fbpx

میں انمول ہوں تحریر: فریال نیازی

سترہ اٹھارہ سال کی عمر تک ماں باپ آپ پہ روک ٹوک کرتے ہیں ۔ لیکن یونیورسٹی کی عمر کو پہنچ جانے یا شادی ہوجانے کے بعد آپ اتنے بڑے ہوجاتے ہیں کہ کوئی آپ پہ روک ٹوک نہیں کر سکتا ۔ نہ آپ سے کسی کی روک ٹوک برداشت ہوتی ہے ۔ اس عمر میں آپ جو چاہیں کھائیں ۔ جب چاہیں کھائیں آپ کی مرضی ہے تو کام کریں نہیں ہے تو نہ کریں ۔ آپ یونیورسٹی یا جاب پہ جائیں یاسارا دن سو کے گزاریں اس عمر میں اماں اباکم ہی کچھ کہتے ہیں نہ ان کے کہنے کا اثر بچپن جیسا ہوتا ہے ۔ وہ جتنا کہہ لیں کہ آدھی آدھی رات تک نہ جاگو‘ موبائلز رکھ دو اور صبح جلدی اٹھو۔۔۔ فرق نہیں پڑتا ۔ پھروہ عموماََ کہنا چھوڑ دیتے ہیں
میں اکثر کہتی اور لکھتی ہوں کہ اپنے ہیرو خود بنیں ۔ لیکن وہی شخص اپنا ہیرو خودبن سکتاہے جو پہلے اپنا پیرنٹ خود بننا سیکھے ۔ اپنی ماں بنے ۔ خود پہ روک ٹوک کرے ۔ خود پہ پابندی لگانے کا جگر پیدا کرے ۔ خود کو کام کے لیے اٹھائے ۔ کب کھانے سے ہاتھ روک لینا ہے اور کب ایکسرسائز کے لیے اٹھ جانا ہے ۔ اپنی ذات‘ کیرئیر اور دین کو بہتر بنانے والے کاموں پہ اس عمر میں کوئی آپ کو مجبور نہیں کرسکتا کوئی آپ سے یہ کام نہیں کرواسکتا ۔ اور یہ کام نہ ہونے کی صورت میں کوئی آپ کو نقصان سے بچانے بھی نہیں آئے گا کیا کرنا ہے اور کس سے رک جانا ہے۔
اپنی پیرنٹنگ آپ نے اب خود ہی کرنی ہے ۔ اس کو کہتے ہیں سیلف ڈسپلن۔۔ ری پیرنٹنگ۔۔!!!!

@Missfaryalkhan