ماحولیاتی تبدیلیاں اور پاکستان تحریر-سید لعل حسین بُخاری

0
11

پاکستان کی طرف سے ماحولیاتی تبدیلیوں اور کرونا کی روک تھام کے لئے کئے گئے اقدامات قابل تحسین ہیں۔
ان اقدامات کو بین الاقوامی سطح پر بھی خوب پزیرائ ملی۔
ماحولیاتی تبدیلیوں کے تقاضوں پر پورا اترنے کے لئے پاکستان کا بلین ٹری سونامی منصوبہ ٹاک آف دی ٹاؤن رہا۔
مگر بغض عمران کی ماری اپوزیشن ان منصوبوں پر بھی بلاجواز تنقید کرتی نظر آئ۔اس تنقید کے پیچھے بغض عمران کے علاوہ کمزور آئ کیو لیول والا معاملہ بھی تھا،
جیسا کہ ن لیگ کے ایک ممبر
پنجاب اسمبلی کو یہ کہتے بھی سنا گیا کہ اتنے درخت لگانے سے ہمارے شہر جنگل بن جائیں گے۔
شعور کی کمی کا دنیا میں کوئ علاج نہیں۔
اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ عمران خان کی مخالفت کریں،اس پر تنقید کریں۔مگر خدارا ان منصوبوں کو تو بخش دیں۔جن کے ساتھ پاکستان کا مستقبل وابستہ ہے۔
کہا جاتا ہے کہ مستقبل میں ملکوں کے مابین جنگیں خدانخواستہ پانی جیسے وسائل کے معاملے پر ہوا کریں گی-
گلوبل وارمنگ سے دن بدن دنیا کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے،جبکہ زیر زمیں آبی وسائل کی سطح بتدریج کم ہو رہی ہے۔
ان حالات میں ہمیں ڈیمز بنانے کی سخت ضرورت تھی۔جو کہ بدقسمتی سے پچھلی حکومتیں نہیں بنا سکیں۔
بھارت،چین جیسے ہمسایہ ممالک نے بے تحاشہ ڈیمز بنا کر اپنا مستقبل کافی حد تک محفوظ بنا لیا ہے۔مگر ہم تماشہ دیکھنے میں مصروف رہے۔
ڈیمز نہ بناۓ جانے کی وجہ اندرونی اور بیرونی دشمنوں ہی کا کردار تھا۔جبکہ حکمرانوں کی مفاد پرستانہ مصلحتیں اور ان کے کمیشن کی خواہشات بھی اس معاملے میں آڑے آتے رہیں۔
کالا باغ ڈیم جیسے اہم ترین منصوبے کو بھی اپنے اپنے زاتی اور سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا،حالانکہ یہ منصوبہ ہماری توانائ کی ضروریات پورا کرنے کے لئے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ماہرین نے اس منصوبے کو ہر لحاظ سے مناسب اور عوام کے لئے بے ضرر قرار دیا مگر مفاد پرست سیاستدان اپنی ہی ضد پر اڑے رہے،جس کا بھرپور فائدہ بھارت نے اٹھایا اور جائز ،ناجائز طریقے سے کئی متنازعہ جگہوں پر بھی ڈیمز بنانے میں کامیاب ہو گیا۔
اس مفاد پرست ٹولے نے بھارت کی طرف سے ہماری آبی گزر گاہوں کا پانی روک کر ڈیم بنانےپر احتجاج تو دور کی بات،کبھی مخالفت میں بات تک نہیں کی۔ہر ایک کو اپنے اپنے وظیفے بند ہونے کا ڈر ہوتا ہے۔
مگر جب بھی کالا باغ ڈیم کسی بھی فورم پر زیر بحث آیا تویہ لوگ بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اسکی مخالفت میں پہنچ گئے۔
اس منصوبے کی فزیبلیٹی رپورٹ اور رہائشی کالونیوں پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے جو ضائع ہو گئے۔اسی مقام پر تیار کی گئی رہائشی کالونی اور سڑکیں کھنڈر بن گئیں۔
