fbpx

موجودہ دور میں پاکستانی ڈراموں کا معیار تحریر: سید محمد مدنی

میں ان میں سے ہوں جس نے موجود دور کے ایک یا دو ڈرامے مشکل سے دیکھے ہوں گے اب پاکستانی ڈرامے سبق آموز نہیں بلکہ نوجوان نسل کو بگاڑتا اور انھیں نت نئے فسادات کروانے پر اکساتا ہے آپ نوے کی دہائی میں جائیں یا اس سے بھی پہلے تو آپ کو بہترین ڈرامے دیکھنے کو ملتے تھے اور سبق آموز ہؤا کرتے تھے اب صرف بے باکی ریپ تشدد گلیمر عشق دولت ساس بہو ناچاقی نند بھاوج کی لڑائی دیور بھابی جیسے مقدس رشتے کو غلط رمگ دے کر عشق دکھانا بس اس پر توتوجہ دی جاتی ہے
کیا وجہ ہے کہ ترکی کا ایک ڈرامہ ارطغرل اتنا مشہور ہؤا ہے پاکستان میں بھی برصغیر پاک و ہند پر ڈرامے بنے ایک بہت پرانا ڈرامہ تعبیر بنا تھا بہت عمدہ تھا مگر اب نوجوان نسل کو اول فول چیزوں کا اتنا دلدادہ بنا دیا گیا ہے کہ وہ کچھ اور پسند ہی نہیں کرتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ یہ تو بورنگ ڈرامہ ہے معین اختر مرحوم کا ایک ڈرامہ روزی آیا جسے بہترین انداز میں بنایا گیا میری ناقص معلومات کے مطابق معین اختر نے عورت کا روپ دھارنے والا ایک ہی ڈرامہ کیا بظاہر انھوں نے ایک عورت کا روپ دھارا لیکن اس ڈرامے میں ایک سبق تھا کہ عورت ہونا اور اس کے لئے زندگی کا مقابلہ کرنا کتنا سخت مرحلہ ہے اورچروزی روٹی کے لیے کتنی مشکلات آتی ہیں مگر آج کل کے دور میں آپ جب تک بے ہودگی نا دکھائیں آپ کا ڈرامہ مکمل ہی نہیں ہوتا اور اب اس بے ہودگی کو فیشن اور ماڈرنیزم کا نام دے دیا گیا ہے آپ شائد مجھ سے ایگری نہ کریں مگر اب کے ڈراموں کا اثر بہت حد تک اور بہت جلدی پڑتا ہے کیا وجہ ہے کہ ہمارے ڈرامے ایک دور میں بھارت میں مقبول تھے اور اب ہم نے ان کی کاپی کرنا شروع کر دی ہے افسوس ہمارا معیار اب وہ نہیں رہا جب تک ہم اپنا کھویا ہؤا معیار واپس نہیں لاتے کامیابی حاصل نہیں کر سکتے
آپ اپنے ڈراموں میں اپنی تاریخ کے حوالے سے بتائیں جیسے کے پاکستان جب آزاد ہؤا تو کس کس طرح سے بھارت سے لوگ بھاگے جب پاکستان آزاد ہو رہا تھا تو اس الگ ملک کا خواب دیکھنے والے بھارت سے بھاگ کر پاکستان پہنچنے کی کوشش کرنے لگے لیکن راستے میں جو ان کے ساتھ ظلم ہوتا وہ بیان کرنا بہت مشکل ہے انھوں نے بہت تکلیفیں اٹھائیں کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنی تاریخ اپنی ثقافت اپنا کلچر اور اپنی روایات کے مطابق ہی ڈرامے بنانے چاہئیں ورنہ ہم اپنا کھویا ہؤا مقام واپس حاصل نہیں کر سکتے
پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں کمی بس بہترین ڈرامے لکھنے کی ہے پہلے جب پاکستانی ڈرامے آیا کرتے تھے تو لوگ اس دن کی تاریخ پر شادی بیاہ کا فنکشن تک نا رکھتے تھے اور جب وارث ڈرامہ آتا تھا تو سڑکیں سنسان ہو جاتی تھیں یہ میں نے اپنے والد والدہ سے سنا اور پھر ٹی وی کے بہترین کردار اور ایکٹرز ایکٹریسز سے بھی ہماری تاریخ واقعات سے بھری پڑی ہے اگر عسکری حوالے سے دیکھا جائے تو کتنے اہم واقعات ہوئے پاکستان آرمی کے حوالے سے بھی بہترین ڈرامے بنے ہیں جیسے سنہرے دن ایلفا براوو چارلی لیکن مزید ڈراموں کی شدت سے ضرورت ہے تحریک پاکستان اور آزادی پھر کارگل کی جنگ، ٦٥ اور ٧١ کی جنگ ان سب سے متعلق اور بھی ڈرامے بننے چاہئیں پرانے دور میں کچھ ڈرامے بنے تو تھے مگر اب ناپید ہوچکے ہیں اسی طرح پاک فضائیہ اور پاکستان نیوی کے حوالے سے بھی کچھ ڈرامے بنے مگر اب نظر نہیں آتے ہمیں اپنہ تاریخ دکھانی ہے نا کہ دوسرے ملک کے ڈراموں کو پروموٹ کرنا ہے

پاکستانی ڈراموں کو بہترین بنائیں تاکہ ہماری نسلیں کچھ سبق حاصل کر سکیں اور اس پر عمل بھی کر سکیں
بس یہی میں کہنا چاہتا تھا

@ M1Pak