fbpx

ماحول کو نقصان پہنچانے سے باز آئیں. تحریر: نوید شیخ

ماحول کو نقصان پہنچانے سے باز آئیں. تحریر: نوید شیخ
یوں تو ہم سب پلاسٹک اور کاربن کے اخاراج کے خطرات سے آگاہ ہیں اور دنیا بھر میں اس کی آلودگی کو کم کرنے پر کام بھی کیا جارہا ہے۔ تا ہم ماحول کو نقصان پہنچانے والی ایک چیز ایسی ہے جس سے ہم سب بے خبر ہیں۔ ماحول کے لیے نقصان دہ اس شے کا ہم بے دریغ استعمال کر رہے ہیں یہ جانے بغیر کہ ان کی تیاری کے لیے قیمتی درختوں کو کاٹا جاتا ہے۔ وہ چیز ہے پیپر اور ٹشو پیپر ۔

۔ دراصل جب نوے کی دہائی میں کمپیوٹر کا دور شروع ہوا تو بہت سے لوگوں نے سوچا کہ اب کاغذ کا استعمال بہت کم ہوجائے گا کیوں کہ خط و کتابت اور دستاویزات الیکٹرانک شکل میں ہوں گی ۔ لیکن یہ اندازے غلط ثابت ہوئے ۔ ہمارے دفاتر اور گھروں میں جتنا کاغذ اور ٹشو استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس پر ماحول کے ماہرین کو شدید تشویش لاحق ہے۔۔ چلیں کچھ اعداد وشمار دے دوں کہ دنیا میں رہنے والے دوسروں لوگوں کے مقابلے میں امریکی سات گُنا زیادہ کاغذ استعمال کرتے ہیں ۔ کمپیوٹر پر ٹائپ کیے ہوئے کاغذات کے پرنٹ نکالنا تو محض ابتدا ہے۔ پیکنگ میں، سگریٹ میں، ٹشو پیپر اور ٹوائلٹ پیپر میں، غرض بے تحاشا کاغذ استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں جس کام کے لیے لوگ لوٹا اور پانی استعمال کرتے ہیں۔ مغربی معاشروں میں کاغذ یعنی ٹوائلٹ پیپر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے کاغذ اور ٹشو پیپر کی اتنی زیادہ مانگ سے تباہی آ رہی ہے۔ دس ہزار سال سے بھی زیادہ قدیم جنگلات کو کاٹ کر ان کے درختوں سے ٹوائلٹ پیپر بنا رہے ہیں۔

۔ جنگلات کا اس طرح صفایا کرنے سے دنیا میں جتنی گرمی بڑھتی ہے اور آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ دنیا کے تمام ٹرکوں، بسوں، ہوائی اور بحری جہازوں سے پیدا ہونے والی آلودگی سے زیادہ ہے۔ یورپ اور ایشیا میں بیشتر ٹوائلٹ پیپر استعمال شدہ کاغذ سے بنایا جاتا ہے۔ اس حوالے امریکیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ انہیں تین پلائی والا ٹائلٹ پیپر چاہیئے۔ چاہے اس کے لیے دنیا کے قدیم جنگلات ختم کیوں نہ ہو جائیں۔۔ ہم جو ٹِشوز خریدتے ہیں بھلے وہ تازہ کاغذ کے گُودے سے بنیں یا recycle گُودے سے وہ حاصل ان درختوں سے ہی کیا جاتا ہے جنہیں بڑھنے میں کئی دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ درخت کاٹنے کا عمل جنگلات کو ختم کرسکتا ہے جس کے سبب گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہوسکتا ہے، جانور اور پودے اپنی جنگلی حیاتیات کھوسکتے ہیں اور پانی آلودہ ہوسکتا ہے۔

۔ دوسری جانب ٹشو پیپر بنانے والے پلانٹس کو انتہائی کثیر مقدار میں پانی اور بجلی درکار ہوتی ہے۔ یہ فضاء کو آلودہ کرتے ہیں اور زہرآلود فضلا دریا یا پانی میں بہاتے ہیں۔ ٹِشوز سے ماحول کو لاحق خطرات سیکڑوں گُنا تب بڑھتےہیں جب انہیں سفید بلیچ کیا جاتا ہے۔ اس میں کسی چیز جیسے کہ لوشن وغیرہ کا اضافہ کیا جاتا ہے اور کارڈ بورڈ اور پلاسٹک میں پیک کیا جاتا ہے۔ ۔ آپ دیکھیں امریکا میں ٹوائلٹ پیپرز کے بے تحاشہ استعمال نے کینیڈا کے جنگلات کو خاتمے کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ کیونکہ امریکا میں استعمال ہونے والے ٹشو پیپرز کے لیے کینیڈا میں موجود جنگلات کاٹے جاتے ہیں۔ کینیڈا کے تقریباً 60 فیصد رقبے پر جنگلات موجود ہیں جو سالانہ2 کروڑ 80 لاکھ کاروں سے خارج ہونے والے دھوئیں کے برابر کاربن جذب کرتے ہیں۔ تاہم امریکا میں ٹشوز کی بے تحاشہ مانگ کی وجہ سے ان جنگلات کو بے دریغ کاٹا جارہا ہے۔ 1996 سے اب تک 2 کروڑ 80 لاکھ ایکڑ رقبے پر موجود درختوں کو کاٹا جا چکا ہے۔ پوری دنیا میں استعمال ہونے والے ٹشو پیپرز کے 20 فیصد صرف امریکا میں استعمال ہورہے ہیں، دوسری جانب امریکیوں کو نرم ملائم ٹشوز بھی درکار ہیں جن کے لیے ٹشوز بناتے ہوئے اس میں دیگر مٹیریل استعمال کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے دنیا بھر کی بڑی کمپنیوں نے ٹشو بنانے کے لیے ماحول دوست اقدامات کرنے سے انکار کردیا ہے۔ وجہ ایک ہی ہے نرم ٹشوز کی مانگ میں اضافہ۔

۔ امریکی ہر سال 255ارب36کروڑ ڈِسپوزایبل ٹشوز استعمال کرتے ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ عالمی سطح پر ٹِشوز کی سالانہ مانگ میں 2021 تک4 فیصدتک اضافہ ہوجائےگا۔ ان میں فیشل ٹِشوز، ٹوائلٹ پیپر، پیپر ٹاول اور نیپکنز شامل ہیں۔ جس کے حساب سے چین کی مانگ میں 40فیصد، لاطینی امریکا کی مانگ میں 15فیصد اورمغربی یورپ کی مانگ میں11سے12فیصد اضافہ متوقع ہے۔۔ ماہرین کے مطابق ٹشوز بناتے ہوئے اگر اس میں استعمال شدہ recycle مٹیریل کی آمیزش کی جائے تو یہ عمل درختوں کی کٹائی میں کمی کرے گا تاہم ایسے ٹشوز سخت اور کھردرے ہوتے ہیں۔۔درخت جو کئی کئی برس بعد جوان ہوتے ہیں دراصل ہم انہیں ٹشو پیپر کی شکل میں ایک لمحے میں کچرے میں پھینک دیتے ہیں۔ جیب میں رومال جیسی معمولی چیزنہ رکھنے کے بجائے ٹِشو پیپرکا استعمال ہمارے ماحول کوبے دردی کے ساتھ اجاڑ رہا ہےجس کا ہمیں قطعی کوئی ادراک نہیں ہے ۔ پیپرز اور ٹشو پیپرز کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ماحول دوست ذرائع اپنانے ہوں گے ورنہ ہماری زمین پر موجود تمام درخت ٹشو پیپرز میں بدل جائیں گے۔