ایک انتہائ شاندار منصوبہ سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا۔کسی کو پرواہ نہ ہوئ۔کسی نے نہ سوچا کہ ہمارے بچوں کا کیا ہو گا؟
کیسے ہم مستقبل میں توانائ کے چیلنجز سے نمٹ پائیں گے۔؟
کوئ فکر کیوں کرتا؟
جنہیں فکر کرنا تھی وہ تو بیرونی ممالک میں اپنے بڑے بڑے ایمپائر کھڑے کر چکے ہیں،انہوں نے کونسا یہاں رہنا ہے؟
کونسا انکے بچوں کا مسقبل اس ملک کے مسائل سے جڑا ہوا ہے؟
وہ تو یہاں صرف لوگوں کو بیوقوف بنا کر اقتدار کے مزے اڑانے کے لئے تشریف لاتے ہیں۔
یہ مکار اور دھوکے باز لوگ اس بدقسمت ملک پر حکمرانی کے لئے اپنی آئندہ نسلوں کو بھی تیار کر چکے ہیں۔
ہم انگریزوں کی غلامی سے تو نکل آۓ مگر اپنی غلامانہ اور بیوقوفانہ سوچ کی بدولت اب بھی ان لٹیروں کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچا دیتے ہیں۔
ملکی خزانہ یہ لوگ لوٹ لیتے ہیں،جبکہ ہمارے حصے میں صرف
آوے ای آوے
کے نعرے آتے ہیں۔
تاہم یہ امر انتہائ خوش آئند ہے کہ موجودہ حکومت نے توانائ اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوۓ نہ صرف شجر کاری مہم چلا رکھی ہے بلکہ متعدد ڈیمز پر بھی کام شروع کر رکھا ہے۔
ان میں سے کچھ ڈیمز تو ان شاءاللہ موجودہ حکومت کی اسی مدت میں مکمل ہو جائیں گے،کیونکہ وہاں دن رات کام جاری ہے۔
اس کام کی نگرانی براہ راست وزیر اعظم ہاوس سے کی جارہی ہے۔
جو منصوبے حکومت کی موجودہ مدت میں پورے نہیں ہوں گے وہ کچھ عرصہ بعد پورے ہو جائیں گے۔
عمران خان کی سوچ دوسرے سیاستدانوں سے قدرے مختلف ہے۔وہ قوم کا سوچتا ہے،آنے والے الیکشن کا نہیں۔
اسی نظریے کے تحت اس نے کئی ایسے ڈیمز پر بھی کام شروع کروا رکھا ہے،جو اسکی موجودہ حکومت کی مدت مکمل ہونے کے بعد پایہ تکمیل تک پہچیں گے۔
اب یہ بات اللہ کے سوا کسی کو نہیں معلوم کہ 2023میں کون اقتدار میں آۓ گا؟
اسکے باوجود عمران خان نے ان میگا پراجیکٹس پر کام شروع کروا کے دل گردے کا مظاہرہ کیا،جو ماضی کے حکمران نہیں کر سکے،
کیونہ وہ اس محدود مفاد پرست سوچ کے اسیرتھے کہ ان لمبے عرصے کے اور عام انتخابات کے بعد مکمل ہونے والے منصوبوں کا انکو الیکشن کے وقت سیاسی فائدہ نہیں ہو گا۔
اسلئے ایسے منصوبے انکی ترجیحات میں شامل نہ ہو سکے۔
کالا باغ ڈیم کا منصوبہ اگر متنازعہ بنا دیا گیا تھا تو دوسرے کئی ڈیمز پر کام شروع کروایا جا سکتا تھا۔
مگر سواۓ عمران خان کے اس سوچ پر کسی دوسرے نے کام نہ کیا،جو ہماری بدقسمتی تھی۔
ان سارے ڈیمز کی تکمیل کے بعد بھی شائد ہماری ان ماضی کی غفلتوں کا ازالہ نہ ہو پاۓ مگر کسی حد تک ہم اس مسئلے کی سنگینی سے البتہ ضرور نکل آئیں گے۔
آبی وسائل کو بڑھانے اور گلوبل وارمنگ کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں آگے بڑھنے کے لئے ابھی سے آنے والے کئی عشروں کی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔چین ماڈل فالو کرنا ہو گا،جہاں ہزاروں ڈیمز بناۓ جا چکے ہیں-#

تحریر-سید لعل حسین بُخاری
‎@lalbukhari

Leave a reply