ماہرہ خان کو ایسے کردار ملنے چاہیئے جو انہیں عروج پر پہنچا دیں فلمساز ندیم بیگ

فلم ساز و ہدایت کار ندیم بیگ کا کہنا ہے کہ ماہرہ خان کو ایسے کردار ملنے چاہیئے جو انہیں عروج پر پہنچا دیں کیونکہ وہ بہت شاندار اداکاری کرتی ہیں –

باغی ٹی وی : حال ہی میں ایک انٹرویو میں ندیم بیگ میں شوبز کے مختلف موضوعات پر بات کی انہوں نے کہا کہ وہ ایک نئی فلم کے اسکرپٹ پر کام کر رہے ہیں اور اس سال کے آخر تک شوٹنگ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ کورونا وائرس وبائی بیماری نہ آتی تو لندن نہیں جا ؤنگا رواں سال ریلیز ہوجانی تھی انہوں نے کہا کہ ابھی فلم کی 18 دن کی شوٹنگ لندن میں ہونی باقی ہے-

ندیم بیگ نے ہمایوں سعید کو ہر بار کاسٹ کرنے کے سوال پر بتایا کہ اگر وہ انہیں کاسٹ نہیں کریں تو اور کس کو کریں؟

ندیم بیگ نے ہمایوں سعید کی تعریف کرتے ہوئے انہیں سب سے بہترین اداکار قرار دیا اور ساتھ ہی بتایا کہ انہیں مہوش حیات بھی اچھی لگتی ہیں اور وہ ان کے کام سے بہت متاثر ہیں۔

ندیم بیگ کے مطابق مہوش حیات ہر بار اپنی شاندار پرفارمنس سے انہیں حیران کر دیتی ہیں اور وہ ان کی توقعات سے بڑھ کر اداکاری کرتی ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ فہد مصطفیٰ بھی اچھے اداکار ہیں اور وہ ان کے ساتھ جوانی پھر نہیں آنی 2 میں کام بھی کیا۔

ندیم بیگ کا کہنا تھا کہ جوانی پھر نہیں آنی 2 میں کام کے آغاز میں فہد مصطفیٰ تھوڑے پریشان تھے کہ فلم میں ہمایوں سعید کا کردار سب سے جاندار ہے تاہم فلم مکمل ہونے کے بعد فہد مصطفیٰ مطمئن ہوگئے اور انہیں احساس ہوا کہ فلم کے تمام کردار بہترین ہیں۔

فلم ساز نے فہد مصطفیٰ کی تعریف کرنے سمیت ماہرہ خان کی بھی تعریف کی اور کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ ماہرہ خان کو ایسے کردار ملنے چاہیے جو انہیں عروج پر پہنچادیں کیوں کہ وہ انتہائی شاندار پرفارمنس کرتی ہیں۔

ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر کے ساتھ مستقبل میں کام کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ندیم بیگ کا کہنا تھا کہ انہیں خلیل الرحمٰن قمر کے ذاتی خیالات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ندیم بیگ نے میرے پاس تم ہو کو نشر کیے جانے کے وقت میں خلیل الرحمٰن قمر کی جانب سے خواتین کے خلاف دیے گئے بیانات کو ذاتی قرار دیا اور کہا کہ اگرچہ انہیں ڈرامہ ساز کے مذکورہ بیانات سے پریشانی ہوئی تاہم اس کے باوجود انہیں ان کے ذاتی خیالات سے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ ان کے ساتھ ان کے اسکرپٹ کی بنیاد پر کام کرتے رہیں گے کہا وہ ان چند افراد میں سے ایک ہیں جو خلیل الرحمٰن قمر کو اس بات پر قائل کر سکتے ہیں کہ وہ اپنی اسکرپٹ یا خیالات کو تبدیل کریں۔

علاوہ ازیں ندیم بیگ نے مبہم انداز میں رواں برس اگست میں ریلیز ہونے والی پاکستانی ویب سیریز ’چڑیلز‘ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ویب سیریز میں تشدد و سفاکی دکھانا غیر ضروری تھا جس طرح ویب سیریز ’چڑیلز‘ کا کلائمکس دکھایا گیا وہ ان کی نظر میں درست نہیں تھا۔

ندیم بیگ نے چڑیلز میں تشدد، نامناسب رویوں، کرداروں کی سفاکی، شراب نوشی اور بولڈ مناظر دکھانے کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے ایسا محسوس ہوا کہ چڑیلز ایک تھرلر ایکشن فلم ہے۔

فلم ساز کے مطابق چڑیلز میں منشیات کے استعمال، بولڈ مناظر اور تشدد کو دکھانا ایسا ہی ہے جیسے کسی بھی سنجیدہ فلم میں 4 آئٹم گانے شامل کرلیے جائیں فلمساز کے خیال میں چڑیلز میں یہ سب کچھ دکھانا غیر اہم تھا ایسے مناظر دکھانے سے ویب سیریز نے اپنی اہمیت گنوادی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.