشت کیلئے گرم اور خشک آب و ہوا درکار ہوتی ہے۔

اس کا پودا نہایت سخت جان ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے سخت گرمی اور پانی کی قلت کو کافی حد تک برداشت کرلیتا ہے اور پانی کی زیادتی تو بالکل برداشت نہیں کرتا۔ گوار کی کاشت کیلئے ریتلی میرا زمین جہاں پانی کا نکاس اچھا ہو موزوں ہوتی ہے۔ یہ کلراٹھی زمینوں کے علاوہ باقی تمام زمینوں میں کاشت کیا جاسکتا ہے۔

اس کی کاشت عموماً ریتلے اور کم بارش والے علاقوں میں کی جاتی ہے لیکن آبپاش علاقوں میں اس کی کاشت کامیابی سے کی جاسکتی ہے۔ بہتر پیداوار کیلئے زمین کا ہموار ہونا نہایت ضروری ہے تاکہ نشیبی جگہوں پر پانی کھڑا نہ ہوسکے اور اگائو بھی بہتر ہو۔

گرمی کی شدت کم کرنے کے لئے لسی کے مختلف مزیدار اور لذیذ فلیورز

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.